الیسٹر لیمب:کشمیر پر تاریخی، علمی اور تحقیقی کام کرنے والا مورخ

کچھ ہی دن پہلے برطانوی محقق، مؤرخ اور اسکالر الیسٹر لیمب کا انتقال ہوگیا۔ الیسٹرلیمب کا نام زبان پر آتے ہی ذہن کشمیر کے حالات اور بھنور میں پھنسے مقدر کی طرف جاتا ہے۔ کشمیر جو محلاتی سازشوں کے باعث پہلے ایک زخم بنا اور اب 75 برس سے برصغیر کا ناسور بن کر رِستا چلا آ رہا ہے۔ جہاں دنیا کی تین ایٹمی طاقتیں منقسم ریاست جموں وکشمیر کے تین حصوں پر بیٹھ کر ایک دوسرے کو خشمگیں نگاہوں سے تکتی رہتی ہیں اور کبھی کبھار آپس میں دست و گریباں بھی ہوجاتی ہیں۔

الیسٹر لیمب 1930ء میں چین میں پیدا ہوئے جہاں اُن کے والد برٹش قونصلر کے طور پر تعینات تھے۔ الیسٹر لیمب کی زندگی کا ابتدائی حصہ اپنے دادا دادی کے ساتھ برطانیہ میں گزرا جہاں انہیں ایلیٹ پبلک اسکول میں داخل کرایا گیا۔ یہ وہی اسکول ہے جس میں پنڈت نہرو نے بھی اُن سے چالیس سال قبل تعلیم حاصل کی تھی۔

برطانیہ کے اخبار ’’دی ٹیلی گراف‘‘ نے الیسٹر لیمب کی وفات پر جو تبصرہ کیا اس میں اُن کا حوالہ کشمیر پر کیا جانے والا تحقیقی کام ہی تھا۔ اخبار نے ان کی شخصیت پر یوں تبصرہ کیا: ’’93 برس کی عمر میں وفات پانے والے الیسٹر لیمب ایک سفارتی مورٔخ تھے جس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کشمیر کی تاریخ اور آغاز پر کام کیا اور کشمیر پر روایتی بیانیے کو چیلنج کیا‘‘۔ کشمیر پر روایتی بیانیے سے اخبار کا اشارہ بھارت کے کشمیر پر روایتی موقف کی جانب تھا جس کی دھجیاں الیسٹر لیمب نے بکھیر کر رکھ دیں۔ الیسٹر لیمب ستّر کی دہائی میں کچھ عرصہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کام کرتے رہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے ایک روایتی بیان کے ذریعے الیسٹر لیمب کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا مگر مجموعی طور پر ایک ایسے محقق کی موت کو قطعی اہمیت نہیں دی گئی جس کے حوالے کے بغیر اب کشمیر پر تحقیق اور جستجو کا علمی سفر آگے بڑھ نہیں سکتا۔

الیسٹر لیمب کی وفات پر ان کے شناسا برطانوی محقق اور بی بی سی کے سابق نمائندے اینڈریو وائٹ ہیڈ نے ’’دی وائر‘‘ میں ایک مضمون لکھا ہے جس میں اُن کے کشمیر پر ہونے والے تحقیقی کام کو تین لفظوں میں یوں بیان کیا: درخشندہ علم، سازشی نظریات اور بھارتی ریاست سے دشمنی پر مبنی رویہ۔ ان کا خیال تھا کہ الیسٹر لیمب کے ساتھ کئی ملاقاتوں کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ وہ خود کو ایک محقق سے زیادہ ایک وکیل سمجھتے تھے۔ یوں اینڈریو وائٹ ہیڈ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے متوازن تحقیق کے بجائے کشمیریوں کے موقف کی وکالت کی۔ ان کے کام کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے لکھا ہے کہ آپ الیسٹر لیمب کے تحقیقی کام سے اختلاف تو کرسکتے ہیں مگر اس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

الیسٹرلیمب نے کشمیر پر کئی کتابیں اور تحقیقی مضامین لکھے جن میں دو کتابوں ’’برتھ آف اے ٹریجڈی‘‘ اور’’کشمیر اے ڈسپیوٹڈ لگیسی‘‘ کو خصوصی شہرت حاصل ہوئی۔ ان کی تحقیق نے تنازع کشمیر میں ہونے والی کئی وارداتوں اور گھاتوں کا سراغ لگا کر سوچ اور بحث کے نئے زاویے پیدا کیے۔ عمومی تاثر یہی تھاکہ قبائلی حملے سے خوف زدہ ہوکر مہاراجا ہری سنگھ نے 26اکتوبر کو الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے، کیونکہ پنڈت نہرو نے قبائلی یلغار کے مقابلے میں مدد کرنے کے لیے الحاق کی شرط عائد کی تھی۔ اس حوالے سے الحاق کی دستاویز کو خود بھارت نے خفیہ رکھنے کی کوشش کی اور آرکائیوز میں سے اس دستاویز کو ہمیشہ غائب کیا جاتا رہا۔ یہ الیسٹر لیمب تھے جنہوں نے برٹش لائبریری اور بھارت کا ریکارڈ چھان مارا اور تحقیق سے ثابت کیا کہ الحاق کی دستاویز یا تو جعلی تھی یا اس پر مہاراجا ہری سنگھ کے دستخط ہی نہیں تھے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ الحاق کی دستاویز تیار کرکے دہلی سے جموں جانے والے بھارتی اہلکار وی پی مینن نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ 26 اکتوبر کی صبح جہاز کے ذریعے دہلی سے جموں آئے اور دستاویز پر مہاراجا کے دستخط حاصل کرکے شام کو واپس دہلی چلے گئے، جس کے بعد 27 اکتوبر کو بھارتی فوج کشمیر میں اُتار دی گئی۔ الیسٹر لیمب نے اس دعوے کو قطعی بے بنیاد قرار دیا۔ اُن کے مطابق مہاراجا 26 اکتوبر کو اہلِ خانہ سمیت سری نگر سے جموں کی طرف روانہ ہوا اور اُس وقت یہ سڑک خستہ حالی کا شکار تھی، یہ ممکن نہیں تھا کہ صبح نکل کر شام سے پہلے جموں پہنچا جائے، اور جموں ائرپورٹ سے شام کی پروازوں کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ یوں مہاراجا سرِراہ ہی تھا کہ وی پی مینن جموں سے واپس دہلی چلے گئے۔ مہاراجا نے کب اور کہاں دستخط کیے؟ یہ ایک معمّآ ہے۔ اس تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ بھارت نے کشمیر کو ہڑپ کرنے کا منصوبہ پہلے ہی بنا رکھا تھا اور اس کے لیے الحاق کی دستاویز بھی ستمبر میں تیار کی گئی تھی یا فوج اُتارنے کے بعد رسمی کارروائی کے طور پر مہاراجا سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کرائے گئے۔

الیسٹر لیمب پر سری نگر کے معروف صحافی افتخار گیلانی نے بھی ”دی وائر“ میں ایک مضمون لکھا ہے اور انہوں نے الیسٹر لیمب کی تحقیق کو تقویت دینے والی ایک اور کتاب کا حوالہ دیا ہے۔ یہ پنڈت نہرو اور اندراگاندھی کے معتمدِ خاص جی پارتھا سارتھی کی سوانح حیات ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قبائلی حملے سے پہلے یعنی 23 ستمبر کو ہی کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی بساط بچھ چکی تھی۔ مہاراجا کے تذبذب کو ختم کرنے کے لیے نہرو نے گوپال سوامی آئینگر کو جو مصنف پارتھا سارتھی کے والد تھے، خفیہ مشن پر سری نگر بھیجا۔ ان کے والد نے دو دن سری نگر میں قیام کیا تھا اور مہاراجا کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے کہ بطور ایک ہندو راجا کے اُن کا مستقبل ہندوستان میں ہی محفوظ ہے۔ کتاب میں لکھا گیا ہے کہ دہلی واپس آکر جب گوپال سوامی آئینگر نے پنڈت نہرو کو رپورٹ دی تو نہرو نے برجستہ کہا کہ مجھے یقین تھا کہ تم اچھی خبر لے کر آئو گے اور یہ صرف تم ہی کر سکتے تھے۔ گوپال سوامی آئینگر کشمیر کے وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں اور انہوں نے بھارتی آئین میں کشمیر کو خصوصی شناخت دینے والے آرٹیکل 370 کا ڈرافٹ تیار کیا تھا۔ یوں الیسٹر لیمب کی تحقیق نے بھارت کے دعوے کی دیوہیکل عمارت کی پہلی اینٹ ہی سرکادی تھی۔ اس نکتے کی بنیاد پر بہت سے محققین نے کشمیر پر اپنے کام کی بنیاد رکھی۔

الیسٹر لیمب کی تحقیق کا دوسرا اہم نکتہ یہ ثابت کرنا تھا کہ مہاراجا کے خلاف اصل تحریک قبائلی حملہ یعنی دراندازی نہیں تھی بلکہ حقیقت میں یہ پونچھ کے نواحی علاقوں باغ، نیلابٹ وغیرہ میں شروع ہونے والی مزاحمتی تحریک تھی۔ اس بات میں خاصا وزن بھی ہے کیونکہ قبائلی لشکر گڑھی حبیب اللہ کے راستے کشمیر کی حدود میں داخل ہوئے اور مظفرآباد سے ہوتے ہوئے چکوٹھی اور بارہ مولہ کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ وہ پونچھ اور جموں کے اُن علاقوں کی طرف گئے ہی نہیں جو آج باغ، راولاکوٹ اور میرپور کے طور پر آزادکشمیر کا حصہ ہیں۔ قبائلی لشکر بارہ مولہ تک گئے اور وہیں سے ان کی واپسی شروع ہوئی، اور پھر وہ واپس اپنے علاقوں کو چلے گئے۔ ایسے میں باغ، راولاکوٹ اور میرپور کا علاقہ کس نے آزاد کیا؟ ظاہر ہے یہ داخلی مزاحمت تھی جس نے ان علاقوں سے ڈوگرہ انتظامیہ کی عمل داری ختم کی۔ بہت کم محققین نے مقامی مزاحمت کے اس پہلو کو اُجاگر کیا، جبکہ سارا زور اس بات پر رہا کہ قبائلی لشکروں نے دراندازی کرکے مہاراجا حکومت کے خلاف سازش کی۔ الیسٹر لیمب نے کشمیر کی اس داخلی مزاحمت کو اپنے کام میں اُجاگر کیا۔ پنڈت نہرو اور شیخ محمد عبداللہ کے باہمی تعلق پر بھی مسٹر لیمب ایک سخت گیر اور منفرد رائے رکھتے تھے، جس کا اظہار اینڈریو وائٹ ہیڈ نے بھی سرسری انداز میں کیا ہے۔ الیسٹر لیمب کی تحقیق پر بھارت کا ناک بھوں چڑھانا فطری تھا۔

کشمیر پر تاریخی، علمی اور تحقیقی کام کرنے والے یہ مؤرخ انتقال کرگئے، مگر اس شخص کی موت پر اُن لوگوں نے خاموشی اختیار کی جو ان کے کام کے حوالے دے کر اپنے موقف کو تقویت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ الیسٹر لیمب ایک عظیم محقق کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ جب بھی تنازع کشمیر کی بنیادوں اور پس منظر پر کوئی محقق اور طالب علم قلم اُٹھائے گا اس کی تحقیق الیسٹر لیمب کے کام کو اہمیت دیے بغیر آگے نہیں بڑھ پائے گی۔ ایسی گراں قدر خدمات کے حامل شخص کی موت کی خبر کا پاکستان میں یوں سرسری اور بے تاثر گزر جانا حیرت انگیز اور ناقابلِ فہم ہے۔