آئین کسی بھی ریاست، اس کی اکائیوں اور شہریوں کے مابین ایک معاہدہ ہوا کرتا ہے جو اس مملکت اور اس کے باشندوں کے لیے ایک قابل احترام اور مقدس دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے جس پر عمل درآمد مملکت کی بقا و سلامتی اور استحکام کا ضامن ہوتا ہے، یوں آئین ہر ملک کے اتحاد و سالمیت کا ضامن تصور کیا جاتا ہے، مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان ربع صدی سے زائد سرزمین بے آئین رہا اس دوران اگرچہ 1954ء، 1956ء اور 1962ء میں دساتیر تیار ہوئے مگر طالع آزمائوں نے انہیں نافذ نہیں ہونے دیا، یا قوم نے قبول کرنے سے انکار کر دیا، اس بے تدبیری کا نتیجہ تھا کہ جو مملکت برصغیر کے مسلمانوں نے بے پناہ قربانیوں اور انتھک جدوجہد کے بعد نہایت بلند عزائم اور بے شمار امنگوں و آرزئووں کے ساتھ حاصل کی تھی وہ ربع صدی سے بھی پہلے دو لخت ہو گئی اور ایسا گھائو ملت اسلامیہ کے جسد پر لگا گئی جس کی کسک تادیر محسوس کی جاتی رہے گی۔ سقوط مشرقی پاکستان کے عظیم سانحہ کے بعد ملک کی سربر آور دہ قیادت نے آئین کی ضرورت شدت سے محسوس کی اور 1973ء میں ایک ایسے آئین پر ملک کی تمام سیاسی اور پارلیمانی جماعتوں نے اتفاق کیا جو مجموعی طور پر مملکت کے باشندوں کی امنگوں کا ترجمان تھا اور اس میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نظریاتی اساس کی توثیق بھی کر دی گئی تھی، یہ آئین قیام پاکستان کے مقاصد کی جانب رہنمائی بھی کرتا تھا اور ان مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کی سمت کا واضح طور پر تعین بھی اس میں کر دیا گیا ہے۔ یوں یہ آئین پوری قوم کے اتحاد و اتفاق کے سب ایک عظیم نعمت سے کم تر حیثیت نہیں رکھتا۔ ضرورت تھی کہ اس کی حقیقی روح کے مطابق اس پر عملدرآمد کے ذریعے اسے ملک و قوم کی ترقی کا زینہ بنایا جاتا مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور ملک کے حکمرانوں نے اسے اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر موم کی ناک کے طور پر استعمال کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو، جو اس آئین کی تشکیل کے وقت ملک کے حکمران تھے اور اس
آئین کی اتفاق رائے سے منظوری کا سہرا اپنے سر باندھنے میں فخر محسوس کرتے تھے، خود انہوں نے ہی1973ء میں آئین کے نفاذ کے بعد اپنے چند سالہ دور اقتدار میں مجلس شوریٰ میں اپنی اکثریت کے بل بوتے پر نصف درجن سے زائد ترامیم کر دیں یوں آغاز ہی میں اس کی متفقہ حیثیت کو مجروح کر دیا گیا۔ اس کے بعد بھی جس حکمران کو موقع ملا اس نے اپنے مفاد کو پیش نظر رکھ کر اپنی مرضی کی ترامیم سے گریز نہیں کیا، آئین میں اگرچہ اسے توڑنے کی سخت ترین سزا تجویز کی گئی تھی مگر اس کے باوجود 1977ء اور 1999ء میں فوجی آمروں نے اسے توڑنے میں کسی قسم کا خوف محسوس کیا نہ کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا… شخصیات ہمیشہ آئین پر بھاری رہیں جس نے جب چاہا اسے توڑا یا طاق نسیاں پر رکھ کر فراموش کر دیا اور ملک کو اپنی مرضی کے تابع چلایا۔ کسی کو پوچھنے والا بھی کوئی نہ تھا،۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کو جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں ایک خصوصی عدالتی بنچ نے البتہ سزا ضرور سنائی، جس پر اگر عمل ہو جاتا تو آئندہ شاید کسی کو آئین کا تقدس پامال کرنے کی جرأت نہ ہوتی مگر ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے… با اختیار لوگوں نے اپنے ادارے کے سابق سربراہ کی عزت اور وقار کو آئین کے وقار و تقدس سے زیادہ اہم جانا چنانچہ نہ صرف عدالت عالیہ لاہور سے سزا ختم کرالی گئی بلکہ جسٹس وقار سیٹھ کو بھی ایسے انجام سے دو چار کیا گیا کہ دیگر لوگ سبق حاصل کریں…!!!
آئین کی پامالی کا سب سے بڑا سبب سیاست دانوں کی باہمی چپقلش، لڑائیاں اور عدم برداشت ہے چنانچہ جب بھی کسی طالع آزما نے آئین کی حرمت کو پامال کیا تو اسے جمہوریت کے علمبردار سیاستدانوں کی تائید و حمایت حاصل کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ آج آئین میں اتنی ترامیم ہو چکی ہیں کہ اصل آئین منہ چھپاتا پھرتا ہے، آئین میں مملکت کو اس کی نظریاتی اساس سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جو وعدے کئے گئے تھے مثلاً قوانین کو قرآن و سنت کے تابع بنانا، سود سے معیشت کو پاک کرنا یا اردو کو قومی و سرکاری زبان کی حیثیت سے نافذ کرنا اور اسی طرح کے کئی دوسرے اقدامات، ان میں سے کسی وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس سب کے باوجود آج جب کہ ملک میں آئین کو نافذ ہوئے پچاس برس مکمل ہونے کے موقع پر جشن طلائی (گولڈن جوبلی) منانے کے عزائم ظاہر کئے جا رہے ہیں، تو بھی ملک کو جو سیاسی، معاشی، اخلاقی اور معاشرتی بحران در پیش ہیں، ان سے نجات کا واحد راستہ آئین کی بالادستی کو تسلیم کرنے ہی میں مضمر ہے، ملک کی وحدت و سالمیت اور اتحاد و یکجہتی کو در پیش چیلنجوں کا مقابلہ بھی اس آئین کو مضبوطی سے تھام کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قوم کو اس کا شعور اور با اختیار لوگوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد…!!! (حامد ریاض ڈوگر)

