عدل اور انصاف کا یہ بنیادی تقاضا ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو۔ تحریک انصاف کے سربراہ ’’دو نہیں ایک پاکستان‘‘ کا نعرہ لگاتے اور سیرت طیبہ کا یہ واقعہ اکثر اپنی تقریروں میں دہراتے رہے ہیں کہ ایک خاتون فاطمہ نامی، چوری کے جرم میں پکڑی گئی… با اثر قبیلہ سے تعلق تھا۔ قبیلہ کے معززین کی شدید خواہش تھی کہ سزا سے بچ جائے مگر کسی میں ہمت نہیں تھی کہ رسول اکرمؐ سے ایک مجرمہ کی سفارش کرے بہت سوچ بچار کے بعد نبی مکرمؐ کے چہیتے خادم، جسے آپؐ نے بیٹا بنا رکھا تھا، سے سفارش کرائی گئی، جس پر رحمت دو عالمؐ نے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ’’قسم اس ذات کی، جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میری لخت جگر فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کٹوا دیتا، تم سے پہلی قومیں اسی لیے تباہ ہوئیں کہ ان کا جب کوئی عام آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی اور جب کوئی بڑا، معزز اور با اثر شخص پکڑا جاتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا۔‘‘ جناب عمران خاں کہ انصاف کے علم بردار اور صاف، شفاف نظام کے داعی اور پاکستان کو ’ریاست مدینہ‘ کے نمونہ پر استوار کرنے کے دعویدار تھے، اپنی تقریروں میں بڑے بڑے دعوے بھی کرتے رہے اور سیرت مقدسہ کا یہ درخشاں پہلو بھی بار بار لوگوں کو دکھاتے رہے مگر افسوس کہ وہ عمل کی دنیا میں ایک بھی قدم پیش رفت نہ کر سکے اور قرآن کی اس وعید کو بھی فراموش کر دیا کہ ’’وہ بات کیوں کہتے ہو، جو کرتے نہیں، اللہ تعالیٰ کو یہ بات سخت نا پسند ہے کہ تم وہ بات کہو، جس پر عمل نہیں کرتے۔‘‘ قرآن حکیم کے احکام سے رو گردانی اور سیرت مقدسہ کے مندرجہ بالا واقعہ میں قوموں کی تباہی کا سبب واضح الفاظ میں بتا دیئے جانے کے بعد ہمیں امت مسلمہ کے زوال اور وطن عزیز کی زبوں حالی اور در پیش بحرانوں کی وجہ اب بھی سمجھ میں نہ آئے تو قصور ہمارے فہم کا ہے کسی اور کا نہیں… علامہ اقبالؒ تو ایک صدی قبل ہی بتا گئے تھے کہ: ؎
وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر
تم ہوئے خوار تارک قرآن ہو کر
پنجابی زبان کا محاورہ ہے کہ زور آور کا سو، سات بیس کا ہوتا ہے، پاکستان میں یہی نظام رائج ہے، یہاں طاقت ور پانچ بیس کا سو تسلیم کرنے پر تیار نہیں، جنگل میں بھی شائد کوئی قانون ہوتا ہے مگر پاکستان میں ’’جس کی لاٹھی، بھینس بھی اسی کی ہے۔ کوئی کسی کو کسی کا حق دینے پر تیار نہیں، جو بڑھ کے تھام لے جام اسی کا ہے، ایک نہیں دو سے بڑھ کر اب معاشرہ کئی پاکستانوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ شرافت کی سیاست کا دور لد چکا۔ جس کو سب کچھ آنکھوں دیکھ کر بھی یقین نہ آئے، وہ فرزند گوادر… مولانا ہدایت الرحمن بلوچ سے مل لے، اس کی داستان سن لے۔ جو گزشتہ کم و بیش چار ماہ سے جرم بے گناہی میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند رکھا گیا ہے۔ اس کا قصور یہ ہے کہ وہ کسی جاگیردار، وڈیرے، سرمایا دار یا سردار کے گھر پیدا نہیں ہوا۔ وہ ایک مچھیرے کا بیٹا ہے، بلوچستان کے حقوق کی بات کرتا ہے۔ اپنے علاقے کے مرد و زن کا مقبول اور منتخب نمائندہ ہے، اس نے اپنے خطے کے لوگوں پر ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ لوگوں کو ساتھ لے کر میدان میں آیا ۔ حکمرانوں نے معاہدے کا ’لالی پاپ‘ دیا مگر حکمران جن کے نزدیک ’’وعدے اور معاہدے کوئی قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔‘‘ انہوں نے معاہدے پر عمل کرنا تھا، نہ کیا، ٹال مٹول سے کام چلانا چاہا۔ لالچ سے ہدایت الرحمن کو اپنی راہ پر لانا چاہا۔دھمکیوں سے دھمکانا چاہا مگر وہ کسی اور ہی مٹی کا بنا ہوا ہے، اس کی تربیت ایسے سانچے میں ہوئی ہے جس سے ہمارے ارباب اقتدار واقف ہی نہیں۔ چنانچہ مولانا ہدایت الرحمن اپنے لوگوں کو لے کر پھر میدان میں آیا اور ڈٹ گیا۔ حکمرانوں نے ستم کو شعار بنایا، ہر ظلم ڈھایا مگر وہ پھر بھی راہ پر نہ آیا۔ اب تقریباً چار ماہ سے وہ جیل میں ہے۔ حکمران اسے سبق سکھانے کے در پے ہیں… عدالتیں جو با اثر لوگوں کے لیے رات کو بھی کھل جاتی ہیں… ملزم کو ’’انصاف‘‘ کی فراہمی کے لیے گھنٹوں اس کی تشریف آوری کی منتظر رہتی ہیں… عدالتیں، جہاں سے دن دہاڑے قتل اور آبروریزی کے ملزمان کو قبل از گرفتاری ضمانتیں مل جاتی ہیں… وہی عدالتیں، ہدایت الرحمن کو انصاف دینے سے قاصر ہیں… غریب اور شریف ہو کر سر اٹھا کر چلنا… اپنے جیسے بے وسیلہ لوگوں کے حقوق کی بات کرنا، اتنا بڑا جرم ہے کہ کوئی عدالت اسے ضمانت تک دینے پر آمادہ نہیں… اسے ضمانت کیسے ملے کہ وہ کسی با اثر کا کارندہ بننے سے انکاری ہے، ضمانت تو تب ملے جب وہ کسی قانون کا قیدی ہو مگر وہ تو ضمیر کا قیدی ہے…!!!
پریشانی کی بات یہ بھی ہے کہ مولانا ہدایت الرحمن کی گرفتاری اور عدم رہائی میں کور کمانڈر کوئٹہ کا نام زبان زد عام ہے۔ ایک جانب بار بار یہ اعلانات سامنے آ رہے ہیں کہ ہم نے خود کو سیاست سے بالکل الگ کر لیا ہے مگر دوسری جانب مولانا ہدایت الرحمن پر دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ وہ پہلے معافی مانگیں پھر رہائی ملے گی جب کہ مولانا کا بیانگ دہل یہ اعلان ہے کہ معافی کا لفظ میری لغت ہی میں نہیں، کسی جرم کے بغیر ہاتھ جوڑنا میری سرشت ہی میں شامل نہیں… مولانا ہدایت الرحمن سے کسی جرنیل کے سامنے سرنگوں ہونے کی توقع رکھنے والے غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ہدایت الرحمن کی سوچ جس شخصیت کا لٹریچر پڑھ کر پروان چڑھی ہے جس جماعت کا وہ کارکن ہے، اس کے بانی کا تو اپنا کردار اس قدر روشن تھا کہ قادیانیوں کی حقیقت بے نقاب کرنے والا کتابچہ ’’قادیانی مسئلہ‘‘ لکھنے پر جب سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو فوجی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تو معافی کی درخواست کے مشورے پر انہوں نے یہ تاریخی الفاظ ادا کئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری موت کا وقت آ چکا ہے تو کوئی اسے ٹال نہیں سکتا اور اگر ایسا نہیں ہے تو یہ الٹے بھی لٹک جائیں، مجھ سے زندگی چھین نہیں سکتے… سید مودودیؒ کے یہ سنہری کلمات آج بھی اہل حق کے لیے مینارہ نور کی حیثیت رکھتے ہیں… مولانا ہدایت الرحمن کے ساتھیوں نے ان کی رہائی کے لیے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے دروازے پر دستک دینے کا فیصلہ کیا… دیکھئے آئین و قانون کے پاسدار انصاف کا بول کیسے بالا کرتے ہیں؟؟؟
(حامد ریاض ڈوگر)

