سیاسی انتشار نے تمام کاروبارِ مملکت متاثر کررکھا ہے
ملک میں ایک جانب سیاسی بحران ہے، دوسری جانب معاشی مشکلات کی گہری اور اندھیری کھائی اور تیسری جانب سیاسی جماعتوں کی باہمی کشمکش… اور اس ماحول میں بھارت مقبوضہ کشمیر جیسے متنازع علاقے میں جی 20 ممالک کی کانفرنس منعقد کرنے جارہا ہے، جبکہ ہماری معیشت آئی ایم ایف کی دستِ نگر ہے۔ تازہ اطلاع یہ ہے کہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ مسدود ہوتے جارہے ہیں۔ 30 جون 2023ء تک پروگرام کی مقررہ ڈیڈلائن گزرنے سے قبل ہی ساڑھے چھ ارب ڈالر کی توسیع شدہ فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت گیارہواں جائزہ لاگو ہونے جارہا ہے جبکہ نواں جائزہ ابھی تک نامکمل ہے۔ دسواں جائزہ گزشتہ3فروری کو ہی واجب ہوگیا تھا جو پورا ہی نہ ہوا جس کے لیے آئی ایم ایف اور پاکستان ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھیرا رہے ہیں۔ یہ معاملہ گزشتہ 80 دنوں سے زیر التوا ہے۔آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ اسے بیرونی فنانسنگ ضروریات کی تصدیق کا انتظار ہے۔ اس کے باوجود کہ پاکستان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے تین ارب ڈالر بیرونی سرمایہ کاری کی ضمانت دی ہے، تاہم آئی ایم ایف، ورلڈ بینک کی جانب سے دو ارب اور ایشین انفرااسٹرکچر انوسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی)کی جانب سے 90کروڑ ڈالر فراہمی کی توثیق چاہتا ہے۔ 2 سے 3ارب ڈالر کی اضافی بیرونی فنانسنگ کے بغیر آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے پر تیار نہیں۔ یہ عالمی ادارہ پاکستان کے ساتھ سیاست کررہا ہے، اسٹاف لیول معاہدہ بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا، یہ سیاسی کھیل کے سوا کچھ نہیں۔
ملک میں جاری سیاسی کشمکش کے ماحول میں یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت میں شامل اتحادی سیاسی جماعتیں اور تحریک انصاف مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئی ہیں، لیکن ہمیں کسی بھی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ یہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوسکتے ہیں، کیونکہ ہماری قومی سیاسی قیادت خود مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے اُس بینچ کی تجویز پر مذاکرات کے لیے آمادہ ہوئی ہے جو عام انتخابات ایک دن کرانے کے لیے کیس کی سماعت کررہا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بے شمار ایسے باب ملتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ دبائو میں باہمی مذاکرات کیے اور یہ مذاکرات صرف اسی صورت کامیاب ہوئے جب انہیںکامیاب کرانا مقصود تھا۔ آئین کی آٹھویں ترمیم کے وقت جنرل ضیاء الحق اور بعد میں سترہویں ترمیم کے وقت اسٹیبلشمنٹ جنرل پرویزمشرف کے لیے آئینی تحفظ چاہتی تھی اور خواہش مند تھی کہ مذاکرات کامیاب ہوں۔ لہٰذا یہ دونوں مذاکرات کامیاب ہوئے۔ بھٹو اور قومی اتحاد کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے لیے پاکستان میں سعودی سفیر ریاض الخطیب سرگرم اور متحرک رہے، مگر اُس وقت اسٹیبلشمنٹ ان مذاکرات کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتی تھی، لہٰذا بھٹو/ قومی اتحاد مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے۔ اِس بار بھی صورتِ حال بھٹو/ قومی اتحاد مذاکرات جیسی ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کے لیے کوئی متحرک ہے نہ کسی کو دلچسپی ہے، سو مذاکرات کے نتائج بھی سامنے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی سطح پر ان مذاکرات کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ مذاکرات میں شریک قومی سیاسی جماعتوں کے پاس کوئی مشترکہ سیاسی لائحہ عمل نہیں ہے، اور یہ مذاکرات کا ایجنڈا بھی نہیں ہے۔ مذاکرات کا صرف ایک نکاتی ایجنڈا ہے اور وہ یہ کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات اگر ایک دن ہوں تو کب ہوں؟ اس ایک نکاتی ایجنڈے پر تادم تحریر مذاکرات کے دو دور ہوچکے ہیں اور فریقین پُرامید ہیں کہ کوئی پیش رفت ہوسکتی ہے، لیکن عام انتخابات کے لیے کسی ایک تاریخ پر اتفاق ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ حکمران اتحاد میں شامل پیپلز پارٹی تو ان مذاکرات سے قبل بھی تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ تھی، لیکن تحریک انصاف ہی تیار نہیں تھی، وہ ہر حال میں پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیوں کے انتخابات سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق قبل ازوقت کرانے پر بضد تھی۔ پھر اچانک تحریک انصاف نے یوٹرن لیا تو پی ڈی ایم بھی مذاکرات کے لیے راضی ہوگئی۔ پی ڈی ایم نے مولانا فضل الرحمٰن کو مجبور نہیں کیا کہ وہ مذاکرات میں شریک ہوں۔ اگر مذاکرات کے نتیجے میں یہ پیش رفت ہوجائے کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں بحال کروا دی جائیں اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت پوری کی جائے تو پنجاب میں گھمسان کا رن پڑے گا۔ اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمٰن کے مؤقف کی حامی ہے۔
مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے کہ حکمران اتحاد اور تحریک انصاف نے اپنے اپنے مؤقف میں لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ لچک ان کی اپنی سیاسی سوچ کا نتیجہ نہیں ہے۔ ستمبر یا اکتوبر کی کسی تاریخ پر عام انتخابات سے بھی بڑا سوال مردم شماری کے نتائج ہیں کہ نئی مردم شماری کے نتائج مکمل ہونے تک نئی حلقہ بندیاں نہیں ہوسکیں گی۔ قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہوجانے کے بعد دو راستے ہیں: آئین کے مطابق مدت ایک سال بڑھا لی جائے، یا پھر ایک نگران حکومت قائم ہو جو ’’مثبت نتائج‘‘ کی یقین دہانی تک کام کرے اور اس کے بعد انتخابات ہوں۔ جو بھی ہوگا، ہر مسئلہ آئین کے اندر رہ کر ہی حل کیا جائے گا۔ اب بھی وقت ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے ملک میں جمہوریت کو بحال رکھنے کا راستہ اپنائیں۔ یہ مذاکرات اگر وسیع تر ایجنڈے پر نہ ہوئے اور وسیع تر ایجنڈے پر اتفاق نہ ہوا تو انتخابات کی تاریخ کے ایک نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کر بھی لیا جائے تب بھی پاکستان کا سیاسی بحران ختم نہیں ہوگا۔ یہ سیاسی بحران پاکستان کی ڈوبتی معیشت کو بھی غرق کردے گا۔
حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے بعد ملک کے سیاسی حالات میں اگرچہ کچھ بہتری کے آثار نظر آئے ہیں، تاہم حتمی طور پر ابھی تک کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ مذاکرات بھی ہورہے ہیں، آڈیو لیکس بھی جاری ہیں جس سے ابہام بھی ختم نہیں ہورہا ہے۔ ملک میں جاری سیاسی انتشار نے تمام کاروبارِ مملکت بری طرح متاثر کررکھا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے حکومت اور اپوزیشن کو چاروں صوبوں اور مرکز میں عام انتخابات کے لیے ایک ہی تاریخ پر اتفاق کی خاطر مذاکرات کا مشورہ دے کر اس انتشار کے خاتمے کی مستحسن کوشش کی تھی، مگر منصفِ اعلیٰ کے ایوانوں میں جس طرح سابق حکمراں جماعت کے لیے یک طرفہ کارروائی ہوئی اس نے مایوس کیا ہے۔ یہ یک طرفہ کارروائی ملک کو کسی نئے امتحان میں ڈال سکتی ہے۔ تحریک انصاف اگر پارلیمنٹ میں رہ کر آئینی تبدیلی کا مقابلہ کرتی تو آج ملک کا سیاسی منظرنامہ ہی کچھ اور ہوتا۔ اس نے غیر جمہوری، بے لچک رویہ اختیار کرکے بہتری کے بے شمار مواقع ضائع کیے۔ جس طرح پی ڈی ایم نے ایک سال کا وقت گزارا، تحریک انصاف پارلیمنٹ میں رہتی تو وہ اسی ایوان میں اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کا بدلہ لے سکتی تھی۔ پارلیمنٹ میں رہتے ہوئے وہ زیادہ مؤثر پوزیشن میں ہوتی، لیکن اس کے بجائے عمران خان نے ناقص منصوبہ بندی کے ذریعے قومی اسمبلی سے استعفوں کی راہ اختیار کی۔
وفاقی حکومت نے بجٹ کے بعد اسمبلیاں تحلیل کرنے کی پیشکش کی ہے اور یوں ستمبر میں انتخابات کرائے جاسکتے ہیں۔ تحریک انصاف کے مذاکراتی وفد نے ہامی بھری ہے تاہم حتمی فیصلہ عمران خان ہی کریں گے، جنہیں فیصلہ کرنے سے پہلے چودھری پرویز الٰہی کے گھر پر ہونے والے حملے کے پل صراط سے گزرنا ہوگا۔ اس کے باوجود تحریک انصاف اور پی ڈی ایم میں مذاکرات ایک اچھی پیش رفت ہے۔ لہٰذا اب ایجنڈے پر سوال صرف ایک ہی ہے کہ ایک ہی روز تمام اسمبلیوں کے انتخابات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔ تحریک انصاف کا خیال ہے کہ حکومت اس بجٹ کو انتخابی مہم کے لیے استعمال کرسکتی ہے، لہٰذا بجٹ عبوری انتظامیہ یا اگلی منتخب حکومت پیش کرے اور مئی میں اسمبلیاں برخاست کردی جائیں۔ لیکن تحریک انصاف یہ کیوں بھول رہی ہے کہ بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط سے باہر رہ کرکیسے تیار ہوسکتا ہے! اور کیا اگلی منتخب حکومت اسے من و عن تسلیم کرے گی؟ ماضی میں خود تحریک انصاف نے ایک منتخب حکومت کا پیش کردہ بجٹ بھی مرکز میں حکومت بناکر مسترد کرکے اپنا نیا بجٹ پیش کیا تھا۔ ملکی مفاد اسی میں ہے کہ حکومت اور پارلیمانی جماعتیں مل کر کوئی متفقہ بجٹ تیار کرلیں۔
وزارتِ خزانہ کی طرف سے جاری اعدادوشمار کے مطابق دسمبر 2022ء تک پاکستان کا مجموعی قرض 55.801ٹریلین تک پہنچ چکا ہے۔ مالی سال 2023ء کے پہلے 6ماہ کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 11فیصد کمی آئی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی طرف سے اپنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقامی قرض پاکستان کے مجموعی قرض کا 62.8فیصد ہے، باقی 37.2فیصد غیرملکی قرض ہے۔ اسی عرصے میں حکومت چین سے 1ارب ڈالر اور سعودی عرب سے 3ارب ڈالر کے سیف ڈیپازٹس رول اوور کرانے میں بھی کامیاب ہوئی۔ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی بھی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے مطابق پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے نیا آئی ایم ایف پروگرام لینا پڑے گا۔ رپورٹ میں سیاسی عدم استحکام، سیکورٹی، معاشی کمزوریاں بڑے مسائل قرار دیے گئے ہیں۔ 2024ء سے 2027ء کے دوران روپیہ کمزور رہے گا، شرح سود بھی مزید 2 فیصد بڑھ کر 23 فیصد تک جانے کا امکان ہے۔ پاکستان کو 4 سال میں 77.5 ارب ڈالر بیرونی قرضہ واپس کرنا ہے۔ معاشی شرح نمو اس سال 1.5 فیصد، اگلے سال منفی 0.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اس سال مہنگائی 30.3 فیصد رہے گے جو اگلے سال کم ہوکر 20.8 فیصد پر آجائے گی۔

