جھڑکیاں دینے والا، رعب جمانے والا، دھمکیاں دینے والا، بھول چکا ہوتا ہے کہ وہ بھی انسان ہے۔ انسان کو انسانوں پر رعب جمانے اور انہیں جھڑکی دینے کا کوئی حق نہیں۔ یہ نقلی استحقاق صرف غرورِ نفس کا دھوکا ہے اور غرور کسی انسان میں اُس وقت تک نہیں آسکتا، جب تک وہ بدقسمت نہ ہو۔ نصیب والے، قسمت والے ہمیشہ عاجز و مسکین بن کے رہے۔ وہ کسی مرتبے پر فائز ہوئے، تب بھی انکسار سے کام لیتے رہے۔ مغرور بادشاہ فرعون کی عاقبت کے وارث ہوتے ہیں۔ مسکین سرفراز رہتا ہے۔ وہ سدا بہار ہے۔ وہ دولت اور حکومت کو امانت سمجھتا ہے، مالک کی عطا کردہ عنایت… وہ مالک جو اعلان فرماتا ہے کہ وہ اصل مالک ہے، ملک کا مالک… جسے چاہے ملک عطا کرتا ہے اور جسے چاہے معزول فرماتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ بیلٹ بکس ہمارے لیے قوتِ نافذہ ہے، اس لیے ہم بیلٹ بکسوں کے ساتھ کھیل کرتے رہتے ہیں اور پھر… قدرت ہمارے ساتھ کھیل کرتی ہے، اور جب ہم معزول ہوجاتے ہیں تو ہم اپنی آتش نوائیوں اور شعلہ بیانیوں کو اپنے لیے مرتبہ ساز مان لیتے ہیں اور اس طرح ہم بھول جاتے ہیں کہ اصل طاقت کیا ہے اور اس کا اصل سرچشمہ کیا ہے؟
کہتے ہیں اور کہنے والے چشم دید گواہ ہیں کہ ایک دفعہ ایک بہت عظیم انسان، بہت پاکیزگی میں رہنے والے درویش اپنے معتقدین کے ساتھ نماز فجر ادا کرکے مسجد سے باہر آرہے تھے، بلکہ تشریف لارہے تھے۔ آپ نے ایک خاکروب کو دیکھا جو کوڑا وغیرہ اپنے ٹوکرے میں ڈال کر اسے اٹھاکر اپنے سر پر رکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ وزن زیادہ تھا۔ بزرگ نے آگے بڑھ کر اپنے ہاتھوں سے ٹوکرے کو پکڑ کر اس کی مدد کی… مریدوں نے تو بہت ہی شرمندگی و ندامت کا اظہار کیا اور خاکروب کو کوسنے لگے۔ کہتے تھے ’’پیر صاحب! آپ ہمیں حکم فرما دیتے۔ آپ نے خود کیوں زحمت فرمائی…‘‘ بزرگ بولے ’’بے وقوفو!…بات سمجھے نہیں ہو… یہ اللہ کا فضل ہے کہ اُس کو اس حال میں رکھنے والے نے ہمیں اس حال میں رکھا ہوا ہے۔ وہ ضرورت مند تھا، ہم نے ضرورت پوری کی۔ اللہ کا شکر ہے، اور تم لوگ ضرورت بھی پوری نہیں کرتے اور جھڑکی بھی دیتے ہو۔ توبہ کرو اور بے نیاز اللہ سے ڈرتے رہو… ہماری پیریاں اور فقیریاں بے کار ہیں اگر محروم اور محتاج کے کام نہ آئیں…‘‘(واصف علی واصف)

