گھوٹکی میں پولیس پر حملہ افسروں سمیت پولیس اہلکار شہید
صوبہ سندھ میں امن وامان کی صورتِ حال سوائے کبھی کبھار کی مختصر مدت کے، کسی دورِ حکومت میں بھی مثالی یا قابلِ رشک نہیں رہی ہے۔ اہلِ سندھ کی زندگی ہمیشہ سے ہی سماج دشمن عناصر، ڈاکوئوں، لٹیروں اور چوروں کے ہاتھوں اجیرن بنی رہی ہے۔ آج بھی صورتِ حال کچھ مختلف ہرگز نہیں ہے۔ کسی بھی فرد کی جان، مال، عزت اور آبرو محفوظ نہیں ہے۔ ہمہ وقت سب کی جان ایک طرح سے سولی پر ہی لٹکی رہتی ہے کہ خدانخواستہ اس کے کسی پیارے یا خود اپنے ساتھ جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے کوئی واردات یا مجرمانہ کارروائی نہ ہوجائے۔ یوں تو محکمہ پولیس بھی موجود ہے اور رینجرز کی گاڑیاں بھی گشت کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ ایک بہت تلخ اور افسوس ناک حقیقت ہے کہ ہر شخص خود کو ہر لمحہ غیر محفوظ سمجھتا ہے۔ خصوصاً سندھ میں کچے کے علاقے میں جو تقریباً تین سے پانچ اضلاع کی حدود میں آتا ہے یعنی ضلع گھوٹکی، شکارپور، کندھ کوٹ، کشمور… یہاں پر ڈاکوئوں اور جرائم پیشہ عناصر نے گزشتہ 4 برس سے بلاشرکت غیرے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے۔ سندھ کے ان اضلاع کے کچے کے علاقے میں ہر سال ڈاکو سیکڑوں افراد کو اغوا کرکے اپنے ہاں مغوی بنا کر قید کرلیتے ہیں اور ان پر تشددکرکے اس کی ویڈیو بنا کر مغویوں کے اہلِ خانہ سے بھاری رقم بذریعہ ’’بھنگ‘‘ یا تاوان وصول کرتے ہیں، جس کے بعد ستم رسیدہ مغویوں کی رہائی یا بازیابی عمل میں آتی ہے۔ بیشتر اوقات محکمہ پولیس کا کردار اس سارے عمل کے دوران محض ایک خاموش تماشائی کا ہی دکھائی دیا کرتا ہے، یا پھر اس حد تک ہوتا ہے کہ پولیس کے مقامی افسران یا اہلکار ڈاکوئوں اور مغوی کے اہلِ خانہ کے مابین تاوان کی رقم کی ادائی کے معاملے پر ’’مڈل مین‘‘ کا گھنائونا کردار ادا کرتے ہوئے سامنے آتے ہیں۔ جن کے نام اور عہدے تک بارہا پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر منظرعام پر (مع ثبوت) آنے کے باوجود کسی بھی ملوث پولیس اہلکار کے خلاف محکمانہ تادیبی کارروائی کی اطلاع سننے یا پڑھنے کو نہیں مل سکی۔ اطلاع کے مطابق صرف ضلع کشمور کندھ کوٹ کے کچے کے علاقے میں ڈاکوئوں کے پاس مختلف علاقوں سے اغوا کیے گئے 18 افراد بہ غرضِ تاوان کی وصولی، قید میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہی صورتِ حال کچے کے دیگر اضلاع کی بھی ہے جہاں مجموعی طور پر درجنوں افراد مغوی بنے ہوئے ہیں اور ان کے اہلِ خانہ پولیس اور حکومتِ سندھ کی نااہلی کو دیکھتے ہوئے بڑی مایوسی اور بے بسی کی کیفیت میں اپنے پیاروں کو ڈاکوئوں کے ظالمانہ شکنجے سے بازیاب کروانے کے لیے انہیں بطور تاوان مانگی گئی رقم کی ادائی کے لیے مختلف طریقوں سے رقم جمع کرنے میں مصروف ہیں، یعنی چندہ اکٹھا کرکے یا اپنا گھر بار، زمین وغیرہ فروخت کرکے۔ بسا اوقات محکمہ پولیس کے مقامی تھانے کے اہلکار بھی اس حوالے سے انہیں باہم چندے کے ذریعے اکٹھی کی گئی رقم دے کر مالی مدد فراہم کرتے ہیں تاکہ ان کی حدود سے اغوا کردہ فرد جلدازجلد بازیاب ہوسکے اور ان پر قائم کردہ دبائو میں کمی آسکے۔ یہ مبالغہ آرائی ہے اور نہ ہی کوئی افسانہ بلکہ ایک ایسی تلخ ترین حقیقت اور المناک سچائی ہے جس سے سندھ حکومت کی رٹ کا یکسر ختم ہوجانا ثبوت کے ساتھ سامنے آتا ہے، اور بذریعہ میڈیا اس بارے میں اکثر مذکورہ خبریں منظرعام پر بھی آتی رہتی ہیں۔ گزشتہ ہفتے یعنی اتوار کی شب 10 بجے کے قریب ڈیڑھ سو سے زائد جدید ترین ہتھیاروں اور راکٹ لانچرز سے آراستہ ڈاکوئوں کے ٹولے کے اچانک حملے میں ضلع گھوٹکی کے کچے کے علاقے اوباڑو رونتی میں تین مغویوں (جن میں ایک کم عمر بچہ بھی شامل ہے) کی بازیابی کے لیے قائم کردہ کیمپ میں موجود ضلع گھوٹکی پولیس کے جو افسران ڈی ایس پی اوباڑو عبدالمالک بھٹو، ایس ایچ او میرپور ماتھیلو عبدالمالک کمان گر، ایس ایچ او کینجھو دین محمد لغاری، پولیس اہلکار جتوئی پتافی اور سلیم چاچڑ شہید، جب کہ ایس ایچ او غلام علی بروہی اور دیگر چار اہلکار شدید زخمی ہوگئے تھے۔ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈاکوئوں نے پولیس افسران اور اہلکاروں کو شہید کرنے کے بعد ان کی لاشیں بھی اپنے قبضے میں لے لی تھیں، جو پولیس کی جانب سے بہت زیادہ دبائو ڈالنے کے بعد ڈاکوئوں نے پولیس کو واپس دیں۔ ماضی کے ایک معروف ڈاکو سلطان عرف سلطوشر (جس کے سر پر ڈھائی کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی تھی اور جو بعدازاں پولیس کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بعد اپنی مجرمانہ روش ترک کرکے عام فرد کی سی زندگی گزار رہا تھا) کے کچھ عرصہ پہلے مبینہ طور پر پولیس کے ہاتھوں مارے جانے کے بعد سے اس کے ساتھی ڈاکو پولیس کی جانب سے معاہدہ توڑنے پر سخت برا فروختہ اور مشتعل تھے اور متواتر بذریعہ سوشل میڈیا اپنے ڈاکو ساتھی کا پولیس سے بدلہ چکانے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ سلطو شر کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے واقعے کے بعد ہی سے گھوٹکی ضلع کی پولیس اور ڈاکوئوں کے مابین سخت کشیدگی کی فضا برقرار تھی اور کہا جارہا ہے کہ مذکورہ تین مغویوں کا ڈاکوئوں کے ہاتھوں اغوا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کے بعد گھوٹکی پولیس کی جانب سے کچے کے مختلف مقامات پر مغویوں کی بازیابی کے لیے اپنے کیمپ قائم کردیے گئے اور بیشتر ڈاکو وقتی طور پر اپنے اپنے ٹھکانے اور علاقے چھوڑ کر دیگر محفوظ مقامات پر چلے گئے، اور پھر جونہی پولیس نے اپنے اوپر پڑنے والے سخت دبائو کو کم کرنے کے لیے ان تین مغویوں کی بازیابی کی خاطر ڈاکوئوں کے محفوظ مقامات کی طرف پیش قدمی اور آپریشن کرنے کے ارادے سے کیمپ قائم کیا تو ڈیڑھ سو سے زائد ڈاکوئوں نے سیاہ تاریک رات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس کے مذکورہ کیمپ پر جدید ترین ہتھیاروں بہ شمول راکٹ لانچرز حملہ کردیا جس کی وجہ سے یہ الم ناک سانحہ رونما ہوا۔ ایس ایس پی گھوٹکی تنویر تنیو نے اپنی منعقدہ پریس کانفرنس میں اس امر کا برملا اعتراف کیا ہے کہ کچے کے ڈاکوئوں کے پاس پولیس سے کہیں زیادہ جدید ترین ہتھیار ہیں، اور ساتھ ہی اپنی اس بے بسی کا بھی ایک طرح سے برملا اظہار کیا کہ ضرورت پڑنے پر ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن کے لیے وہ آرمی کی مدد بھی حاصل کریں گے۔ اطلاع کے مطابق کچے کے علاقے کی ہزاروں ایکڑ زمین بھی ڈاکوئوں کے مختلف ٹولوں کے قبضے میں ہے جہاں وہ مختلف فصلیں کاشت کرتے رہتے ہیں۔ اس سانحے کے حوالے سے محکمہ پولیس میڈیا اور شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے کہ جب اعلیٰ پولیس افسران کو اس بات کا اچھی طرح سے پیشگی علم تھا کہ ڈاکوئوں کے پاس پولیس سے بہت زیادہ اور جدید ترین ہتھیار ہیں تو انہوں نے جانتے بوجھتے ہوئے بھی ناقص ہتھیاروں کے ساتھ محدود پولیس نفری کو ڈاکوئوں کے خلاف کارروائی کے لیے کیوں موت کے منہ میں بھیجا؟ ایک اطلاع کے مطابق جب ڈیڑھ سو سے زیادہ ڈاکوئوں نے شہید و زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کا چہار اطراف سے گھیرائو کیا تو پولیس کی طرف سے اپنے دفاع میں چلائے گئے راکٹ لانچرز ناکارہ ثابت ہوئے!! ڈاکوئوں کی بے خوفی اور دیدہ دلیری کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے پولیس پر حملے کی ویڈیو بنائی اور شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی بھی۔ اطلاع کے مطابق 8 روز قبل ڈاکوئوں نے نوجوان محمد صادق پنہور اور مہتاب، شہباز پنہور کو اغوا کرلیا تھا، اور ڈاکوئوں کے راہب شر ٹولے نے بذریعہ فون مغویوں کے ورثا سے رابطہ کرکے 50 لاکھ روپے بہ طور تاوان مانگے تھے، جس کی وجہ سے ایس ایس پی گھوٹکی نے ڈاکوئوں کے خلاف بغیر مناسب پیشگی تیاری کے کارروائی کا آغاز کردیا جس کے نتیجے میں پولیس کو بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومتِ سندھ نے ڈاکوئوں کے خلاف کارروائی کے لیے پنجاب اور بلوچستان پولیس سے بھی مدد طلب کرلی ہے اور ایک بڑے آپریشن کی تیاریاں جاری ہیں اور کسی بھی وقت آپریشن کا آغاز کردیا جائے گا جو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے بہ قول حصولِ مقصد تک جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ جس علاقے میں پولیس افسران اور اہلکاروں کی شہادت ہوئی ہے اسی علاقے میں چند برس قبل مختلف پولیس آپریشنوں کے دوران تین ایس ایچ او غلام نبی مہر، محمد حنیف منگریو اور حسن کولاچی سمیت نصف درجن پولیس اہلکار شہید کیے جاچکے ہیں اور یہ سارا علاقہ ڈاکوئوں کی ایک بہت بڑی آماج گاہ ہے جنہیں ضلع گھوٹکی کے بڑے بڑے قبائلی سرداروں، بھوتاروں اور منتخب عوامی نمائندگان کی آشیرباد مبینہ طور پر حاصل ہے۔
یہی صورتِ حال کچے کے دیگر علاقوں کی بھی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں ڈاکوئوں کے ہاتھوں سندھ کے اضلاع جیکب آباد، شکارپور، خیرپور، گھوٹکی، لاڑکانہ، کندھ کوٹ،کشمور میں عام افراد کے اغوا کی وارداتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ماہ ہی ڈاکوئوں نے کندھ کوٹ کے ایک تھانے کے ایس ایچ او کو بھی اغوا کرلیا تھا جسے بہ مشکل بازیاب کروایا گیا تھا۔ ڈاکو مغویوں کے ورثا سے تاوان کی وصولی کے لیے ان پر بہیمانہ تشدد کرتے بلکہ غیر اخلاقی ویڈیوز بھی بناتے ہیں اور پستی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ اگر حکومت ہر وزیر، مشیر وغیرہ پر اپنے اپنے علاقے میں قیام امن کے لیے سنجیدگی سے دبائو ڈالے تو اس کے مثبت نتائج بہرحال ضرور برآمد ہوں گے۔ کیوں کہ یہی جرائم پیشہ عناصر کے سرپرست ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہر شہید اہلکار کے ورثا کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے اور2 نوکریوں کا اعلان کیا ہے جو قابلِ تحسین کام ہے۔ شہید ہونے والے افسران اور اہلکاروں کے لیے سندھ بھر میں دُکھ اور غم کا اظہار کیا جارہا ہے۔

