گیم چینجرز: کچھ تو ایسا ہو جو زندگی کا رُخ بدل دے

اجمالی طور پر بات کیجیے تو زندگی جمود کا ’’شاہکار‘‘ دکھائی دیتی ہے۔ دور کوئی بھی ہو، انسان کچھ نیا کرنے سے گھبراتا رہا ہے۔ جب تک کچھ نیا نہیں کیا جاتا تب تک معاملات بدلتے نہیں، زندگی کے میلے کی رونق میں اضافہ نہیں ہوتا۔ یہ دنیا اگر بدلتی ہے تو صرف اُن لوگوں کی بدولت جو کچھ نیا کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ دنیا کے لیے گیم چینجر ثابت ہوتے رہے ہیں۔ کسی بھی شعبے میں جمود کو توڑ کر اپنے لیے الگ راہ نکالنے والے کچھ نہ کچھ نیا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، اور یوں دنیا کو ایک نئے رُخ پر ڈالنے میں مدد ملتی ہے۔

ہم میں سے کون ہے جو نام نہیں چاہتا؟ ہم سب زندگی بھر نام کو ترستے رہتے ہیں۔ کیا محض سوچنے یا خواہش کرنے سے نام ہوجاتا ہے؟ ایسا ممکن نہیں۔ کسی بھی انسان کو نئی شناخت اُسی وقت ملتی ہے جب وہ عام ڈگر سے ہٹ کر چلے، کچھ نیا کر دکھائے۔ اِس کے لیے نیا سوچنا لازم ہے۔ جو نیا سوچتے ہیں وہ نیا کرتے ہیں اور دنیا اُن کی موجودگی کو محسوس کرتی ہے۔ عام سی زندگی بسر کرنے والے بھی سب کی نظر میں ہوتے ہیں، مگر اُن کی موجودگی کو محسوس کرنے کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا۔ اِس کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ جو بالکل عمومی سطح پر جی رہا ہو اُس کی موجودگی کوئی کیوں محسوس کرے گا؟ یہ دنیا اُن کی منتظر رہتی ہے جو کچھ نیا سوچیں، نیا کریں اور دنیا کا رنگ ڈھنگ بدلنے کی کوشش کریں۔ جمود توڑنے والے ہی خود کو منوانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔ یہ ہر دور کا معاملہ ہے۔

آج بھی شاباش ملتی ہے تو گیم چینجرز کو۔ گیم چینجرز یعنی وہ لوگ جو عام ڈگر سے ہٹ کر چلیں، اپنی صلاحیت و سکت کو زیادہ جوش و خروش کے ساتھ بروئے کار لائیں، کچھ نیا کر دکھائیں، ایک دنیا کے لیے تحریک کا ذریعہ بنیں، مثال ثابت ہوں۔ یہ سب کچھ محض سوچنے سے نہیں ہوتا۔ کچھ قابلیت درکار ہے تو کچھ سکت۔ اور اِن سب سے بڑھ کر ولولہ چاہیے۔ ولولہ ہی انسان کو گیم چینجر بننے کی راہ سُجھاتا ہے۔ گیم چینجر ثابت ہونے کے لیے انسان کو وہی کچھ نہیں کرنا جو سب کررہے ہوں، بلکہ کچھ الگ سے بھی کرنا پڑتا ہے، اور خاص طور پر کچھ ایسا جس میں شجاعت کا پہلو نمایاں ہو۔ کبھی کبھی تھوڑا بہت خطرہ بھی مول لینا پڑتا ہے۔ اگر معاملات جمود کا شکار ہوچکے ہوں تو خطرہ مول لیے بغیر کچھ نیا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ بہت سوں کو آپ نے اس حال میں زندگی بسر کرتے دیکھا ہوگا کہ بعض معاملات میں خطرہ مول لینے سے نہیں ہچکچاتے اور بالعموم کامیاب رہتے ہیں۔ اگر خطرہ مول لینے کی صورت میں تھوڑی بہت ناکامی کا بھی سامنا کرنا پڑے تو کوئی بات نہیں ؎

اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں
آپ بھی محسوس کریں گے کہ خطرہ مول لینے کے بعد ناکامی کی صورت میں بھی کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہی ہے۔ یہ تجربہ بعد میں کبھی کام آ ہی جاتا ہے۔ خطرہ اُسی وقت مول لیا جاتا ہے جب معاملات آسانی سے درست نہ ہو پا رہے ہوں۔ شدید مجبوری کی حالت میں ایسا کرنے سے بعد میں کوئی پچھتاوا بھی نہیں ہوتا۔ اگر انسان کسی جواز کے بغیر خطرہ مول لے، خواہ اپنے آپ کو الجھن میں ڈالے تب ناکامی بہت تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے۔ جہاں خطرہ مول لینے کے سوا آپشن نہ بچا ہو وہاں ناکامی زیادہ دُکھ نہیں دیتی۔

کسی بھی دور کے عمومی معاملات اور اہم ترین امور پر طائرانہ نظر ڈالیے تو اندازہ ہوگا کہ جمود ہی زندگی کی بنیادی قدر کے طور پر کارفرما رہا ہے۔ لوگ آسانیاں ڈھونڈتے ہیں۔ جمود سے بڑھ کر آسانی کس بات میں ہوگی؟ جمود یعنی جو کچھ ہورہا ہے بس وہی کیے جانا، الگ سے کچھ نہ سوچنا اور کچھ نہ کرنا۔ کھیل کو بدلنے کے لیے ہمت درکار ہوتی ہے۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ ہمت سے کام لینا پڑے گا اور تھوڑا بہت خطرہ بھی ہے تو وہ ہمت سے کام لینے سے کتراتے ہیں۔ گزارے کی سطح پر بسر کی جانے والی زندگی کوئی پسندیدہ آپشن نہیں، مگر لوگ اِسی آپشن کو زیادہ پسند کرتے ہیں اور مرتے دم تک اِس سے چمٹے رہتے ہیں۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمومی طرز کی زندگی میں کچھ نہیں رکھا۔ جب کچھ نیا نہ ہورہا ہو تو زندگی کا جمود سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو بھی زنگ لگاتا ہے۔

کسی بھی معاشرے یا ماحول میں گیم چینجر کم ہی ہوتے ہیں۔ زندگی کی عمومی یا سطحی روش سے تنگ آکر کچھ نیا سوچنے اور نیا کرنے کا عزم رکھنے والوں کی تعداد کم اِس لیے ہوتی ہے کہ یہ راہ آسان نہیں۔ انسان بالعموم ایسے معاملات سے بھاگتا ہے جن میں کچھ الگ سے کرنے کی ضرورت پڑتی ہو۔ زندگی کا جو سانچہ اور ڈھانچہ راس آگیا ہو اُسے گلے لگائے رکھنے میں کبھی کوئی قباحت محسوس نہیں کی جاتی۔ آسانی تو اِسی میں ہے کہ انسان جس ڈگر پر سُکون سے چل رہا ہو بس اُسی پر چلتا رہے۔ ایسے میں اگر کچھ کم پر بھی گزارا کرنا پڑ رہا ہو تو الجھن محسوس نہیں کی جاتی۔ باصلاحیت ہونے پر بھی اگر کوئی خود کو نہ آزمائے، نئی راہوں پر گامزن نہ ہو، اپنے لیے زیادہ فراخی پیدا کرنے کی کوشش نہ کرے تو زندگی تنگ ضرور محسوس ہوتی ہے مگر انسان کسی نہ کسی طور جھیلتا چلا جاتا ہے۔ یہ جھیلنے کی ذہنیت ہی انسان کو جمود کا شکار بناتی ہے۔ بھرپور صلاحیت و سکت کا حامل ہونے پر بھی انسان اگر کچھ نیا کرنے پر مائل نہ ہو تو زندگی میں کچھ نہیں بدلتا۔ دنیا بھلے ہی بدل رہی ہو، وہ انسان نہیں بدلتا جو جمود کا شکار ہو۔ جب یہ کیفیت پختہ ہوجاتی ہے تب انسان کو بہت بعد میں دُکھ بھی ہوتا ہے۔ پچھتاوا بھی ہوتا ہے کہ بہت کچھ کیا جاسکتا تھا مگر نہ کیا گیا، بہت کچھ مل سکتا تھا مگر اُسے حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔

گیم چینجنگ مشکل سے پنپتا ہے۔ اس کا بنیادی تعلق خطرہ مول لینے سے ہے۔ حالات انسان کو بہت کچھ سکھانا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کیا سیکھنا چاہتا ہے اور کیا سیکھنے سے بھاگتا ہے۔ کرکٹ کی دنیا میں آپ نے ایسے بہت سے کھلاڑی دیکھے ہیں جو گیم چینجنگ مزاج کے حامل ہیں۔ وہ کسی بھی صورتِ حال کو تیزی سے بدل کر میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت کے حامل رہے ہیں۔ اِن میں وسیم اکرم، شاہد آفریدی، عبدالرزاق، مہندر سنگھ دھونی، یُوراج سنگھ، ویرات کوہلی، ہاردک پانڈیا، جے سوریہ اور دوسرے بہت سے کھلاڑی شامل ہیں۔ اِن سب نے میچ کا پانسہ پلٹنے والی کارکردگی کے حوالے سے نام کمایا ہے۔ شاہد آفریدی ایسے کھلاڑیوں میں سے ہیں جن کے بارے میں کوئی بھی کچھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کب کیا کرجائیں۔ کئی میچوں میں شاہد آفریدی نے میدان میں قدم رکھا، پندرہ بیس گیندوں کا سامنا کیا اور چالیس پچاس رنز اسکور کرکے میدان چھوڑ گئے۔ بس اِتنا ہی کافی تھا۔ مخالف ٹیم نے جو کچھ بھی طے کیا ہوتا تھا وہ مٹی میں مل جاتا تھا۔ گیم چینجر ایسے ہی ہوتے ہیں۔

صرف انسان گیم چینجر نہیں ہوتے۔ کوئی چیز، کوئی ایجاد، کوئی اختراع، کوئی نظریہ، کوئی رجحان بھی گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے، اور ایسا ہوتا ہی رہا ہے۔ گزرے ہوئے زمانوں میں کئی کئی عشروں کے بعد کوئی ایسی چیز آتی تھی جو سب کچھ بدل دیتی تھی۔ چار پانچ سو سال پہلے تبدیلی کا عمل بہت سُست رفتار تھا۔ عام آدمی کی پوری زندگی ایک ہی راہ پر گامزن رہتے رہتے گزر

جاتی تھی اور کچھ نہیں بدلتا تھا۔ ایجادات و اختراعات کا بازار برائے نام بھی گرم نہ تھا۔ ڈھائی تین سو سال پہلے سب کچھ بدلنا شروع ہوا۔ ایجادات کی رفتار اور تعداد بڑھی تو زندگی بھی بدل گئی۔ ایسی چیزیں آنے لگیں جو گیم چینجر تھیں، یعنی اُن کے آنے سے بہت کچھ اِتنا بدل جاتا تھا کہ پہچانا نہیں جاتا تھا۔ یوں دنیا بدلتی گئی۔

آج معاملہ یہ ہے کہ ایجادات کا سلسلہ رُک چکا ہے۔ اب صرف اختراعات کی گرم بازاری رہ گئی ہے۔ یہ معاملہ زندگی کو اتنا بدل چکا ہے کہ بہت کچھ پہچانا نہیں جارہا۔ ایسے میں سوچ کا بدل جانا بھی ناگزیر ہے۔ کل کا انسان اپنی محنت سے معاملات کو بدلتا تھا، چیزوں کی نوعیت تبدیل کرکے کچھ نیا پن لاتا تھا۔ آج کا انسان بہت حد تک بے بس ہے۔ وہ معاملات پر اُتنا اثرانداز نہیں ہورہا جتنا معاملات اُس پر اثرانداز ہورہے ہیں۔ یہ بھی جمود ہی کی ایک شکل ہے کیونکہ انسان کچھ خاص کر نہیں پارہا۔ کل تک وہ ایجادات و اختراعات کے ذریعے اپنے ذہن کو تھوڑا بہت متحرک رکھتا تھا۔ آج وہ محض تماشائی ہے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آسانیوں نے اُس کی مشکلات بڑھادی ہیں اور وہ تماشائی سے بھی بڑھ کر تماشا بن گیا ہے۔ ایسے میں گیم چینجر بننا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ انسان جب تن آسانی کا شکار ہوجائے تب ڈگر بدلنا سوہانِ روح محسوس ہوتا ہے۔

آج کا پاکستانی معاشرہ شدید جمود کا شکار ہے۔ ایسے میں ناگزیر ہے کہ ہر شخص اپنے طور پر تھوڑی بہت تبدیلی کا سوچے۔ گیم چینجر بننا تو بہت بعد کا مرحلہ ہے۔ جب کچھ نیا سوچنے اور نیا کرنے کا ذہن بنایا جائے گا تب گیم چینجر بننے کا مزاج بھی پنپنے لگے گا۔ آج نئی نسل کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ جمود توڑے، نیا سوچے، کچھ ایسا کرنے کا ذہن بنائے جو کھیل کا پانسہ پلٹنے میں کلیدی کردار ادا کرے۔ گیم چینجنگ مزاج اگر چھوٹے پیمانے یا نچلی سطح پر بھی ہو تو خوش گوار تبدیلیوں کی راہ ہموار کرکے دم لیتا ہے۔ نئی نسل کو بتانا پڑے گا کہ یہ دنیا خود نہیں بدلتی بلکہ اِسے بدلنا پڑتا ہے۔ اِس کے لیے گیم چینجر ہونا لازم ہے۔