روس سے یورپ جانے والی گیس پائپ لائن میں دھماکہ
رُودِ شمالی (Nord Stream) پائپ لائنوں میں شگاف سے بحیرہ بلقان (Baltic Sea) آلودہ ہوگیا ہے۔ ماہرین کے مطابق رُودِ شمالی 1 اور رُودِ شمالی 2 میں پڑنے والے چار شگافوں سے میتھین (قدرتی گیس) کا اخراج تقریباً 23 ہزار کلوگرام فی گھنٹہ ہے، یا یوں سمجھیے کہ اس سے پھیلنے والی ماحولیاتی کثافت ایسی ہے کہ گویا ہر گھنٹہ 6 لاکھ 30 ہزار پونڈ کوئلہ جلایا جارہا ہے۔ بحیرہ بلقان آبی حیات سے مالامال ہے۔ اٹلانٹک کاڈ اور یورپین پاپلیٹ سمیت مچھلیوں کی 600 قسمیں یہاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ جھینگے، کیکڑے اور دوسری سمندری مخلوق کے 1700 نمونے صرف خلیج فن لینڈ میں موجود ہیں۔ پائپ لائن پھٹنے سے خارج ہونے والی میتھین اور دوسری کثافتوں نے قیمتی قدرتی خزانے کے بڑے حصے کو غارت کردیا ہے۔
شمال مغربی روسی صوبے لینن گراڈ کے شہر وی بورّی (Viborg)سے 48 انچ قطر کی یہ دو پائپ لائنیں بحیرہ بلقان کے نیچے سے شمالی جرمن شہر گریس والڈ (Greifswald)کے تقسیمی مرکز یا Distribution Network تک آتی ہیں۔ پائپ لائن کا کُل فاصلہ 1222 کلومیٹر اور بہائو کی گنجائش 55 ارب مکعب میٹر سالانہ ہے۔ رُودِ شمالی 1 کی 51 فیصد ملکیت روسی گیس کمپنی گیز پروم (Gazprom)کے پاس ہے، جبکہ رُودِشمالی 2، سو فیصد گیزپروم کے ذیلی ادارے کی ملکیت ہے۔
پریشانی کا آغاز اُس وقت ہوا جب 26 ستمبر کو جرمنی کے گیس کنٹرول پینل پر رُودِ شمالی 2 کا دبائو 105بار سے کم ہوکر 7 بار رہ گیا۔ بار (Bar) دبائو کی پیمائش کا معیار ہے۔ دبائو کا ایک دم صفر کے قریب پہنچ جانا اس بات کی علامت تھا کہ پائپ لائن میں کوئی چھوٹا موٹا سوراخ یا لیک نہیں بلکہ بڑا شگاف پڑگیا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں ڈنمارک کی بحریہ نے بحیرہ بلقان میں بڑے بلبلے اور گیس آلودگی کا مشاہدہ کیا۔ قریبی جائزے سے اندازہ ہوا کہ شگاف خاصا بڑا ہے اور سطح پر آلودگی کا نشان ایک کلومیٹر علاقے میں ہے۔
بحیرہ بلقان دراصل بحرِ اوقیانوس کا ڈنمارک، اسٹونیا، فن لینڈ، جرمنی، لٹویا، لتھوینیا، پولینڈ، روس اور سوئیڈن سے گھرا ہوا حصہ ہے۔ جغرافیہ کی اصطلاح میں اس قسم کے قطعہ آب کو marginal seaکہا جاتاہے۔ جنوب مغرب میں کئی تنگ آبنائیں یا Danish Straitsاسے بحرِ اوقیانوس تک رسائی دیتی ہیں۔ وسط مشرق میں خلیجِ فن لینڈ کے دہانے پر روس کا مشہور شہر سینٹ پیٹرزبرگ ہے۔ صاف و شفاف ساحلوں کی وجہ سے بحیرہ بلقان سیاحوں کی جنت کہلاتا ہے۔ کئی عالمی شہرت یافتہ سیاحتی مرکز یہاں واقع ہیں جن میں لتھوانیا کا ندا، جرمنی کا بنز(Binz)اور لٹویا کا یورمالہ (Jurmala)اپنی چمکدار سفید ریت کے مسحورکن مناظر کی وجہ سے بے حد مشہور ہیں۔
پائپ لائن مشارکے (Nord Stream AG) کے ترجمان نے یکم اکتوبر کو بتایا کہ شگاف سے گیس کا اخراج ختم ہوچکا ہے اور جلد ہی نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے جائزے کا عمل شروع ہوگا۔ اب تک یہ بات واضح نہیں کہ مرمت کا کام کب شروع ہوگا؟ اس بات کا امکان بھی ہے کہ علاقے میں کشیدگی کی وجہ سے مرمت کا کام کھٹائی میں پڑجائے۔
ان دونوں پائپ لائنوں سے گیس کا بہائو کئی ہفتوں سے معطل تھا۔ گیز پروم نے کمپریسر کی مرمت کی بنا پر گیس کی فراہمی گزشتہ ماہ کے آخر سے بند کی ہوئی ہے۔ اس بنا پر گیس کے دبائو سے پائپ لائن کا پھٹ جانا خارج از امکان تھا، چنانچہ ماہرین نے اسے فوری طور پر تخریبی کارروائی قرار دے دیا۔ دونوں پائپ لائنوں میں شگاف ایک ہی جگہ پڑے ہیں۔ یہ مقام عالمی پانیوں میں ہے لیکن ڈنمارک اور سوئیڈن اسے اپنا اقتصادی علاقہ قرار دیتے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے واضح ہوا کہ پائپ لائنوں میں شگاف ڈالنے کے لیے دو زیرآب دھماکے کیے گئے اور اس کے لیے جو آتش گیر مادہ استعمال ہوا اس کی قوت 500 کلوگرام بارود (TNT)کے مساوی تھی۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ یہ تخریبی کارروائی کیوں اور کس نے کی؟ روس کھل کر اس کا الزام امریکہ، یوکرین اور نیٹو اتحادیوں پر لگا رہا ہے، جبکہ امریکہ بہادر روس کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔
روس پر شک اس لیے غیر منطقی لگتا ہے کہ ان پائپ لائنوں کی تعمیر پر گیزپروم نے 6 ارب یورو (5 ارب 84 کروڑ ڈالر) خرچ کیے ہیں اور کوئی احمق ہی ہوگا جو اپنے قیمتی اثاثے کو خود آگ دکھائے۔ اگر اس کارروائی کا مقصد یورپ کو گیس سے محروم کرکے وہاں بحران پیدا کرنا تھا، تب بھی اس کے لیے شگاف کی ضرورت نہ تھی۔ ان پائپ لائنوں کی گیس بند کرکے روس یہ مقصد بہت ہی مؤثر انداز میں حاصل کرچکاہے۔
یوکرین کو یورپ سے شکایت ہے کہ وہ روس سے گیس خرید کر یوکرین کے خلاف جنگ کی سرمایہ کاری کررہے ہیں اور صدر زیلینسکی کئی بار روسی گیس کی پابندی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ اس اعتبار سے یوکرین کو شاملِ تفتیش کیا جاسکتا ہے۔
اس واردات میں امریکہ کے ہاتھ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ روسی تیل اور گیس کی برآمدات کو صفر کردینا چچا سام کی ترجیحِ اول ہے، اور صدر بائیڈن یہ بات بہت عرصے سے کہہ رہے ہیں۔ اس وقت چونکہ پائپ لائنوں سے گیس کا بہائو معطل ہے، اس لیے ان میں شگاف ڈالنا نسبتاً کم خطرناک ہے۔ عام حالات میں گیس اچانک منقطع ہوجانے سے یورپ مشتعل ہوسکتا تھا، لیکن اب جبکہ گیس بند ہے تو شدید ردعمل کا بھی کوئی ڈر نہیں۔ بہت ممکن ہے کہ یہ یوکرینیوں کا کام ہو، لیکن امریکہ کی سہولت کاری کے بغیر اُن کے لیے اتنی بڑی کارروائی ممکن نہیں۔
روس نے اس واقعے کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے، جمعرات (29 ستمبر) کو ماسکو میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان محترمہ ماریا زاخارووا نے کہا کہ پائپ لائن ناکارہ ہونے کی صورت میں امریکہ کے لیے یورپ کو مائع قدرتی گیس (LNG) کی فروخت میں آسانی ہوگی، چنانچہ دنیا کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ رُودِ شمالی کو پہنچنے والے نقصان کا براہِ راست فائدہ کس کو ہوا ہے؟ ماریہ صاحبہ نے یورپی تحقیق کاروں پر زور دیا کہ وہ اپنی آنکھیں کھلی رکھیں۔ محترمہ زاخارووا نے بتایا کہ پائپ لائن ڈنمارک اور سوئیڈن کے ساحلوں کے نزدیک پھٹی ہے اور یہ پورا علاقہ نیٹو اور امریکی خفیہ اداروں کے زیرانتظام ہے۔
وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کو (ماضی میں دیے گئے بیانات کی) وضاحت کرنا ہوگی، محترمہ کا اشارہ فروری میں جاری ہونے والے امریکی صدر کے بیان کی طرف تھا جس میں صدر بائیڈن نے دھمکی دی تھی کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو رودِ شمالی 2 گیس پائپ لائن نہیں رہے گی۔ قصرِ مرمریں (وہائٹ ہائوس) نے روسی وزارتِ خارجہ کے الزام کے جواب میں کہا کہ اس سے صدر بائیڈن کی مراد یہ تھی کہ یوکرین پر حملے کی صورت میں رُودِ شمالی 2 کے تصدیقی مرحلے کو معطل کردیا جائے گا۔ روسی حکومت (کریملن) کے ترجمان دیمتری پیسکوف (Dmitry Peskov) نے بھی امریکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک دہشت گرد کارروائی ہے جو کسی ریاست کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔
دوسری طرف امریکی نشریاتی ادارے CNNنے یورپی سیکورٹی سے وابستہ تین مختلف ذرائع سے خبر دی ہے کہ شگاف کے قریب روسی بحریہ کے جہاز اور آبدوزیں موجود تھیں۔ جب روسی حکومت سے اس بارے میں پوچھا گیا تو سرکاری ترجمان نے کہا کہ اس علاقے میں نیٹو کے بحری اثاثے اور افرادی قوت روس سے کہیں زیادہ ہے۔
عجیب اتفاق کہ رُودِ شمالی میں شگاف ڈالنے کی کارروائی کے دوسرے روز ناروے سے آنے والی بالٹک پائپ لائن کا افتتاح ہوگیا۔ یہ پائپ لائن ناروے میں بحرِ شمالی (نارتھ سی) کے نیچے سے ڈنمارک، اور پھر بحیرہ بلقان کی تہہ سے ہوتی ہوئی شمال مغربی پولینڈ میں پوگوزولیسا (Pogorzelica) کے گیس تقسیمی مرکز پہنچتی ہے۔ ساڑھے تین ارب یورو (3 ارب 15 کروڑ ڈالر) کے خرچ سے ڈالی جانے والی 28 انچ موٹی اس پائپ لائن کی گنجائش 10 ارب مکعب میٹر سالانہ، اور پائپ لائن کی منتظم پولینڈ کی قومی تیل کمپنیPGNiG کا ذیلی ادارہ Gaz-Systemہے۔ یورپی یونین نے اسے یورپ کے مشترکہ مفاد کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس کے تحفظ کی ذمہ داری لی ہے۔ بالٹک پائپ لائن سے حاصل ہونے والی گیس پولینڈ میں توانائی کی 60 فیصد ضرورت پوری کرے گی۔
اسی کے ساتھ روس سے آنے والی تاریخی درزبا (Druzbha)تیل پائپ لائن میں بہائو معمول کے مطابق ہے۔ اپنے نظریاتی اتحادیوں کو تیل فراہم کرنے کے لیے سوویت یونین نے 1958ء میں یہ پائپ لائن بچھائی تھی۔ چالیس انچ قطر کی 4 ہزار کلومیٹر طویل اس پائپ لائن کی گنجائش 14 لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ ہے۔ روسی زبان میں درزبا کے معنی دوستی کے ہیں، چنانچہ مغربی یورپ میں اسے دوستی پائپ لائن کہا جاتا ہے۔ دوستی پائپ لائن مشرقی روس سے یوکرین، بلارُس، پولینڈ، ہنگری، سلاواکیہ، چیک ریپبلک، آسٹریا اور جرمنی کے مشرقی حصے کو روسی تیل فراہم کرتی ہے۔ مرکزی پائپ لائن اور اس سے ملحق جزوی ٹکٖڑوں کی مجموعی لمبائی ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہے، اور اس اعتبار سے درزبا کو دنیا کی طویل ترین پائپ لاین کہا جاسکتا ہے۔
سیاست دان ہر معاملے، واقعے اور مشاہدے کی تشریح اپنے انداز میں کرتے ہیں۔ روسیوں کا کہنا ہے کہ امریکہ بہت عرصے سے رُودِ شمالی کی تاک میں تھا۔ واشنگٹن یورپی ممالک کے ممکنہ ردعمل کی وجہ سے اپنے منصوبے کو عملی جامہ نہ پہنا سکا۔ لیکن جیسے ہی بالٹک پائپ لائن چالو ہوئی، نیٹو نے رُودِ شمالی کو نشانہ بنالیا۔
دوسری طرف امریکی سراغ رساں حلقوں کا کہنا ہے کہ بالٹک پائپ لائن کے افتتاح سے ایک دن پہلے رُودِ شمالی میں شگاف ڈال کر روسیوں نے یورپ کو یہ پیغام دے دیا کہ توانائی کے لیے روسی گیس کا متوازی بندوبست مخدوش ہے اور امریکی ایما پر گیز پروم کو دیوار سے لگادینا یورپ کے مفاد میں نہیں اور ہم کسی بھی وقت نئی نویلی بالٹک پائپ لائن کا تیا پانچہ کرسکتے ہیں۔ رُودِشمالی پر حملہ چونکہ امریکہ کی کارستانی گردانی جارہی ہے اس لیے بالٹک پائپ لائن پر چاند ماری کو جوابی حملے کی سند عطا ہوجائے گی۔
روس کی یہ دلیل خاصی وزنی اور منطقی ہے کہ یورپ کے لیے روسی گیس کی بندش کا فائدہ امریکی تیل کمپنیوں کو ہوگا۔ یوکرین پر حملے کے فوراً بعد یورپین کمیشن کی سربراہ محترمہ ارسلا وانڈرلین سے ملاقات میں صدر بائیڈن نے یورپ کو 15 ارب مکعب میٹر اضافی گیس فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ امریکی LNG ٹینکروں کے ذریعے یورپ پہنچائی جارہی ہے، جس کی وجہ سے یورپ کے لوگوں کو تو باربرداری کے اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑرہے ہیں لیکن اس نقل و حمل سے امریکی جہازراں اداروں کے لیے کمائی کا ایک اور راستہ کھل گیا ہے۔ یعنی ایک کی پشت پر مہنگائی کا کوڑا اور دوسرے کی جھولی میں اشرفیوں کا توڑا۔ اسی کے ساتھ اسرائیل نے لبنان اور فلسطین سے چوری کی ہوئی گیس کو LNG بناکر مصر کے ذریعے یورپ بھیجنے کا معاہدہ کیاہے۔
یورپی یونین نے پائپ لائن پر حملے کی آزادانہ تحقیقات شروع کردی ہیں۔ یونین کی سربراہ محترمہ وانڈرلین نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے اور ذمہ داروں کو بے نقاب کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تاہم اس چشم کشا واردات کے بعد امریکہ کی خاموشی سے بھی دال میں کچھ کالا ہونے کا تاثر ابھر رہا ہے۔ بین الاقوامی پانیوں میں اس قسم کی کارروائی ایک سنگین جرم اور دہشت گردی ہے۔ اس میں روس یا ایران کے ملوث ہونے کا ہلکا سا شائبہ بھی واشنگٹن کو آپے سے باہر کردینے کے لیے بہت تھا، لیکن یہاں ایک مشکوک خاموشی طاری ہے جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کو بھی کوئی خاص تشویش نہیں۔ ذرا تصور کریں، اگر یہ کارروائی افغان مُلّا، کوئی فلسطینی یا شمالی کوریا کرتا تو دنیا کا ردعمل کیاہوتا؟ قومِ شعیبؑ کی طرح دورِ جدید کے انسان نے بھی لینے اور دینے کے لیے الگ الگ باٹ بنالیے ہیں۔
اب آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

