گھروں کو ٹھنڈا رکھنے والی شفاف کوٹنگ ایجاد

عالمی طور پر حدت بڑھنے سے بالخصوص موسمِ گرما میں ایئرکنڈیشنر کی طلب بڑھتی جارہی ہے، تاہم اب یہ کام ایک ایسی شفاف پرت سے کیا جاسکتا ہے جسے کسی بھی شیشے پر لگایا جاسکتا ہے۔ یہ پرت اندر آنے والی دھوپ میں سے صرف مرئی روشنی اندر آنے دیتی ہے جبکہ زیریں سرخ، بالابنفشی اور دیگر گرم اشعاع (ریڈی ایشن) کو دوبارہ پلٹا دیتی ہے۔

جنوبی کوریا کی کیونگ ہی یونیورسٹی کے ماہرین نے کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے کھڑکیوں پر لگائی جانے والی شفاف پرت تیار کی ہے جو ایک واٹ بجلی استعمال کیے بغیر عمارت کو ٹھنڈا کرسکتی ہے۔ اس کا اصول بہت سادہ ہے کہ یہ انفراریڈ اور دیگر ایسی روشنیوں کو روکتی ہے جو کمرے میں پہنچ کر گرمی بڑھاتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے کھڑکی کے شیشوں کی شفافیت برقرار رہتی ہے اور آرپار دیکھنے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگرچہ یہ ایئرکنڈیشنر کے برابر تو نہیں لیکن اس کا بل اور ضرورت ضرور کم کرسکتی ہے۔سائنس دانوں نے اسے ’ٹرانسپیرنٹ ریڈی ایٹو کولر‘ کا نام دیا ہے۔ الگورتھم اور کمپیوٹر سیمولیشن کی مدد سے اسے سلیکون ڈائی آکسائیڈ، سلیکون نائٹرائڈ، المونیم آکسائیڈ، اور ٹائٹانیم آکسائیڈ سے بنایاگیا ہے۔ پھر سب سے اوپر پولی ڈائی میتھائل سائلوکسین کی ایک پرت چڑھائی گئی ہے۔ انداز ہے کہ اگر اسے شیشوں پر لگایا جائے تو کمرے کو بجلی سے ٹھنڈا رکھنے کی بجلی میں 31 فیصد کی کمی ہوسکتی ہے۔