مزاحمت بہترین لائحہ عمل ہے!

مزاحمت، زندگی کی علامت ہے، مزاحمت ہی راز حیات ہے مزاحمت ہی کو ثبات ہے۔ تاریخ گواہ ہے، جمود کو فنا ہے جُہد کو بقا ہے، یہی حکم اِلٰہ ہے ’’نکلو اللہ کی راہ میں، ہلکے، ہو یا بوجھل‘‘۔ سیرت مصطفی ؐبھی اسی سمت رہنما ہے۔ مکہ مکرمہ کے نامساعد حالات میں باطل کے علمبرداروں کی جانب سے ’’کچھ لو، کچھ دو‘‘ کی پیشکش ہوئی تو ہدایت آئی کہ نہیں ان سے ایسی کوئی سودے بازی ممکن نہیں، سورۂ کافرون میں حکم ہوا کہ اے پیارے رسولؐ، ان کافروں سے کہہ دو ’’تمہارے لیے تمہارا دین میرے لیے میرا دین۔‘‘ پھر مکہ ہی میں شعب ابی طالب کے مشکل ترین حالات، ناقابل تصور مشکلات و مصائب کے دور میں شرط رکھی گئی کہ باطل کو غلط کہنا چھوڑ دیں تو موت کی اس گھاٹی سے نجات مل سکتی ہے مگر رب کے آخری پیغام بر کا جواب لا جواب تھا ارشاد ہوا: ’’یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند رکھ دیں تو بھی حق و باطل کی اس کشمکش سے پیچھے ہٹنا محال ہے۔‘‘ علامہ اقبال نے کیا خوب ترجمانی کی ہے ؎

باطل دوئی پسند ہے، حق لاشریک ہے
شرکت میانۂ حق وباطل نہ کر قبول

خالق کائنات کی انسانوں کے لیے آخری کتاب ہدایت کا ہر ہر ورق مومنوں کو جدوجہد اور جہاد کی تلقین سے آراستہ ہے۔ سورۂ آل عمران کی آیت نمبر 200 میں اہل ایمان کو فلاح و کامیابی کا راستہ یہی بتایا گیا ہے کہ: ’’صبر سے کام لو، باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھائو، حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، امید ہے کہ فلاح پائو گے۔‘‘ چنانچہ ہجرت کو ایک سال بھی مکمل نہ ہوا تھا کہ مشرکین مکہ نے مدینہ پر حملہ آور ہو کر اس نو خیز ریاست کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کا منصوبہ بنایا تو والیٔؐ مدینہ نے بے سروسامانی اور کمزوری کو جواز بنا کر سپر ڈال دینے کی بجائے مزاحمت اور عزیمت کا راستہ منتخب کیا اور اپنے خالق و مالک کے سہارے جو کچھ بھی مادی و افرادی طاقت تھی، لے کر میدان بدر میں ڈیرے ڈال دیئے اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے افلاس کے پیکر مگر اخلاص سے مالا مال ان 313 مومنین کو ان سے کئی گنا تعداد پر مشتمل جنگی سازو سامان سے لیس باطل پرستوں پر فتح سے سرفراز کیا اور ثابت کیا: ؎

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

کہا جا سکتا ہے کہ یہ تو قرونِ اولیٰ کی داستانیں ہیں، لیکن نہیں، حالات نے ثابت کیا ہے کہ آج بھی بہترین راہ عمل، ’مزاحمت‘ ہی ہے جسے یقین نہ ہو افغانستان کی حالیہ تاریخ کا مطالعہ کر لے، جہاں غیور افغانوں نے صرف اور صرف مزاحمت کی قوت سے موجودہ دور کی تین بڑی طاقتوں کو باری باری دھول چاٹنے پر مجبور کیا ہے، جس کی تازہ ترین مثال یک محوری دنیا کے سیاہ و سفید کا مالک امریکہ اور اس کے چالیس سے زیادہ اتحادی ہیں جو سب مل کر بھی افغانوں کی مزاحمت کا مقابلہ نہیں کر سکے اور ہزیمت کا نہایت گہرا داغ پیشانی پر سجائے افغانستان سے بے نیل مرام پسپائی ان کا مقدر بنی ہے اسی طرح فلسطین میں حماس کے نہتے کارکنان اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں حریت کے جانباز اپنے اپنے خطے کی بڑی طاقتوں کے مقابل ڈٹے ہوئے ہیں، اسرائیل اور بھارت اپنی تمام تر سفاکی کے باوجود ان کا وجود ختم کر سکے ہیں اور نہ ان کی مزاحمت کے جذبے کو سرد کیا جا سکا ہے تاریخ کا سبق ہے کہ جومزاحمت سے گریز کرے گاگاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جائے گا اور گھر سے بے گھر در بدر ٹھوکریں کھاتے، بھوک، افلاس، اور اپنوں پرایوں کے ستم اور موسم کی سختیاں برداشت کرتے حالات کے رحم و کرم پر زندگی کے دن پورے کرنے پر مجبور کردیئے جائیں گے۔

مشرق وسطیٰ میں دور حاضر میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے مصروف عمل اخوان المسلمون کی تحریک کے کارکنوں پر وہاں کے حکمرانوں ظلم و ستم کا کون سا حربہ نہیں آزمایا ان کے قائدین اور متحرک کارکنوں کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا دارورسن کے ذریعے سبق سکھایا گیا مگر ان کی قرآن حکیم اور سیرت طیبہ سے حاصل کردہ رہنمائی کی روشنی میں مسلسل مزاحمت ان کی تحریک کو نہ صرف زندہ رکھے ہوئے ہے بلکہ یہ وہاں کے عوام کے دلوں کی دھڑکن بن چکی ہے۔ پاکستان میں بھی اسلامی تحریک کے قائد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو 1953ء کی ختم نبوت کی تحریک کے دوران ’’قادیانی مسئلہ‘‘ نامی کتابچہ تحریر کرنے پر فوجی عدالت سے سزائے موت سنائی گئی اور پھر ہمدردانہ مشورہ بھی دیا گیا کہ اگر آپ معذرت کر لیں تو سزا معاف کر دی جائے گی۔ مگر سید کا جواب تھا کہ ’’اگر میری موت کا وقت آ چکا ہے تو کوئی اسے ٹال نہیں سکتا اور اگر میری زندگی کے دن باقی ہیں تو یہ الٹے بھی لٹک جائیں تو مجھے نہیں لٹکا سکتے۔‘‘ اسی طرح 1962ء میں ایوب خاں کے مارشل لاء دور میں جماعت اسلامی کے لاہور میں اجتماع کے دوران جب سیدھی گولیاں چلائی گئیں اور ایک کارکن اللہ بخش اپنے رب کے حضور پہنچ گیا تو سٹیج پر کھڑے مولانا مودودیؒ کو ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ بیٹھ جائیں تو انہوں نے جواب میں ضرب المثل جملہ کہا کہ:۔ ’’اگر میں بیٹھ گیا تو کھڑا کون رہے گا۔‘‘ یوں انہوں نے زندگی بھر مزاحمت کی شاندار مثالیں قائم کیں۔

ترجمانِ قرآن، شاعر مشرق، مصور پاکستان علامہ اقبالؒ کا پورا کلام پڑھ جایئے، آپ کو جگہ جگہ باطل، ظلم، جبر اور نا انصافی کے سامنے ڈٹ جانے اور بھر پور مزاحمت کا پیغام ملے گا۔

جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ؎
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے

(حامد ریاض ڈوگر)