علامہ استاذ محمد طاسین (1920ء۔ 1998ء) معروف عالم دین اور محقق تھے۔ اسلام کا معاشی و اقتصادی نظام آپ کی دلچسپی و تحقیق کا خاص موضوع تھا۔ آپ نے معاشی میدان میں دین کے ماخذ کو بنیادی اہمیت دیتے ہوئے مثبت انداز سے اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانے کی علمی و فکری کوشش کی ہے۔ اس میدان میں آپ کے کچھ تفردات بھی ہیں جو اپنی جگہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ”علامہ طاسین کے معاشی افکار و نظریات کا تحقیقی جائزہ“ کے عنوان پر ڈاکٹر محمد شکیل اوج شہید کی زیر نگرانی پی ایچ۔ ڈی کا ایک مقالہ بھی لکھا جاچکا ہے۔
علامہ طاسین کا یہ مؤقف رہا ہے کہ معاشی فکر ہر دور کے اپنے مخصوص حالات اور تقاضوں کے سانچوں میں ڈھلتی رہتی ہے، مسلمانوں کو بھی عہدِ جدید کے مسائل کے حل کے لیے غورو فکر کے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں اور جس دین کے دعوے دار کہلاتے ہیں انھیں اسی دین کے بنیادی ماخذ کی عینک سے ہی ان مسائل کو دیکھنے، سمجھنے اور حل کرنے کی استعداد بھی رکھنی چاہیے۔
علامہ کی تصنیفی خدمات کا تسلسل ”خطبات ماثورہ“ سے لے کر ”مروجہ نظام زمینداری اور اسلام“، ”اسلام کی عادلانہ اقتصادی تعلیمات“، ”سیرتِ طیبہ کا سیاسی پہلو“، ”سیرتِ طیبہ کا معاشی پہلو“، ”معاشی مساوات اور سیرتِ محمدیہ میں حکمت کا پہلو“، ”خواتین کی شہادت“، ”شوریٰ کا اسلامی تصور“، ”تغیر پذیر معاشرے میں شریعت کا کردار“، ”عدلِ اجتماعی کا تصور“، ”مسئلہ ایمان و کفر قرآن و حدیث کی روشنی میں“، ۯ”قرآن کی اخلاقی و قانونی تعلیمات“، ”قرآن مجید کا تصورِ معاشرہ“، ”بیمہ کی شرعی حیثیت“، ”تکاثر اور تکافل“، ”حکومتِ اسلامی کے معاشی فرائض“، ”اسلام اور ملکیتِ زمین“، ”ربح اور ربوٰ میں فرق“، ”قرنیہ کی پیوند کاری“، ”مزارعت کی شرعی حیثیت“، ”علمائے کرام کی ذمہ داری“ جیسے اہم موضوعات پر اصلاحی، فکری اور تحقیقی کام پر محیط ہے۔
پیش نظر کتاب ”اسلامی اقتصاد کے چند مخفی گوشے“ میں نہایت عرق ریزی اور تحقیق کے ساتھ مزارعۃ، مضاربہ، شرکت اور اجارہ کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ مذکورہ چاروں عنوانات نہ صرف موجودہ معاشی دور میں بھی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ اس وقت مروجہ معاشی نظام بنام اسلامی بینکاری، غیر سودی بینکاری کے عنوان سے جو کام ہورہا ہے ان میں بھی یہی بنیادی نکات ربوٰ، شرکت، مضاربت اور اجارہ کے تصور میں پیش آمدہ غلط فہمی کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
اس اہم کتاب کی تخریج کے فرائض مفتی سید رحیم الدین نے انجام دیے ہیں۔ جب کہ اس کا مقدمہ مفتی رفیق احمد بالاکوٹی (جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹائون) نے لکھا ہے۔ مفتی صاحب اپنے مقدمے میں لکھتے ہیں:
”حضرت مولانا محمد طاسین نے فقہاء اسلام اور جدید اسلامی معاشی مفکرین سے اپنے گلے اور شکایت کا اظہار مختلف تحریرات اور مقالات کی شکل میں فرمایا تھا اور اس کا عنوان ”اسلامی اقتصاد کے چند پوشیدہ گوشے“ رکھا گیا ہے، مولانا مرحوم اسلامی اقتصاد کے جن گوشوں کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ وہ فقہاء اسلام اور اسلامی معاشی مفکرین کی توجہات سے محروم رہے اور گوشہ پوشیدگی میں بے التفات پڑے رہے، ان پوشیدہ گوشوں سے گرد ہٹانے کے لیے اپنے مقالات کے پیش نظر مجموعے میں جو کچھ کہا اس کی طرف آنے سے قبل حضرت مولانا محمد طاسین کے بعض معاشی نظریات اور فکری رجحانات کی توضیح درکار ہے، جس سے ان کے مؤقف کو صحیح انداز میں سمجھنے میں مدد ملے گی۔“
فاضل مقدمہ نگار نے اس کتاب کے تمام عنوانات کے علاوہ علامہ طاسین کے علمی تفردات کا بھی بھرپور جائزہ لیا ہے اور اپنے وقیع مقدمے میں مولانا طاسین مرحوم کی متفرد معاشی آراء کی تنقیح و توضیح کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا ہے جس سے مولانا کے معاشی تفردات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
علامہ طاسین مرحوم کی تمام تحریریں درجِ ذیل ویب سائٹ پر موجود ہیں، جنھیں بآسانی پڑھا اور ڈائون لوڈ کیا جاسکتا ہے:
https://allamatuaseen.wixsite.com/mysite
امید ہے کہ معاشیات میں دلچسپی رکھنے والے اہلِ علم اور محققین کے لیے یہ کتاب مفیداورمعاون ثابت ہوگی۔

