آدمی میں ”خیال“ کا وصف دراصل ”عرفانی“ ہے
مگر آدمی کا یہ ”خیال“ مادی دنیا میں گھر چکا ہے
’’جب میں ایک ایسے عمل کا تجزیہ کرتا ہوں جسے اس فقرے ’میرا خیال ہے‘ میں بیان کیا گیا ہے، میں جرات مندانہ دعوے کا ایک پورا سلسلہ دریافت کرپاتا ہوں جسے ثابت کرنا مشکل، شاید ناممکن ہو۔ مثال کے طور پر یہ میں ہوں جو یہ سمجھتا ہے کہ ہر قیمت پر کوئی تو ایسا ہونا چاہیے جو سوچتا ہے، جو اپنا خیال ظاہر کرتا ہے، اور سوچ کا عمل اور سرگرمی ایک ایسے شخص کی طرف سے کارروائی ہے جسے ایک وجہ کے طور پر سمجھا گیا ہے۔‘‘ (Beyond good and evil, Nietzsche)
آدمی کو سب سے پہلے کوئی خیال کب آیا؟ ہم اس بارے میں کیا جانتے ہیں؟ آدمی کی خلقت میں یہ اختصاص کیسا ہے؟ آدمی کی تخلیقات میں یہ بے مثل کیوں ہے؟
اس پہلے خیال کا سراغ اناجیل، عہد نامہ قدیم اور جدید میں، اور دیگر کتبِ مقدسہ میں، اور پھر مکمل سند سے قرآن حکیم میں ملتا ہے۔ یہ قصہ آدم علیہ السلام متفقہ طور پر ہر بڑی روایتی تہذیب میں بیان ہوا ہے۔
آدمی کا یہ پہلا خیال یا ’’قوتِ خیال‘‘ پہلے ’’ارادے‘‘ کا نتیجہ تھا۔ ’’ارادہ‘‘ ہمیشہ کی زندگی پالینے یا خدا جیسا بن جانے کا تھا، اور پہلا ’’خیال‘‘ برہنہ جسموں کو چھپانے کا آیا تھا۔ یہ واقعہ اس قدر عظیم استعارہ ہے آدمی کے ’’خیال‘‘ کا، کہ تاریخ ’آدم‘ پر محیط ہے۔ رچرڈ کیئرنی In wake of imagination میں اس خیال کو آدمی کا پہلا ’’ثقافتی اظہار‘‘ قرار دیتا ہے۔ یہ واقعہ اس قدر کثیرالمعانی ہے کہ اصطلاحوں میں انفرادیت اور اختصاص قائم رکھنا ناممکن سا محسوس ہوتا ہے۔ ایک فوری بات اس واقعے سے ذہن میں یہ ابھرتی ہے کہ ’’ارادے کا اختیار‘‘ استعمال کرنا اور تحفظ کا ’’خیال‘‘ آنا ترتیب کے اعتبار سے الٹ تھے، یہ ترتیب پہلے ’’گناہ‘‘ کا سبب بنی۔ اگر تحفظ کا ’’خیال‘‘ ’’ارادے‘‘ پر سبقت لے جاتا تو گناہ سے گریز ممکن ہوسکتا تھا۔ دوسری فوری بات دل میں یہ جاگزیں ہوئی کہ ’’خیال‘‘ دانش مندانہ رویہ ہے جبکہ ’’آزاد ارادہ‘‘ خطرے سے خالی نہیں۔ اگر ارادہ خیال سے مملو ہو تو غلطی کا امکان زیادہ نہیں۔ ایک اور نکتہ آفریں بات یہ کہ آدمی جسم کے تحفظ کا خیال کرتا ہے مگر ارادے کا اختیار غیر محفوظ چھوڑ دیتا ہے۔ غرض قصہ آدم کی ان اصطلاحوں کا مرکب معنی کا اک جہان ہے۔
فلسفہ یعنی ’حکمت سے محبت‘ کا سارا سفر ’’خیال‘‘ اور ’’آزاد ارادے‘‘ کے گمان کا سفر ہے۔ سقراط سے نطشے تک بہت سوں نے اس ’’خیال‘‘ کو مقدم خیال کیا، اور بہت سوں نے اسے آزاد ارادے سے کمترگُمان کیا۔ نطشے نے سب تہہ و بالا کردیا۔ وہ ماورائے خیر و شر میں لکھتا ہے: ’’اپنے اندر سے پیدا ہونے والی چیز، خود تضادیت کی بہترین مثال ہے جس کا اب تک تصور کیا گیا ہے، یہ منطق کے بگاڑ اور تحریف کی ایک قسم ہے، لیکن انسان کے غیر معمولی فخر نے اسے محض اس بے وقوفی میں بہت زیادہ ملوث اور گرفتار کردیا ہے۔ تفصیلی مابعدالطبیعاتی حوالے سے ’’خواہش کی آزادی‘‘ کی آرزو جو ابھی تک موجود ہے، بدقسمتی سے نیم خواندہ لوگوں کے اذہان میں نقش ہوتی ہے، یہ خواہش کہ اپنے اعمال کی تمام تر ذمہ داری قبول کی جائے اور خدا، دنیا، آبا ؤ اجداد کو ترک کردیا جائے کہ معاشرہ صرف اور صرف محض اپنے اندر سے پیدا ہونے والی کوئی چیز ہے، یعنی عدم وجود سے وجود میں آیا جائے، فرض کریں کہ ایک شخص ’’آزاد خواہش‘‘ کے مشہور تصور کی غیر مہذب سادگی کے ذریعے اپنی خواہش پر نظر ڈالتا ہے اور اسے اپنے ذہن سے قطعی طور پرباہر نکال دیتا ہے۔ میں اس سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ روشن ضمیری کو ایک قدم آگے لے کر جائے، اور ’’آزاد خواہش‘‘ کے اپنے اس ہیبت ناک تصور کے برعکس اسے اپنے ذہن سے باہر نکال دے۔‘‘ ذرا آگے بڑھیں، ہماری ملاقات سارتر سے ہوتی ہے، جو کہتا ہے: ’’اگر انسان خود کو نظریہ وجودیت کا پیرو ہونے کی حیثیت سے قابلِ تشریح نہیں پاتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا آغاز عدم وجود سے ہوا۔‘‘ یہ قول محض وجودیت کے پیروکاروں پرہی نہیں، سب انسانوں پر یکساں ثابت ہے۔ گو کہ یہ موضوع جس عرض و عمق کا متقاضی ہے، مضمون میں باندھنا محال ہے۔ غرض، ایک حیرت کدہ وہ زاویہ بھی ہے جسے غلام جیلانی برق ’من کی دنیا‘ میں جدید تحقیق سے محقق کرتے ہیں، کہ انسانوں کے خیالات کی لہریں باہم تعامل کرتی ہیں، پیغامات کا سلسلہ قائم کرتی ہیں، اور تاریخ آدم میں تشکیلی کردار ادا کرتی ہیں۔ یعنی عدم ’’خیال‘‘ کے رستے آدمیوں میں ’’وجود‘‘ کی وحدانیت قائم کرتا ہے۔
اختصار سے آدمی کا ’’خیال‘‘ سمیٹنے کی سعی کرتے ہیں۔ یقیناً موجودات عالم میں آدمی کی ’قوتِ تخیل‘ واحد معلوم شے ہے، جو بظاہر عام مشاہدے میں تاریخ کا واحد ’شعوری تخلیقی عمل‘ ہے، یعنی اگر آدمی کا خیال (فکر، سوچ) اور ارادہ تاریخ سے محو کردیا جائے، یا اسے حیوانات یا نباتات کی سطح پر لایا جائے تو تبدیلی کا وہ سارا عمل رک جائے گا، جسے ’’تاریخِ آدم‘‘ کہا جاتا ہے۔
آدمی میں خیال آیا کہاں سے ہے؟ اس کی فطرت، ہیئت، اور اہلیت کیا ہے؟ اور تحریر میں اس کا کردار کس نوعیت کا ہے؟
مذکورہ مذہبی اور غیرمذہبی حوالے متفق ہیں کہ خیال ’’عدم‘‘ سے وجود میں آیا۔ آدمی اپنے خیال کی تشریح میں اپنے وجود کی تشریح کا محتاج ہے۔ اُسے خیال کی خلقت تک پہنچنے کے لیے ’’عدم‘‘ میں جانا ہوگا، اور یہ ’’عدم‘‘ سوائے ذریعہ ’’وحی‘‘ کہیں دستیاب نہیں۔ غالب نے کہا ہے:
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے
آدمی کی تحریر اور تقریر میں مصنف اور مقرر کا کردار کیسا اور کتنا ہوتا ہے؟ تاریخ آدم کے مؤثر ترین خطیب انبیا رہے ہیں، اور اُن کا متفقہ مؤقف یہ رہا ہے کہ وہ اپنے پاس سے کچھ نہیں کہتے، وہ صرف وہی کہتے ہیں جو خدا انہیں کہنے کے لیے کہتا ہے۔ تحریر کے بارے میں، جدیدیت کے بعد کا معروف فلسفی رولاں بارت اپنی تصنیف ’مصنف کی موت‘ میں دعویٰ کرتا ہے۔۔ کہ تحریر خود کو لکھواتی ہے۔۔۔ مصنف نہیں لکھتا۔۔۔ یہ کافی دلچسپ ہے۔۔۔
کتاب ’ما بعد تصور‘ میں رچرڈ کیئرنی نے آدمی کے تصور (تخیل اور ارادے) کی پوری تاریخ عمدہ مطابقت اور مناسبت سے محقق کی ہے۔ یہ تاریخ عہد نامہ قدیم و جدید، فلسفہ، سائنس، اور ٹیکنالوجی کے سارے مراحل سے گزرتی ہے، یہاں تک کہ ’تہذیب تصور‘ تصویروں کی تہذیب (اسمارٹ فون کلچر) میں سمٹ آتی ہے، جس سے نتیجہ یہ نکلتا ہوا محسوس ہوتا ہے کہ آدمی کا تصور، تفکر، اور ارادہ خدائی اوصاف ہیں۔۔۔ یہ عدم سے آدمی کے ذہن و دل میں وجود پاتے ہیں، جن کا ایک حصہ آدم کو روحِ خدا کی صورت بخشا گیا ہے۔ یہی آدمی کے ’’خیال‘‘ کا اختصاص ہے کہ معلوم موجودات میں اورکوئی اس ’’قوتِ خیال‘‘ سے متصف نہیں ہے۔
آدمی کی تخلیقات میں یہ اس لیے بے مثل ہے کہ بظاہرکسی دستیاب مواد سے تیارنہیں کیا جاتا بلکہ عدم سے وجود میں آتا ہے، اوریہ عدم یا غیب ممکنہ طورپروہ ’’علم‘‘ ہوتا ہے جسے سقراط ’’حافظہ‘‘ کہتا ہے۔ گویا آدمی یہ بے مثل وصف لے کرپیدا ہوتا ہے مگراس کا ’’عدم‘‘ سے ’’وجود‘‘ کا سفریاددہانی اورغوروفکرسے طے ہوتا ہے، جیسا کہ قرآن حکیم بار بارکہتا ہے ’’غوروفکرکرو‘‘۔ سقراط کہتا ہے ’’خود کوجانو‘‘، یعنی یہ عدم آدمی کے اندرموجود ہے اوروحی سے وجود میں ظاہرہوجاتا ہے۔
مدعا یہ ہے کہ آدمی میں ’’خیال‘‘ کا وصف دراصل ’’عرفانی‘‘ ہے، اس لیے اسے مادے کی قید سے نجات دلائی جائے۔
مگرافسوس صورتِ حال پرہے کہ جس میں آدمی کا یہ ’’خیال‘‘ مادی دنیا میں گھرچکا ہے۔

