قومی زندگی کی تباہی و بربادی کا ماتم

جدید دنیا کے اکثر حکمران بدترین ہیں، مگر پاکستان کے حکمرانوں سے بدترین حکمرانوں کا تصور محال ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔ اس کی پشت پر ریاستِ مدینہ اور خلافتِ راشدہ کا تجربہ تھا۔ پاکستان کا نظریہ غیر معمولی تھا۔ اس نے محمد علی جناح کو قائداعظم بنایا تھا۔ اس نے برصغیر میں مسلمانوں کی بھیڑ کو قوم میں ڈھالا تھا۔ اس نے پاکستان کو تاریخ کے عدم سے وجود میں لاکر دکھادیا۔ ایسا نظریہ پاکستان کو عہدِ جدید کی بڑی طاقت بنا کر ابھار سکتا تھا، مگر بدقسمتی سے قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد پاکستان کو جو فوجی اور سول حکمران میسر آئے انہوں نے پاکستان کو اپنی پستی کا عکس بناکر رکھ دیا۔ ان حکمرانوں کے ’’کارنامے‘‘ کو ایک فقرے میں بیان کرنا ہو تو کہا جائے گا کہ ان حکمرانوں نے پاکستانی قوم کو نہ دین دیا، نہ دنیا دی۔ ان حکمرانوں نے قوم کو اردو زبان کا محاورہ بناکر رکھ دیا ہے۔ محاورہ یہ ہے ’’دھوبی کا کتا، گھر کا نہ گھاٹ کا‘‘۔ ہم ریاستِ مدینہ اور خلافتِ راشدہ کے وارث تو کیا، حقیقی اور اچھے معنوں میں دنیا پرست بھی نہیں بن سکے۔ سرسید مسلمانوں کی ترقی کا جو فارمولا بتایا کرتے تھے وہ یہ تھا ’’ایک ہاتھ میں قرآن، دوسرے ہاتھ میں سائنس، اور سر پر لاالٰہ الااللہ کا تاج‘‘۔ مگر ہمارے حکمران طبقے نے قوم کے ساتھ عملاً جو کچھ کیا ہے وہ یہ ہے ’’ایک ہاتھ میں کشکول، دوسرے ہاتھ میں خواری اور سر پر جہالت کا تاج‘‘۔

مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ مسلم معاشرہ ’’خدا مرکز‘‘ یا God Centric زندگی بسر کرے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاشرہ اور ریاست تخلیق کی تھی اُس کا امتیازی وصف یہی تھا۔ یہ ایک خدا مرکز معاشرہ اور خدا مرکز ریاست تھی۔ مسلمان کی ایک پہچان یہ ہے کہ اسے دیکھ کر خدا یاد آجائے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تخلیق کیا ہوا معاشرہ ایسا تھا کہ اُس کے ہر شخص کو دیکھ کر خدا یاد آجاتا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک تک مسلمانوں کے پاس دنیا نہیں تھی، مگر ان کی آخرت محفوظ اور بہترین تھی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر تھی، اور اس صحبت کا اثر یہ تھا کہ صحابہ کو جنت اور دوزخ سامنے نظر آتی تھیں۔ صحابہ میں سے کون تھا جو اللہ اور اس کے رسولؐ پر فدا نہیں تھا! صحابہ کی فداکاری کا یہ عالم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے غزوۂ بدر میں 313 صحابہ کو ایک ہزار کے لشکر جرار کے سامنے کھڑا کردیا، مگر ان کے پائے استقامت میں رتی برابر لغزش نہ آئی۔ غزوۂ احد میں نظم و ضبط کی ایک معمولی غلطی سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں مسلمانوں کو شکست ہوگئی، مگر مسلمان اپنے خدا، اپنے رسول اور اپنے دین سے چمٹے رہے۔ حضرت عائشہؓ کے بیان کے مطابق فتح خیبر تک مسلمانوں کی معاشی حالت ایسی تھی کہ حضرت عائشہؓ کے بقول ہم کھجور کھاتے تھے اور پانی پیتے تھے، مگر حضرت عمرؓ کے زمانے تک آتے آتے مسلمان وقت کی دو سپر پاورز کو تاراج کرچکے تھے اور مسلمانوں کے پاس مالی وسائل کی فراوانی ہوگئی تھی۔ یہ دین و دنیا کی طاقت کے امتزاج کا ایسا نمونہ تھا، انسانی تاریخ جس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریاستِ مدینہ اور خلافتِ راشدہ کا تجربہ بتاتا ہے کہ اسلامی ریاست ایک سطح پر خدا مرکز تھی، دوسری سطح پر رسول مرکز تھی، تیسری سطح پر قرآن مرکز تھی، چوتھی سطح پر علم مرکز تھی، پانچویں سطح پر تقویٰ مرکز تھی۔ حضرت عمرؓ کی فلاحی ریاست کا ماڈل اتنا غیر معمولی تھا کہ اسے جزوی طور پر سہی، یورپ تک نے اپنایا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ان تمام آدرشوں کو اپنانا تھا۔ مگر پاکستان کو ایسے پست مزاج جرنیل اور سول حکمران میسر آئے کہ انہوں نے ریاست مدینہ اور خلافتِ راشدہ کے ماڈل کی طرف دیکھا تک نہیں۔ خیر ریاستِ مدینہ اور خلافتِ راشدہ تو عظیم تجربات تھے، ہمارے حکمرانوں نے تو برصغیر میں مغل سلطنت تک کی تقلید نہیں کی۔ مغرب کے ممتاز مؤرخ ولیم ڈیل ریمپل نے اپنی کتاب ’’دی انارکی‘‘ میں لکھا ہے کہ انگریزوں کی آمد سے قبل برصغیر دنیا کی مجموعی پیداوار یا گلوبل جی ڈی پی کا 25 فیصد پیدا کرتا تھا، جب انگریز یہاں سے گئے تو برصغیر عالمی پیداوار کا ساڑھے چار فیصد پیدا کررہا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انگریز برصغیر کی مسلم ریاست کی ساری دولت لوٹ کر لے گئے۔ ہندوستان کی ممتاز محقق اتسا پٹنائک کے مطابق انگریزوں نے برصغیر سے 45 ہزار ارب ڈالر لوٹے۔ پاکستان کے حکمران چاہتے تو مغل سلطنت کو بھی اپنے لیے نمونہ بنا سکتے تھے۔ بلاشبہ یہ صرف مادی ترقی کا نمونہ ہوتا، مگر پاکستان کے حکمرانوں کی پست فطرت نے انہیں مغل سلطنت کی بھی تقلید نہ کرنے دی۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اصولوں کے ساتھ انسان کے تعلق کی دو ہی صورتیں ہوتی ہیں، یا تو انسان اصولوں کی سطح تک اٹھ جاتا ہے، یا پھر وہ اصولوں کو اپنی پست سطح پر گھسیٹ لاتا ہے اور اصولوں کی تذلیل کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقے نے یہی کیا۔ اس نے پاکستان کی پشت پر موجود عظیم آدرشوں پر تھوک دیا۔ انہیں پامال کردیا۔

پاکستان کے حکمران طبقے نے سب سے بڑا ظلم پاکستان کے نظریے یعنی اسلام کے ساتھ کیا۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا، مگر پاکستان کے حکمرانوں نے اسلام کو اپنا رہنما بنانے کے بجائے سیکولرازم، لبرل ازم اور سوشلزم کے ساتھ رومانس لڑانا شروع کردیا۔ اس کی ابتدا جنرل ایوب سے ہوئی۔ جنرل ایوب نے سود کو ’’حلال‘‘ ثابت کرنے کے لیے دن رات ایک کردیے۔ انہوں نے قوم پر وہ عائلی قوانین مسلط کردیے جو قرآن و سنت سے متصادم تھے۔ انہوں نے ملک کے آئین سے لفظ ’اسلام‘ کو خارج کردیا۔ بھٹو صاحب نے اسلامی سوشلزم ایجاد کرلیا حالانکہ اسلام اور سوشلزم ایک دوسرے کی ضد تھے۔ جنرل پرویزمشرف نے ملک و قوم پر سیکولرازم اور لبرل ازم مسلط کرنے کی کوشش کی۔ علما اور مذہبی جماعتوں کی طویل جدوجہد سے 1973ء میں ملک کو ایک اسلامی آئین فراہم ہوا، مگر پاکستان کے حکمرانوں نے 1973ء کے آئین کو اسلام کا قید خانہ بنادیا۔ پاکستان کے حکمرانوں نے 1973ء سے آج تک اسلام کو آئین سے نکل کر ریاست کے معاملات پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں سودی معیشت چل رہی ہے، حالانکہ قرآن سود کو اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ قرار دیتا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی شرعی عدالت نے سود کے خلاف فیصلہ دیا مگر میاں نوازشریف اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر بیٹھے۔ جنرل پرویزمشرف کے دور میں بھی عدالت نے سود کے خلاف فیصلہ دیا تھا، اس پر جنرل پرویزمشرف نے کہا تھا کہ سود کے خلاف فیصلہ میرے ہی دور میں آنا تھا! میاں نوازشریف کا اسلام سے یہ تعلق ہے کہ چودھری شجاعت نے اپنی خودنوشت ’’سچ تو یہ ہے‘‘ میں لکھا ہے کہ ہم نے شریفوں کے ساتھ شراکتِ اقتدار کا سمجھوتہ کیا تو میاں شہبازشریف قرآن اٹھا لائے اور فرمایا کہ یہ قرآن ہمارے اور آپ کے درمیان اس بات کا ضامن ہے کہ ہم آپ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی ایک ایک شق پر عمل کریں گے۔ چودھری شجاعت کے بقول بعدازاں شریفوں نے معاہدے کی ایک شق پر بھی عمل نہ کیا۔ بے نظیر بھٹو کے مذہبی شعور کا یہ عالم تھا کہ ایک بار وہ جلسے سے خطاب کررہی تھیں کہ مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی، اس پر بے نظیر نے کہا ’’اذان بج رہا ہے‘‘ اور خاموش ہوگئیں۔ عمران خان ریاستِ مدینہ کی بات کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ انہیں چین اور اسکینڈے نیویا کے ممالک کے ماڈلز بھی عزیز ہیں۔ پاکستان میں مولانا فضل الرحمان تک کی مذہبیت کا یہ عالم ہے کہ وہ ملک میں ’’مذہبی سیکولرازم‘‘ کی سب سے بڑی علامت ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کی اسلام بیزاری کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والا پاکستان ریاستی سطح پر اسلام سے بے نیاز کھڑا ہے۔ معاشرے کا یہ حال ہے کہ وہ نہ خدا مرکز ہے، نہ رسول مرکز، نہ قرآن مرکز ہے، نہ علم مرکز، نہ تقویٰ مرکز۔ دیکھا جائے تو حکمرانوں کی طرح معاشرہ بھی صرف دو چیزوں کا طواف کررہا ہے: (1) طاقت کا، اور (2) دولت کا۔

چلیے، دنیا کی ایسی بہت سی قومیں ہیں جنہوں نے مذہب کو ترک کرکے دنیا کو اپنا خدا بنالیا اور پھر انہوں نے دنیا کماکر دکھادی، مگر پاکستان کا حکمران طبقہ نہ پاکستان کو معاشی جنت بنا سکا، نہ اس نے پاکستان کو صنعت و تجارت کا مرکز بنایا۔ پاکستان میں سائنس ہے، نہ ٹیکنالوجی ہے۔ اس کے برعکس ہمارا حال یہ ہے کہ ہم امریکہ کے سیاسی، عسکری اور معاشی غلام ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے تو ملک میں مارشل لا آجاتا ہے، امریکہ چاہتا ہے تو جنرل پرویزمشرف اور بے نظیرمیں این آر او ہوجاتا ہے، امریکہ چاہتا ہے تو نوازشریف سعودی عرب اور لندن فرار ہوجاتے ہیں۔ جہاں تک معیشت کا تعلق ہے تو ہمارے حکمرانوں نے ملک کی معیشت کو قرضوں کی معیشت بنادیا ہے۔ دنیا نے معاشی ترقی کا نشہ ایجاد کیا، پاکستان کے حکمرانوں کا معاملہ یہ ہے کہ انہوں نے قرضوں کا نشہ ایجاد کیا، اور اب پاکستان 125 ارب ڈالر کے قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ ہمارا دفاع 1958ء سے امریکہ مرکز ہے۔ چین ہمارے لیے امریکہ کے متبادل کے طور پر موجود ہے، مگر پاکستان کا حکمران طبقہ ابھی تک امریکہ کے آگے سجدہ ریز ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ قائداعظم کے اوریجنل پاکستان کو بھی نہ سنبھال سکا اور 1971ء میں پاکستان دو ٹکڑے ہوگیا۔ موجودہ پاکستان کا حال بھی ابتر ہے۔ بلوچستان میں ریاست مخالف جذبات موجود ہیں، کراچی میں مرکز گریز نفسیات پنپ رہی ہے، کے پی کے میں مرکز کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں۔ تجزیہ کیا جائے تو پاکستان کے حکمران طبقے نے قومی زندگی کے ہر شعبے کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ اس تباہی و بربادی کا ماتم اخبارات تک میں عام ہوچکا ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقے نے قوم کو تباہی و بربادی، پسپائی اور ہزیمت کے جو ’’تحفے‘‘ دیے ہیں اُن کے ذکر سے اخبارات بھرے ہوئے ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں ایک ہی دن کے اخبارات میں کیا کچھ شائع ہوا ہے۔

بلال غوری ملک کے معروف کالم نگار ہیں، انہوں نے ملک کی زراعت کی تباہی کے حوالے سے کیا لکھا، انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے:

’’ دنیا کے نقشے پر موجود 195ممالک میں سے ایک ملک ایسا بھی ہے جو رقبے کے اعتبار سے روس سے 21گنا چھوٹا ہے مگر اس کا آبپاشی کا نظام روس کے مقابلے میں تین گنا بڑا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ غذائی اجناس کی پیداوارکے لحاظ سے یہ ملک اپنی مثال آپ ہے۔چنے کی پیداوار میں یہ ملک دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے۔گنے اور دودھ کی پیداوارمیں چوتھے نمبر پر آتا ہے۔کپاس،امرود اور آم کی پیداوار کا تخمینہ لگایا جائے تو پانچویں نمبر پر ہے۔کھجور اور مرچ کی پیداوارکا موازنہ کیا جائے تو دنیا بھر کے ممالک میں اس کا چھٹا نمبر ہے۔گندم اورمٹر کی پیداوار کو دیکھا جائے تو یہ ملک ساتویں نمبر، جب کہ پیاز کی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں نمبر پر ہے۔پالک اور تمباکو کی پیداوار کے اعتبار سے یہ ملک نویں نمبر پر آتا ہے۔چاول کی پیداوار میں کمی کے باوجود یہ ملک اب بھی 13ویں نمبر پر ہے۔مالٹے اگانے میں اس ملک کا 15واں نمبر ہے۔ جب کہ مکئی کی کاشت کے حوالے سے یہ ملک 16ویں نمبر پر ہے، لیکن ناقابلِ یقین بات یہ ہے کہ بھرپور پیداوار کے باوجود اس ملک کے لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یہاں بحران ختم ہونے میں نہیں آتے۔کبھی آٹے کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کبھی چینی کا بحران سر اٹھا لیتا ہے۔کبھی کپاس درآمد کرنا پڑتی ہے تو کبھی دالیں اور دیگر غذائی اجناس کا بندوبست کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ آپ اگر اس ملک کی درآمدات پر نظر دوڑائیں تو سرتھام لیں گے۔ مثلاً اس بزعمِ خود زرعی ملک نے 2021ء میں 68.7ملین ڈالر کا زرمبادلہ خرچ کرکے 61689ٹن لہسن درآمد کیا۔ جولائی 2021ء سے جون 2022ء تک 3612638میٹرک ٹن گندم خریدی گئی، 77581میٹرک ٹن خشک میوہ جات منگوائے گئے، 259491میٹرک ٹن چائے درآمد کی گئی،185028میٹرک ٹن مصالحہ جات کی خریداری کی گئی، 3314384میٹرک ٹن سویا بین اور پام آئل خریدا گیا،281328میٹرک ٹن چینی منگوائی گئی، جب کہ 1266287میٹرک ٹن دالیں درآمد کی گئیں۔ یہ عجیب و غریب ملک کوئی اور نہیں، ہم سب کا وطنِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، لیکن دو وقت کی روٹی پوری نہیں ہوتی۔ ٹماٹر، پیاز، ادرک اور لہسن جیسی اشیا بیرونِ ملک سے منگوانا پڑ رہی ہیں۔‘‘

(روزنامہ جنگ، 23 فروری 2023ء)

ایک وقت وہ تھا جب پی آئی اے دنیا کی بڑی ایئر لائنز میں سے ایک تھی۔ اس ایئرلائن کا نعرہ تھا: اس کے ساتھ عظیم لوگ سفر کرتے ہیں۔ پی آئی اے نے دنیا کی ایک درجن سے زائد ایئرلائنز کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا۔ بھارت تک ہماری ایئرلائن کو حیرت اور ہیبت کے ساتھ دیکھا کرتا تھا، مگر پاکستان کے حکمرانوں نے پی آئی اے کو بھی تباہ کر ڈالا۔ اب کیا صورت حال ہے جاوید چودھری کے الفاظ میں ملاحظہ فرمایئے۔ لکھتے ہیں:

’’ ائیر انڈیا بھارت کی 91سال پرانی ائیرلائن ہے، یہ کمپنی رتن ٹاٹا نے 1932ء میں بنائی تھی، تقسیم کے بعد حکومت نے اس پر قبضہ کرلیا اور یہ اسے پی آئی اے کی طرح چلاتی رہی، لیکن پھر 28 جنوری 2022ء کو ٹاٹا گروپ نے سوا دو بلین ڈالر میں ائیر انڈیا دوبارہ خرید لی اور صرف ایک سال میں یعنی 14 فروری 2023ء کو سول ایوی ایشن کی تاریخ کا سب سے بڑا دھماکا کردیا۔ ائیر انڈیا نے 470 نئے جہازوں کا آرڈر دے دیا، ان طیاروں میں 210 ائیر بس (اے 320 / 321 نیو)، 190 بوئنگ 733 میکس، 40 ائیر بس (اے 350 ایس)،20 بوئنگ (787 ایس) اور 10 بوئنگ (ایس 777-9) شامل ہیں۔

یہ ایوی ایشن انڈسٹری کی آج تک کی سب سے بڑی ڈیل ہے، اس کی مالیت 60 بلین ڈالر ہے، اور یہ اس ملک میں ہورہا ہے جو 1990ء کی دہائی تک پاکستان کی ترقی کو حیرت سے دیکھتا تھا۔

آپ یہ خبر پڑھنے کے بعد ایک لمحے کے لیے رکیے اور سوچیے آج انڈیا کہاں چلا گیا اور ہم کہاں آگئے ہیں؟ ہم ڈیڑھ بلین ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں جب کہ بھارت میں ایک کمپنی 60 بلین ڈالر کی ڈیل کررہی ہے اور امریکی صدر جوبائیڈن، فرنچ صدرایمانویل میکرون اور برطانوی وزیراعظم رشی سوناک بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مبارک باد پیش کررہے ہیں۔

بھارت اس ڈیل کے ساتھ ساتھ دبئی اور دوحہ اسٹینڈرڈ کے 80 نئے ایئرپورٹس بھی بنا رہا ہے جس کے بعد انڈیا ایشیا میں سول ایوی ایشن کا سب سے بڑا مرکز بن جائے گا، یہ چین کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا، ایئر انڈیا سے سالانہ 7 کروڑ مسافر دنیا جہاں کی سیر کریں گے۔

آپ دوسری بار رکیے اور سوچیے کیا ہم آج ائیر انڈیا کو پی آئی اے کے ساتھ کمپیئر کرسکتے ہیں؟ اور اگر کرتے ہیں تو دونوں میں کتنا فرق ہوگا؟اگلا سوال: بھارت اور ہم میں کیا فرق ہے؟کیا یہ سچ نہیں ہے ہمارا ڈی این اے بھی ایک ہے۔ ہماری زبان، کھانوں، لباس، کلچر اور رہن سہن میں بھی کوئی فرق نہیں۔ گرمی، سردی، گردوغبار، رویّے، نفرت اور مار دھاڑ بھی ایک جیسی ہے اور ہم مصالحے بھی ایک جیسے استعمال کرتے ہیں، لیکن وہ آگے دوڑ رہے ہیں اور ہم پیچھے، آخر کیوں؟ اور تیسرا سوال کیا اس ملک میں کوئی شخص قومی زوال کی وجوہات پر غور کررہا ہے؟ اور کیا ہم رک کر، ٹھیر کر اور سانس لے کر اپنی غلطیوں کا اعتراف کررہے ہیں؟

اس کا سیدھا سادا جواب ہے ہرگز نہیں، ہم اگر آج بھی سوچ سمجھ رہے ہوتے تو شاید زوال کی چٹان سے پھسلنے کا یہ سلسلہ رک جاتا، لیکن جب قوموں کی مت ماری جاتی ہے تو پھر انھیں دھوپ میں پڑی حقیقتیں بھی دکھائی نہیں دیتیں، ہم اس کی بدترین مثال ہیں۔‘‘

(روزنامہ ایکسپریس، 23 فروری 2023ء)

اشفاق اللہ جان ڈاگیوال میاں نوازشریف اور نواز لیگ کے پرستاروں میں سے ہیں مگر ہمارے حکمران طبقے نے ملک پر جو معاشی تباہی مسلط کی ہے اور مہنگائی کا جو سونامی تخلیق کیا ہے اُس نے اشفاق اللہ جان ڈاگیوال کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے ’’اسحاق ڈار کا عام آدمی‘‘ کے عنوان سے کالم میں لکھا:

’’پاکستان کا معاشی بحران اب انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع ہوچکا ہے، ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے یہ ملک غریبوں کا قبرستان بننے جارہا ہے۔

خودکشی اسلام میں حرام ہے مگر آج غریب بھوک، افلاس اور معاشی حالات سے تنگ آکر خودکشی کرنے پر مجبور ہے۔ اپنی جان لینا ناقابلِ معافی جرم ہے لیکن کیا بھوک اور افلاس کی وجہ سے خودکشی کرنے والے کی موت کے ذمے دار اللہ کے قہر سے بچ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ آئیے مدینہ کی اصلی ریاست میں چلتے ہیں جہاں امیرالمومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے ہیں اور رعایا کے حالات سے باخبر رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ضرورت مندوں کے لیے بیت المال سے راشن کی بوریاں اپنی کمر پر لاد کر پہنچاتے ہیں، خادم کہتا ہے امیرالمومنین آپ کا بوجھ میں اٹھا لیتا ہوں۔ جواب دیا جاتا ہے کہ کیا روزِ قیامت بھی میرا بوجھ تم اٹھائو گے؟ ان کے دل میں اللہ کا اس قدر خوف تھا کہ وہ کہتے تھے اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو میں (عمرؓ) کل اللہ کی عدالت میں جواب دہ ہوں گا۔ اللہ اکبر۔ اللہ اکبر

آج ہمارے حکمرانوں کے دلوں سے خوفِ خدا ختم ہوچکا ہے۔ اپنی معیشت کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیں گے پھر ہمارے ساتھ یہی کچھ ہونا تھا جو آج ہورہا ہے۔ میں کسی ایک حکومت کی بات نہیں کررہا۔ پچھلے 34 سال سے ہم مسلسل آئی ایم ایف کی غلامی میں ہیں۔

جنرل ضیا الحق کے بعد اس ملک میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت آئی اور ہم آئی ایم ایف کے دروازے پر پہنچ گئے۔ اُس وقت سے آج تک ہم پوری طرح آئی ایم ایف کی غلامی میں ہیں۔ درمیان میں پرویزمشرف دور میں 2004ء سے 2008ء تک ہم نے آئی ایم ایف سے جان چھڑا لی تھی، لیکن اس کے بعد پھر پیپلز پارٹی کی حکومت آئی اور ہم دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس پہنچ گئے۔ اس وقت ہم آئی ایم ایف کے جس پروگرام میں چل رہے ہیں اس کی ذمے دار عمران خان کی حکومت ہے جس نے آئی ایم ایف کی وہ شرائط تسلیم کیں جو اس ملک اور اس ملک کے عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم تھا۔ پھر عمران خان ان شرائط سے پیچھے ہٹا جس کی وجہ سے آئی ایم ایف ہم سے خفا ہوا اور آج جب ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف کے پروگرام کی اشد ضرورت ہے وہ ناک سے لکیریں نکلوا رہا ہے جس کا لامحالہ ملبہ عوام پر گررہا ہے۔

موجودہ حکومت سے بھی معاملات نہیں سنبھل رہے۔ بدترین معاشی صورت حال کو سنبھالنا اسحاق ڈار جیسے معیشت کے ارسطو کے بس کی بات بھی نہیں رہی۔ مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا، لمحۂ موجود میں اس کی شرح 30فیصد سے بھی تجاوز کرچکی ہے، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

یہ ہمارے اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار ہیں۔ ادارہ شماریات ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کرتا ہے۔ اس ادارے نے گزشتہ ایک ہفتے کے جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں ان کے مطابق 24اشیا کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات، بجلی، پیاز، لہسن، انڈے، دالیں، چاول، چینی، گھی، کوکنگ آئل، گھریلو سلنڈر، دودھ، دہی، چائے کی پتی وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ وہ اشیا ہیں جو روزمرہ استعمال ہونے والی بنیادی چیزیں ہیں، ان میں سے ایک بھی لگژری آئٹم نہیں جسے عیاشی کے لیے استعمال کیا جائے۔

اب حکومت نے آئی ایم ایف کی فرمائش پر منی بجٹ پیش کردیا ہے۔ ابھی بجٹ پاس نہیں ہوا لیکن مارکیٹ میں اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوچکا ہے۔ ملک میں گورننس نام کی کوئی شے نظر نہیں آرہی، مارکیٹ مکمل طور پر آزاد ہے، حکومت قیمتیں بڑھائے یا نہ بڑھائے، ذخیرہ اندوز روز قیمتوں میں اضافہ کررہے ہیں۔

صنعتیں تیزی سے بند ہورہی ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، بیرونِ ملک سے خام مال منگوانے کے لیے ڈالر موجود نہیں، دنیا میں کوئی ہماری مدد کرنے کو تیار نہیں۔ مگر اسحاق ڈار صاحب فرما رہے ہیںکہ عام آدمی متاثر نہیں ہوگا۔ پتا نہیں عام آدمی سے کیا مراد ہے! اسحاق ڈار صاحب شاید اپنے اور شریف خاندان کے افراد کو عام آدمی سمجھ رہے ہیں۔

(روزنامہ ایکسپریس، 23 فروری 2023ء)

کہنے کو پاکستان کو آزاد ہوئے 75 سال ہوگئے ہیں، مگر پاکستان کے حکمران طبقے نے قوم پر اب تک عہدِ غلامی کی نفسیات اور ورثے کو مسلط کیا ہوا ہے۔ خورشید ندیم نے اپنے کالم میں اس نفسیات اور اس ورثے کے ایک پہلو پر کلام کیا ہے۔ انہوں نے اپنے کالم میں اس حوالے سے کیا لکھا ہے، انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے:

’’آج جسے ہم مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کہتے ہیں، یہ دراصل وہ قانون ہے جو انگریزوں نے 1860ء میں یہاں نافذ کیا۔ فوجداری قانون کی دوسری دستاویز، مجموعہ ضابطۂ فوجداری ہے جو1898ء میں نافذ ہوا۔ ہماری عدالتیں آج بھی اس کے تحت فیصلے کرتی ہیں۔ یہی نہیں، ضابطۂ دیوانی بھی وہی ہے جو 1908ء میں انگریزوں نے نافذ کیا تھا۔ سب سے سنگین معاملہ ’’پولیس ایکٹ‘‘ کا ہے۔ 1860ء میں انگریزوں نے ایک پولیس کمیشن بنایا اور اس کی سفارشات کی بنیاد پر یہاں ایک پولیس ایکٹ نافذ ہوا۔ چند جزوی تبدیلیوں کے ساتھ آج بھی اسی قانون کی حکمرانی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ پولیس کا یہ نظام، انگریزوں نے ’’آئرش کانسٹیبلری ‘‘کے ڈھانچے پر اٹھایا۔ یہ کانسٹیبلری آئرلینڈ کی جنگِ آزادی کو کچلنے کے لیے بنائی گئی تھی۔

ایک قانون‘ ممکن ہے ظاہری صورت میں کسی تبدیلی کا تقاضا نہ کرتا ہو لیکن دراصل یہ روحِ قانون ہے جس کو سمجھنا لازم ہے۔ قانون اسی روح کے لیے بدن اور حفاظت کا کام کرتا ہے۔ جب ہم نے اس قانون کو اس کی روح کے ساتھ قبول کرلیا تو انگریزوں کے جانے کے بعد بھی اس کے اثرات وہی تھے جو انگریزوں کی موجودگی میں مرتب ہوئے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب حکمران طبقہ مقامی لوگوں پر مشتمل ہے۔ ان کے نام تو عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں لیکن دراصل وہ ایک حاکم قوم کے نمائندے ہیں اور عوام کو اپنا محکوم سمجھتے ہیں۔

آج تھانہ عام آدمی کے لیے خوف کا گھر ہے۔ افسر ایک ایسی مخلوق ہے عام پاکستانی کا مقدر جس کی جنبشِ قلم کا محتاج ہے۔ عدالت کا تصور ہی اس کے وجود میں سنسنی پھیلا دیتا ہے۔ اسی طرح اہلِ سیاست اور فوج بھی عوام سے دور بسنے والی مخلوقات ہیں جن کا عام آدمی سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ سب اس وجہ سے ہے کہ ہمارا ریاستی نظام انگریزوں کا دیا ہوا ہے جو دو طبقات کا نمائندہ تھا‘‘۔

(روزنامہ دنیا، 23 فروری 2023ء)

یہ پاکستان کی تاریخ کی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے ملک و قوم کو کبھی آزادی کا حقیقی احساس نہیں ہونے دیا۔ اس نے معاشرے پر ایسے سیاسی، سماجی اور معاشی جبر کو مسلط رکھا جو آزادی کے ہر تصور کا مذاق اڑانے والا ہے۔

پاکستان قائم ہوگیا مگر پاکستان کے حکمران طبقے نے جاگیرداری اور برادری نظام کو جاری رکھا۔ اس حوالے سے آصف محمود نے اپنے کالم میں کیا لکھا، انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے:

’’بلوچستان کے سرداری نظام کی جڑیں بھی بلوچستان کی اپنی تہذیب میں نہیں ہیں۔ اس نظام کی بنیاد انگریز نے 1876ء میں رکھی۔ اس نظام کی سفاکی کا اندازہ لگانا ہو تو ڈاکٹر عطا بخش مری کے یہ الفاظ کافی ہیں کہ ’’ سردار لا شریک ہوتا ہے‘‘۔ انگریز نے اس نظام کو یوں مستحکم کیا کہ عام آدمی کے قتل کا خوں بہا دو ہزار روپے رکھا لیکن اپنے ان وڈیروں، نوابوں کے قتل کا خوں بہا آٹھ ہزار روپے رکھا۔ یعنی نوآبادیاتی نظام کے یہ محافظ عام انسان سے چار گنا زیادہ قیمتی تھے۔ بلوچستان میں انگریزوں کے خلاف جب مزاحمت بڑھی تو انگریز نے وہاں یہ سرداری نظام متعارف کرایا۔ اپنے وفاداروں کو منصب دیے۔ لیویز کی شکل میں انہیں مسلح جتھے دیے تاکہ وہ باغیوں کو کچل سکیں۔ ان سرداروں، وڈیروں کے بچوں کو ایچی سن سے لے کر ڈیرہ دون ملٹری اکیڈمی تک تعلیم دی لیکن عام آدمی کو تعلیم سے دور رکھا۔ ساتھ ’مذہبی ٹچ‘ بھی دیا گیا کہ سردار تو اللہ کا ولی ہوتا ہے، اس کی اطاعت لازم ہے۔ سرداروں کی جھوٹی کرامات مشہور کرائی گئیں۔ غلامی کو یوں سائنسی انداز سے مسلط کیا گیا کہ آج ہم اس نظام پر بات کریں تو ہمارے بلوچ ادیب دوست بھی ’اسٹیبلشمنٹ کے سردار‘ کی مذمت کرکے ’اپنے سرداروں‘ کے حق میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ انہیں شاید یاد ہی نہیں کہ یہ ’اپنے سردار‘ بھی انگریز ہی کے مسلط کردہ تھے اور 1929ء میں یوسف عزیز مگسی نے ان نوآبادیاتی سرداروں کے خلاف ایک خفیہ مزاحمتی تحریک شروع کی جس کا نام ’انجمن اتحاد بلوچ و بلوچستان‘ تھا۔ سردار کسی کا بھی ہو، سردار ہی ہوتا ہے۔ یہ بندوبست ہی انسانیت کی توہین ہے۔

انگریز چلا گیا تو پیچھے اپنی افسر شاہی کے ساتھ ساتھ اپنے یہ جاگیردار، نواب، سردار اور وڈیرے بھی چھوڑ گیا۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ قائداعظم جلد خالقِ حقیقی سے جا ملے اور افسر شاہی اقتدار پر قابض ہوگئی اور اس نے ان جاگیرداروں، سرداروں، نوابوں اور وڈیروں کے ذریعے سماج کو اپنی گرفت میں رکھنے کے اسی نوآبادیاتی فارمولے کو جاری رکھا‘‘۔

(روزنامہ 92 نیوز،23 فروری 2023ء)

پاکستان کے حکمران طبقے سے کچھ اور کیا، ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی تک نہیں سنبھل پایا۔ کراچی میں پانی کی قلت ہے، کراچی کی سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، کراچی میں جگہ جگہ گٹر ابل رہے ہیں، کراچی کچرا کنڈی کا منظر پیش کررہا ہے، کراچی میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ عروج پر ہے۔ چند ماہ پیشتر کراچی کے تاجروں اور صنعت کاروں کے ایک وفد نے جنرل باجوہ سے ان مسائل کو حل کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کرانے کے بجائے فرمایا کہ آپ پنجاب میں صنعتیں لگائیں وہاں ساری سہولتیں موجود ہیں۔ یہ ’’ناپاک فوجیت‘‘ اور ’’ناپاک عصبیت‘‘ کی ایک مثال ہے۔ ایسی ہی مثالوں نے کبھی پاکستان کو عظیم نہیں بننے دیا۔ ایسی ہی مثالوں نے پاکستان کو دین اور دنیا کی عظمتوں سے ہمکنار نہیں ہونے دیا۔