امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اور حافظ نعیم الرحمٰن کی زیر قیادت احتجاج
مولانا ہدایت الرحمٰن کی ”حق دو گوادر کو“ تحریک ایک عوامی تحریک ہے، اور اس پر ماضی میں مظاہرین کے مطالبات کو تسلیم بھی کرلیا گیا تھا لیکن عمل درآمد سے قبل کسی نے کھیل خراب کردیا، اور اب ایک بار پھر بلوچستان کے لوگوں کو جبر کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مولانا ہدایت الرحمٰن کی گرفتاری کا بھی پس منظر اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔
آخر گوادر کے لوگ کیا چاہتے ہیں جس پر ریاست ہٹ دھرمی پر اتر آئی ہے؟ وہ چاہتے ہیں کہ ”گوادر میں یونیورسٹی بنے، وہ چاہتے ہیں غیرقانونی ٹرالرز پر پابندی لگائی جائے، وہ چاہتے ہیں کہ ماہی گیروں کو آزادی کے ساتھ سمندر میں جانے دیا جائے، گوادر میں موجود تمام شراب خانے بند کردیے جائیں، ایران سرحد سے تجارت میں ایف سی اور کوسٹ گارڈ کی مداخلت بند کردی جائے، وفاقی اور صوبائی محکموں میں معذور افراد کے کوٹے پر عمل درآمد کیا جائے، گوادر پورٹ اور سی پیک منصوبوں میں ملازمتوں پر مقامی افراد کو ترجیح دی جائے، گوادر کے تمام علاقوں کو پینے کے لیے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائے جائے“۔ یہ وہ مطالبات ہیں جنہیں ریاست تسلیم کرتی ہے، لیکن پھر معلوم نہیں کیا ہوتا ہے کہ مولانا ہدایت الرحمٰن کے خلاف قتل، اقدام قتل، لوگوں کو تشدد پر اکسانے اور دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ جس پر وکلاء، اہلِ علم اور سیاسی رہنمائوں سمیت سب احتجاج اور مذمت کررہے ہیں۔
اسی پس منظر میں امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر مولانا ہدایت الرحمٰن اور کارکنان کی گرفتاری کے خلاف اور مزدوروں کے مطالبات کے حق میں گوادر سمیت ملک کے بڑے چھوٹے شہروں میں ریلیاں اور جلوس نکالے گئے۔ لاہور میں نکالی جانے والی ریلی میں مزدور یونینز اور دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جن سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت نے یوم مزدور کو گوادر کے مچھیروں، مقامی رہائشیوں اور ہدایت الرحمٰن بلوچ کے نام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر کے لوگوں کے لیے حقوق مانگنے پر ہدایت الرحمٰن 4 ماہ سے جھوٹے مقدمات میں جیل میں ہیں، انہیں رہا کیا جائے، عدالتِ عظمیٰ میں بھی ان کی رہائی کے لیے اپیل دائر کی ہے، امید ہے انصاف ملے گا، بلوچستان کے عوام کو یقین دلاتا ہوں جماعت اسلامی سمیت پورا پاکستان ان کے ساتھ ہے۔ سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں مزدوروں، چھوٹے سرکاری ملازمین اور لیبر کلاس کے مطالبات پورے کیے جائیں۔ انہوں نے خانہ و مردم شماری میں کراچی سمیت دیگر علاقوں کے عوام کے تحفظات کو دور کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 8 کروڑ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی منظم عدالتی نظام نہیں۔ مزدور مرجاتا ہے، بچوں اور بیوہ کی کفالت کا کوئی میکنزم موجود نہیں، سیاسی لیڈر اور حکومتیں طویل عرصے سے مزدوروں اور کسانوں کو دھوکا دے رہے ہیں، حکومتیں آتی اور چلی جاتی ہیں، مزدور کی حالت نہیں بدلتی۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ ”جماعت اسلامی ہی استحصال اور ظلم کے نظام کا خاتمہ کرسکتی ہے۔ مزدوروں، کسانوں اور مظلوم طبقات کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمیں اللہ نے اقتدار دیا تو کارخانوں کے منافع میں مزدوروں کو شریک کیا جائے گا، جاگیردار کی کمائی میں ہاری، کسان اور مزدور کو حق ملے گا۔ مزدوروں، چھوٹے کسانوں، ہاریوں، نوجوانوں کو سرکاری زمینیں دی جائیں گی، بچوں کی بہترین تعلیم کا انتظام کیا جائے گا، سب کو انصاف، چھت اور علاج کی سہولت ملے گی۔ غریبوں، بزرگوں کو کفالت الاؤنس دیا جائے گا۔ امیر جماعت نے کہا کہ ملک پر مسلط ظالم جاگیرداروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کو اندازہ تک نہیں کہ بھوک کیا ہوتی ہے، لوگ آٹے کی لائنوں میں جانیں دے رہے ہیں، بجلی و گیس کے بل غریبوں اور مڈل کلاس کے لیے عذاب کی شکل اختیار کرگئے ہیں۔ مزدور، دیہاڑی دار ماہانہ 18 ہزار بھی نہیں کماتا، بیوروکریسی اور حکمرانوں کی موجیں لگی ہوئی ہیں، یہ اللہ کا نظام نہیں کہ غریب کے گھر غریب اور سرمایہ دار کے ہاں سرمایہ دار پیدا ہو، قوم کے لیے ایک ہی راستہ بچا ہے جو کرپٹ نظام کی تبدیلی کے لیے جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم آئی ایم ایف اور امریکہ کی غلامی اور آزمائے ہوئے لوگوں سے نجات چاہتی ہے، عوام کو الیکشن کے لیے پُرامن اور سازگار ماحول مہیا کرنا سیاسی اسٹیک ہولڈرز کی ذمے داری ہے تاکہ وہ شفاف طریقے سے ووٹ کے ذریعے اپنے لیے وہ قیادت منتخب کریں جو ملک میں حقیقی تبدیلی لا کر اسے کرپشن فری، کلین گرین پاکستان بنائے۔ جماعت اسلامی نے بہت سے مزدوروں کو ٹکٹ دیے ہیں، کسانوں اور مزدوروں کے مسائل تبھی حل ہوں گے جب ان میں سے ہی لوگ منتخب ہوکر ایوانوں میں جائیں گے۔
مولانا ہدایت الرحمٰن کی گرفتاری کے خلاف نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے تحت بھی امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن کی زیر قیادت کوسٹ گارڈ چورنگی، کورنگی سے ابراہیم حیدری جیٹی تک ’’مزدور ریلی‘‘نکالی گئی۔ ماہی گیروں کی بستی میں حافظ نعیم الرحمٰن کا زبردست اور فقیدالمثال استقبال کیا گیا اور گل پاشی کی گئی۔ ماہی گیروں نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا کہ ”محنت کشوں کے ترجمان مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ“، ”ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے“، ”ماہی گیروں کے قائد مولانا ہدایت الرحمٰن کو رہا کرو“، ”ٹھیکیداری نظام بند کرو“۔ ریلی میں ماہی گیروں کے علاوہ محنت کشوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے ’’مزدور ریلی‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم یہ مزدور ریلی ”حق دو گوادر کو“ تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمٰن کے نام کرتے ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو ماہی گیروں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں، حق دو گوادر تحریک مزدوروں کی جدوجہد کے لیے ایک مثال ہے۔ مولانا ہدایت الرحمٰن کی اپیل پر گوادر کے غیور عوام لاکھوں کی تعداد میں گھروں سے نکل کر احتجاج کرتے ہیں، مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے پر حکمرانوں پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ ہم مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر مطالبہ کرتے ہیں کہ محنت کش مزدوروں کے قائد مولانا ہدایت الرحمٰن کو رہا کیا جائے، مزدوروں کے تمام جائز مطالبات کو منظور کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ماہی گیر محنت کرکے زندگی بسر کرتے ہیں، لیکن کسٹم حکام ماہی گیروں سے بھتہ وصول کرتے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مزدور کی اجرت بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حساب سے طے کی جائے، مزدوروں کو باعزت ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہاکہ سندھ میں پیپلز پارٹی 15سال سے حکومت میں ہے، وہ بتائے کہ صوبے میں مزدوروں کو کون سے بنیادی حقوق دیے گئے ہیں؟ صورتِ حال یہ ہے کہ محنت کشوں کو سوشل سیکورٹی میسر نہیں ہے، لاکھوں کی تعداد میں مزدور ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کررہے ہیں، پیپلزپارٹی محنت کش اور مزدور دشمن پارٹی ہے جو انہیں مستقل محروم کررہی ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور وزیر محنت سعید غنی سے سوال کرتے ہیں کہ محنت کش مزدوروں اور سندھ کے ہاریوں کو ان کے حقوق کیوں نہیں دیے جاتے؟ جماعت اسلامی کراچی میں رہنے والے ہر زبان بولنے والے کی جماعت ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ ابراہیم حیدری کے رہائشی بنگالی اور برمی زبان بولنے والوں کے شناختی کارڈ کیوں نہیں بنائے جارہے؟ ہم نادرا حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر بنگالی اور برمی زبان بولنے والوں کے قومی شناختی کارڈ بنائے جائیں۔
نائب امیر جماعت ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنان اور ذمے داران ہمیشہ مزدوروں کے درمیان موجود رہتے ہیں، محنت کشوں کی صحیح معنوں میں ہمدرد اور خیر خواہ صرف اور صرف جماعت اسلامی ہے، وڈیروں اور جاگیرداروں نے مزدوروں کے حقوق بھی غصب کیے ہوئے ہیں، جماعت اسلامی کا میئر منتخب ہوگا تو ماہی گیروں اور مزدوروں کے مسائل بھی حل کرے گا۔

