(مکاتیب کے خصوصی حوالے کے ساتھ)
جمال عبدالناصر نے اخوان المسلمون پر آزمائشوں کے سخت پہاڑ توڑے تھے- اخوان پر پابندی، سید قطب اور ان کے ساتھیوں کو پھانسی اور نہ جانے کتنے دل دوز واقعات اُس کے عہدِ حکمرانی سے جڑے ہوئے ہیں۔ جمال عبدالناصر کا انتقال ہوا تو اُس وقت بعض سیاسی مجبوریوں کے تحت مولانا مودودیؒ نے بھی ایک تعزیتی پیغام جاری کردیا تھا، اس تعزیت کے سلسلے میں فطری طور پر تحریک سے متعلق دوسرے لوگوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صدیقی کو بھی سخت اعتراض ہوا۔ چنانچہ ڈاکٹر صدیقی کے ایک خط کے جواب میں 10 اکتوبر 1970ء کو مولانا مودودیؒ اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہاں کے حالات اس کے مقتضی تھے کہ چند محتاط الفاظ میں صدر ناصر کی وفات پر تعزیت کا تار دے دیا جائے۔ یہاں جن گروہوں سے ہمیں سابقہ درپیش ہے وہ میری خاموشی کو ایک نئے مخالفانہ پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے‘‘۔ (حوالہ سابق، صفحہ 48)
1972ء میں ڈاکٹر صدیقی ایک پروگرام کے تحت امریکہ گئے، وہاں سے بھی مولانا مودودی کے ساتھ آپ کی ایک اہم خط کتابت ہوئی، اس دوران مولانا مودودی نے ڈاکٹر صدیقی کے نام اپنے خط میں مغربی ممالک کے تناظر میں تحریکِ اسلامی کی کچھ اہم ضرورتوں اور وہاں موجود مسلمانوں سے متعلق کچھ اہم پہلوئوں کی نشاندہی کی، اورڈاکٹر صدیقی سے مطالبہ کیا کہ وہ وہاں موجود مسلم طلبہ ونوجوانوں کی اس سلسلے میں ذہن سازی کی کوشش کریں، لکھتے ہیں:
’’امر یکہ اور کینیڈا میں مسلمان نوجوانوں کی ایک بہت اچھی اور کارآمد طاقت جمع ہے۔ان لوگوں سے مل کر انہیں اس بات پر آمادہ کیجیے کہ ہندوستان وپاکستان اور فلسطین کے مسائل پر محض غم و غصے سے کام نہیں چل سکتا، اور نہ ہی ساری قوتیں اور وسائل انہی مسائل پر صرف کردینا مناسب ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اپنی قوتوں اور وسائل کو جمع کر کے ایک ایسا نظام بنائیں جو ایک طرف تحقیقی مواد (اسلام کے متعلق بھی اور مسلمان ملکوں کے مسائل کے متعلق بھی) مر تب کرے،اور دوسری طرف ان چیزوں کی اشاعت کا بھی انتظام کرے۔جب تک خود اپنا کوئی دارالاشاعت نہ بنالیا جائے، کام نہیں چل سکے گا۔ کیونکہ امریکہ اور کینیڈا کے اشاعتی وسائل ہمارے ساتھ تعاون تو درکنار تجارتی بنیاد پر بھی معاملہ کرنے کے لیے تیار نہ ہو سکیں گے۔ یہی حال یورپ کا بھی ہے، لندن میں ایک مستقل مرکزِ تحقیق و اشاعت قائم ہونا چاہیے جو یورپ میں اس کام کو انجام دے‘‘۔(حوالہ سابق، صفحہ 50)
نئے ہندوستان میں نیا رخ اور نیا طریقہ کار:
تقسیم ہند کے بعد 1948ء میں ہندوستان میں جماعت اسلامی ہند کے نام سے جماعت اسلامی کی تشکیلِ نو تو ہوگئی، نئی قیادت اور نیا سسٹم بھی وجود میں آگیا، لیکن ذہن وہی رہا جو تقسیم سے پہلے کے ماحول میں تیار ہوا تھا، اور لٹریچر بھی وہی رہا جو تقسیم سے پہلے وجود میں آیا تھا۔ یہ لٹریچر ایک قسم کی منفی ذہنیت اور موجود نظامِ حکومت کے بائیکاٹ کا مزاج فروغ دے رہا تھا، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے اپنی تحریروں میں اس لٹریچر اور اس مزاج کو شدید انداز میں رد کرنے اور ہندوستان کے تناظر میں ازسرنو اپنی پوزیشن طے کرنے پر خاصا زور دیا ہے۔ اس سلسلے میں جہاں انہوں نے دیگر علماء اور مفکرین کے نام خطوط لکھے، ان کے ساتھ مختلف مواقع پر مباحثے کیے، وہیں انہوں نے اس سلسلے میں ایک بہت دوٹوک خط مولانا مودودی کے نام بھی لکھا تھا، یہ خط قدرے طویل ہے، البتہ اس کا ابتدائی حصہ یہاں نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، ڈاکٹر صدیقی 14اکتوبر 1972ء کو مولانا مودودی کے نام اپنے خط میں لکھتے ہیں:
’’اپنے ملک کی نسبت سے تحریک اسلامی کے مفادات ومصالح ملک کے موجودہ نظام سے کنارہ کشی یا بے تعلقی کے بجائے ایک ایجابی رویہ اور شرکت کے متقاضی نظر آتے ہیں۔ ہندوستان میں ہمارا اصل کام دعوت کا کام ہے اور اس کی خاطر مسلمانوں کی اصلاح و تربیت مطلوب ہے۔ تحریکِ اسلامی کی علَم بردار مسلم اقلیت کا رول یہی ہوسکتا ہے کہ وہ برادرانِ وطن کو اسلام سے روشناس کرائے۔ اپنے حسنِ عمل سے اسلام کی خوبیوں پر گواہ بن کر رہے اور ساتھ ہی ملک کی معاشرت، معیشت، سیاست سب کی تشکیل میں اسلامی قدروں کے قبول اور فروغ کے لیے کوشاں رہے۔ یہ کام شرکت اور فعال طریقے سے موجودہ نظام کو اپنے لیے قوت اور سماجی اثر حاصل کرنے کا ذریعہ بنا کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ کنارہ کشی سے ربطِ عام اور موثر طریقے پر ربط کے مواقع ختم ہوجاتے ہیں۔ پھر ظاہر ہے کہ سارے مسلمان اجتناب و بے تعلقی کے طریقے پر عمل کر ہی نہیں سکتے، چنانچہ تحریک کا اس مؤقف پر اصرار مسلمانوں سے بھی علیحدگی کا سبب بنتا ہے۔ جس زمانے میں ہمارے لٹریچر میں اس مؤقف کے حق میں لکھا گیا تھا اُس وقت متحدہ ہندوستان کا سیاسی مستقبل زیر بحث تھا۔ اس بحث میں اسلامی نقطہ نظر کی ترجمانی اور اس سیاق میں اُس وقت کے نظام کے سلسلے میں رویّے کی وضاحت کی گئی تھی۔ اب وہ سیاسی مسئلہ ایک خاص طور پر طے پاچکا اور ہم تاریخ کے ایک مختلف مرحلے میں داخل ہوچکے۔ اس مرحلے میں دعوتِ اسلامی اور اس کے تقاضوں کو ہی نظامِ وقت کی طرف سے ہمارے رویّے کی تشکیل کرنا چاہیے، نہ کہ ہمارے سابق مؤقف کو۔ میں اس مسئلے میں آپ کی رائے اس لیے جاننا چاہتا ہوں کہ سابق مؤقف آپ ہی کا بیان کیا ہوا ہے، اور اکثر سند کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کیا آپ اس پوری بات کو ہر ملک، ہر زمانے، ہر حالت کے لیے کی گئی بات کا درجہ دیتے ہیں یا نئے حالات میں ازسرنو سو چنے کی ضرورت محسوس کریں گے۔ چونکہ دنیا کے بہت سے اُن ممالک میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں تحریکِ اسلامی کی داغ بیل پڑ رہی ہے، اس لیے اس مسئلے پر رائے قائم کرنے کی ایک اصولی اہمیت بھی ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر ہر جگہ ہمارے کارکن نظام وقت سے اجتناب کو اس معنی میں ضروری سمجھتے رہے جیسا کہ ہم نے ہندوستان میں سمجھا تو وہ وسائل سے محروم، بے اثر اور عام زندگی سے کٹ کر رہ جائیں گے‘‘۔ (حوالہ سابق، صفحہ 51-52)
اس خط کے جواب میں مولانا مودودیؒ نے جہاں کئی اہم اصولی باتوں کی طرف رہنمائی کی ہے، وہیں ایک اہم اور اصولی بات یہ بھی کہی کہ ’’ان تمام مختلف حالات میں چند بنیادی اصول تو یکساں رہیں گے لیکن ہر جگہ کے حالات کے لحاظ سے عملی طریقوں میں فرق کرنا پڑے گا۔ میں نے جو کچھ بھی لکھ دیا ہے اس کو تمام حالات کے لحاظ سے اگر حرفِ آخر سمجھ لیا گیا تو بے شمار مشکلات پیدا ہوں گی‘‘۔ (حوالہ سابق، صفحہ 55)
اسلامک ریسرچ سرکل اور اسلامک تھاٹ کا آغاز:
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم ثانوی درسگاہ سے فارغ ہوئے تو ثانوی درسگاہ کے اپنے ساتھیوں اور کچھ دوسرے تحریکی رفقاء کے ساتھ مل کر’’اسلامک ریسرچ سرکل‘‘کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے کے ڈائریکٹر مولانا صدر الدین اصلاحی مرحوم بنائے گئے اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ہوئے۔ اس ادارے کا ایک اہم مجلہ ’’اسلامک تھاٹ‘‘کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے ایڈیٹر سید زین العابدین صاحب تھے اور معاونین میں ڈاکٹر عبدالحق انصاری مرحوم، ڈاکٹر عرفان احمد خان مرحوم (شکاگو) اور ڈاکٹر فضل الرحمٰن فریدی مرحوم تھے۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم اس ادارے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں:
’’ہمارا مقصد تحریکِ اسلامی ہند کے لیے افکارِ تازہ کی تلاش وجستجو تھا، ہم نے نئے انداز پر سوچنے کی دعوت دی، اور الحمدللہ یہ رسالہ کافی مقبول ہوا‘‘۔ (ماہنامہ رفیق منزل، نومبر 2012ء)
تقریباً پندرہ سال کی اشاعت کے بعد یہ رسالہ بھی بند ہوگیا اور یہ ادارہ بھی نہیں چل سکا۔ ڈاکٹر صدیقی کہتے تھے کہ اس کے بند ہونے کی وجہ ہم ساتھیوں کا یکے بعد دیگرے مختلف ممالک کی طرف منتقل ہوجانا تھا۔
اسلامک تھاٹ کی فائلیں آج بھی بعض جگہوں پر موجود ہیں، ان کا اس پہلو سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اُس زمانے میں تحریک کے ان تازہ دم نوجوانوں نے فکرِ اسلامی کے کن نئے پہلوئوں کو موضوعِ گفتگو بنایا تھا اور وہ کس قدر تحریکِ اسلامی ہند پر اثرانداز ہوسکے تھے۔
جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ میں:
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم 1964ء میں جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے اور تقریباً 1980ء تک یعنی سعودی عرب منتقل ہونے کے دوسال بعد تک رکن شوریٰ رہے۔
شوریٰ میں ڈاکٹر صدیقی کا اندازِ فکر بہت ہی جداگانہ تھا، وہ کہتے تھے کہ مولانا مودودی نے انگریزوں کے زیر تسلط غیرمنقسم ہندوستان میں جو اندازِ فکر دیا تھا تقسیم کے بعد ہمارے ملک کی نوعیت، یہاں پر ہماری پوزیشن اور عالمی سطح پر تبدیل ہوتے حالات میں اس کو من وعن تسلیم کرلینا کسی طور پر مناسب نہ ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلسِ نمائندگان اور مرکزی مجلسِ شوری میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کے رول اور کردار پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’تصنیفات کے ساتھ ساتھ، اس محاذ پر ان کا بڑا کنٹری بیوشن وہ کردار ہے جو وہ جماعت کی فیصلہ ساز مجالس میں ادا کرتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم اُس دستور ساز مجلسِ نمائندگان کے رکن تھے جس نے ملک کی آزادی کے بعد جماعت اسلامی ہند کے پہلے دستور کی منظوری دی تھی۔ غالباً 1965ء سے بیرونِ ملک منتقلی تک وہ مسلسل مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ بیرونِ ملک منتقلی کے بعد بھی جماعت کی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں وہ ممکنہ حد تک کنٹری بیوٹ کرتے رہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ کی نشستوں میں ان کی شرکت بھرپور تیاری کے ساتھ ہوتی تھی۔ شوریٰ کی رودادوں میں ان کے جو مقالات اور تجاویزملتی ہیں ان کو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تجاویز اور مباحث کبھی بھی برجستہ یا محض ذاتی وجدان اور تجربے کی بنیاد پر نہیں ہوتے بلکہ وہ موضوع سے متعلق سنجیدہ تحقیق اور گہرے مطالعے کے بعد ہی کوئی رائے قائم کرتے۔ ان کی تقاریر بھی اور شوریٰ ودیگر مشاورتی محفلوں کی پیشکش بھی، ہمیشہ مکمل تحریری صورت میں ہوتی۔ تربیتی پروگراموں میں بھی ان کی تقریروں کا ڈرافٹ مکمل طور پر لکھا ہوا اور محنت سے تیار کیا ہوا ہوتا۔ قرآن وسنت اور اسلام کی اساسیات کے ساتھ ساتھ، تحریک کی پالیسی سازی کے لیے انہوں نے معاصر علوم سماجیات، سیاسیات، عمرانیات وغیرہ سے بھرپور استفادہ کیا۔ معاشیات تو ان کا اصل میدان تھا ہی۔ ان سنجیدہ کوششوں سے ہندوستان کی اسلامی تحریک کے لیے بدلے ہوئے حالات میں قابلِ عمل اور مفید لائحہ عمل کی تشکیل میں انہوں نے اہم رول ادا کیا۔‘‘
ڈاکٹر حسن رضا جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن، اور اسلامی اکیڈمی نئی دہلی کے چیئرمین ہیں، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کی وفات پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ان سے میری پہلی تفصیلی ملاقات آج سے 45 برس پہلے بھوپال کے خصوصی اجتماع مئی1977ء میں ہوئی تھی، جب انہوں نے اپنا قیمتی مقالہ ’’ہندوستان میں اقامتِ دین کی راہ‘‘پیش کیا تھا، جس میں انہوں نے پہلی دفعہ ’’اقامتِ دین کی تشریح و تعبیر میں معاشرے کی تعمیر کی اہم کڑیوں سے سرسری گزر کر ریاست کی تشکیل کو اقامتِ دین کا مصداق سمجھ لیا جاتا ہے‘‘ پر نقد کیا تھا، نیز سماجی قوت اور سیاسی قوت میں کیا رشتہ ہے، اخلاقی قوت اور سماجی قوت میں کیا تعلق ہے، نظریاتی انقلاب اور سیاسی انقلاب کا سفر کیسے طے پاتا ہے، قوت کے ذیلی مراکز پر اثرانداز ہونے کی کیا تدبیریں ہیں، ان سب پر سیر حاصل بحث کی تھی۔ اُس وقت یہ باتیں جماعت اسلامی کے داخلی حلقوں میں تازہ افکار کا ایک خوشگوار جھونکا معلوم نہیں ہوتی تھیں بلکہ بحث کا موضوع بنی ہوئی تھیں۔کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم نے تحریک اسلامی کی آئیڈیالوجیکل بحث کی نشوونما میں کلیدی رول ادا کیا۔ مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں بھرپور تیاری سے وہ شریک ہوتے تھے۔ مولانا سید حامد علی مرحوم نے مجھ سے ایک دفعہ کہا تھا کہ ارکانِ شوریٰ میں سب سے زیادہ مطالعے اور ایجنڈے کے مطابق علمی تیاری کرکے نجات اللہ صدیقی آتے ہیں‘‘۔
1977ء میں ارکانِ جماعت سے ایک فکرانگیز خطاب:
1977ء میں جماعت اسلامی ہند کے ارکان کے لیے ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے ایک بہت ہی فکرانگیز مقالہ لکھا تھا، یہ مقالہ پہلی بار عوامی استفادے کے لیے ماہنامہ ’’زندگی نو‘‘ دسمبر 2022ء کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اس مقالے کا عنوان ہے’’ملک کا موجودہ نظام اور تحریک اقامتِ دین‘‘، اس مقالے میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ہندوستان میں اقامتِ دین کی راہ میں درپیش تین رکاٹوں کو بیان کرنے کے بعد اس تناظر میں تین نکاتی دعوتی پروگرام پیش کرتے ہیں، اور پھر ’’موجودہ نظام کے سلسلے میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیے؟‘‘پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں۔ اس مضمون کا آخری حصہ گرچہ کچھ طویل ہے، لیکن اس پوری بحث کا ایک اچھا خلاصہ کہا جاسکتا ہے، لکھتے ہیں:
’’آخری بات یہ ہے کہ یہ محض خوش فہمی ہے کہ موجودہ نظام کے سلسلے میں ہمارا رویہ آج بھی وہی ہے جو 1941ء میں تاسیسِ جماعت کے وقت سوچا گیا تھا۔ حالات کے دباؤ، تحریک کے مصالح کے تقاضوں اور وقتی اجتہادات کے تحت لاتعداد جزئیات میں ہمارا رویہ بدل چکا ہے، جس سے اپنوں اور دوسروں کی نظر میں اب ہماری تصویر وہ نہیں رہ گئی ہے جو 1941ء اور مابعد کے قریبی زمانے میں تھی۔ اس کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ صرف چند یہ ہیں:
ملازمت، جدید تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا، عدالتی چارہ جوئی، حکومت کی انتظامیہ سے اپنے کاموں میں مدد چاہنا، حکومت کی انتظامیہ کو اپنا تعاون پیش کرنا، بینکوں میں حساب رکھنا یا ارکانِ حکومت اور ارکانِ مجالسِ قانون ساز سے ربط رکھنا، انتخابات میں رائے دہی کی مخالفت نہ کرنا۔ یہ آٹھوں مثالیں ایسی ہیں جن کے بارے میں یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ جماعت بننے کے بعد ابتدائی چند برسوں تک ہمارا رویہ انتہائی شدید تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا؟ مجھے اطمینان ہے کہ ایسا کسی کمزوری یا مداہنت کی علامت نہیں بلکہ ٹھیک ہوا۔ یہ ہماری مخصوص نفسیات ہے کہ ہم جزوی اجتہاد کر گزرتے ہیں مگر کلی اجتہاد اور رویّے کی تبدیلی سے، جس کے حالات متقاضی ہیں جھجکتے ہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ جھجک خوفِ خدا کی وجہ سے کم ہے، انسانوں کے خوف اور لومۃ لائم کے اندیشے سے زیادہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مذکورہ بالا جزوی تبدیلیوں نے ہماری جماعت کو بھی اور عامۃ المسلمین کو بھی اس کے لیے پوری طرح تیار کردیا ہے کہ ہم موجودہ نظام کے سلسلے میں اپنا رویہ بدل دیں اور وہ رویہ اختیار کرلیں جو میں نے تجویز کیا ہے۔ اگر مناسب افہام وتفہیم کے ساتھ ایسا کیا جائے تو نہ اس سے جماعتی صفوں میں کسی انتشار کا اندیشہ ہے، نہ دوسرے مسلمان طبقوں کی طرف سے کسی دیرپا ناخوش گوار ردعمل کا‘‘۔
انتخابات میں شرکت منصوص علیہ مسئلہ ہے یا مجتہد فیہ:
جماعت اسلامی ہند کی تاریخ میں جو مسئلہ سب سے زیادہ زیر بحث رہا وہ انتخابات میں شرکت کا مسئلہ تھا، اس مسئلے پر بہت سی بزرگ اور قدآور شخصیات نے جماعت سے علیحدگی اختیار کی۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اس مسئلے پر جماعت میں کھل کر گفتگو کرانا چاہتے تھے کہ اس مسئلے کی نوعیت کو طے کرلیا جائے کہ یہ مسئلہ منصوص علیہ ہے یا مجتہد فیہ ہے۔ اپریل 1986ء میں مولانا ابواللیث اصلاحی صاحب ایک بار پھر امیر جماعت منتخب ہوئے، اس موقع پر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے جدہ سعودی عرب سے مولانا ابواللیث صاحب کے نام ایک خط لکھا تھا، اس خط میں اس بات پر پورا زور دیا کہ اس مسئلے پر بحث ومباحثے کے بعد ایک نتیجے تک پہنچنا اب بہت ضروری ہوگیا ہے، لکھتے ہیں:
’’نئی میقات میں جماعت اسلامی ہند کی امارت کے لیے آپ کے ازسرنو انتخاب سے اطمینان ہوا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کی سرپرستی اور رہنمائی میں جماعت کو متحد رکھے اور باوجود صحت کی کمزوری کے اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں آپ نے جس ذمہ داری کو قبول کیا ہے اس کی ادائی کی قوت و توفیق دے، وما ذلک علی اللہ بعزیز۔
ڈاکٹر ضیاء الہدیٰ صاحب اور مولانا یوسف صاحب کے آپ کے نام خطوط اور رودادِ شوری 1984-85ء مجھے حال ہی میں ملے۔ ان کے مطالعے کے بعد مجھے اپنی اس سابقہ رائے اور تجویز کو دوبارہ آپ کے سامنے دہرانے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے کہ مسئلہ مختلف فیہ کو ’رسالہ زندگی‘ میں کھل کر زیر بحث آنے کی نہ صرف اجازت دیجیے بلکہ اہتمام کیجیے۔ کیوں کہ مسئلے کا ایک پہلو جو کسی وقت بھی جماعت کے اتحاد کے پارہ پارہ ہونے کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر جب اسے جوڑے رکھنے کے لیے آپ جیسی شخصیت نہ موجود رہ جائے، یہ ہے کہ بعض لوگوں کو فیصلے کے مقررہ طریقوں پر اعتماد باقی نہیں رہ گیا ہے۔ بلکہ وہ اس کو اس طریقے سے فیصلہ کیے جانے سے بالا وبرتر منصوص کا درجہ دیتے ہیں۔ جو پہلو ’زندگی‘ میں تحریروں کے ذریعے منتج ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ مسئلہ مختلف فیہ منصوص علیہ ہے یا مجہتد فیہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مولانا صدرالدین اصلاحی صاحب، مولانا عروج قادری صاحب وغیرہ کھل کر اس بحث میں حصہ لیں تو شاید یہ مسئلہ صاف ہوجائے، اور اگر سب کو بشمول ڈاکٹر ضیاء الہدیٰ صاحب، مولانا یوسف صاحب اور بعض ارکان جماعت اترپردیش، مسئلے کی اجتہادی نوعیت پر اطمینان ہوجائے تو پھر ان کو اور سب کو اس اصل پر متحد رکھا جاسکتا ہے کہ وحی ورسالت کا دروازہ بند ہوجانے کے بعد ہم انسان یہی کرسکتے ہیں کہ فیصلہ کرنے کے شرعی طریقوں کا جنھیں ہم نے اپنے دستور میں درج کر رکھا ہے، التزام کرتے ہوئے جب جو فیصلہ ہوجائے اس کے تحت جماعت کو چلائیں اور اس سے وابستہ رہیں‘‘۔ (اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 80)
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی انتخابات میں شرکت کے مسئلے کو ایک اجتہادی مسئلہ قرار دیتے تھے، اور کہتے تھے کہ اس مسئلے کی نوعیت کا تعین بہت سے اختلافات کو ازخود ختم کردے گا۔
صحیح بات یہ ہے کہ بہت سی باتوں کو منصوص سمجھ کر لوگ ان سے اس طرح چمٹ جاتے ہیں کہ ان میں ذرا سی بھی تبدیلی گوارا نہیں کرتے۔ جماعت اسلامی کے نصب العین کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ حکومتِ الٰہیہ کے الفاظ کو تبدیل کرتے ہوئے اقامتِ دین کے الفاظ کو اختیار کیا گیا تو اس پر نہ جانے کتنے تنقیدی مضامین اور کتابیں لکھی گئیں اور یہ باور کرایا گیا کہ جماعت اپنے نصب العین سے انحراف کررہی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریکِ اسلامی اور سید مودودی کے یہاں اصل تصور دین ہے جو منصوص ہے۔ حکومتِ الٰہیہ یا اقامتِ دین کا لفظ اختیار کرنا ایک اجتہادی عمل ہے جو بہرحال تبدیلی کے امکانات رکھتا ہے۔
جماعت اسلامی ہند کی پالیسی اور رخ:
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی تحریکِ اسلامی ہند کی پالیسی، پروگرام، رخ، طریقہ کار اور مستقبل کے سلسلے میں ہمیشہ فکرمند رہا کرتے تھے، مولانا سراج الحسن صاحب اپریل 1999ء میں تیسری بار امیر جماعت منتخب ہوئے، اس وقت ڈاکٹر صدیقی جدہ سعودی عرب میں مقیم تھے، وہاں سے آپ نے مولانا سراج الحسن صاحب کو ایک بہت ہی فکرانگیز خط لکھا، اس خط کا درج ذیل حصہ تحریک اسلامی ہند سے متعلق ڈاکٹر صدیقی کی پوری فکر کو بیان کردیتا ہے، لکھتے ہیں:
’’آپ نے گزشتہ آٹھ سالوں میں تحریک کو جو نیار خ دیا ہے اس میں زیادہ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اپنے مسائل اور خیالات میں الجھنے اور ڈوبے رہنے کے بجائے پورے ملک کے لیے سوچنے اور کچھ کرنے کی جو رسم آپ نے ڈالی ہے اس میں مزید وسعت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
ہم اصلاً تو سب میں خدا کی پہچان پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن اکثر اوقات ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ جن افراد سے ہم مخاطب ہیں ان کو غربت و افلاس، مرض اور جہالت نے ایسا توڑ دیا ہے کہ سر اٹھانے، بات سننے اور سوچنے کا حوصلہ باقی نہ رہا۔ ایسی صورت میں ان کو صرف خطبے سنانا، اگر وہ پڑھ سکتے ہوں تو کتابیں دینا کارگر نہ ہوگا، ان کو حفظانِ صحت کی باتیں بتانا، علم سکھانا اور کوئی ہنر سکھا کر روزی کمانے کا راستہ دکھانا، دعوت کے تقاضوں میں سمجھا جانا چاہیے۔
میرا تاثر یہ ہے کہ جماعت کے بہت سے لوگ یہ بات سمجھتے تو ہیں مگر اس کو زبان پر لانا اپنی روایات کے خلاف سمجھتے ہیں، بہرحال اس پر بات چیت ہونی چاہیے تاکہ عقل کی رہنمائی روایات کی پابندی کے مقابلے میں اپنا صحیح مقام حاصل کرسکے۔‘‘(اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 332)
کُل ہند طلبہ تنظیم سے متعلق واضح مؤقف:
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی جماعت اسلامی ہند کی دستوری سرپرستی میں کُل ہند طلبہ تنظیم کے قیام کے حق میں نہیں تھے۔ ڈاکٹر صدیقی کہا کرتے تھے کہ ’’سیمی کی سرپرستی چھوڑدینے کا نتیجہ اچھا نہیں رہا، وہ لوگ دوسروں کے بہکاوے میں آکر بھٹک گئے‘‘۔ (ماہنامہ رفیق منزل، ستمبر 2011ء)
مرکزی مجلس شوریٰ کی جانب سے جب ایس آئی او آف انڈیا کی تاسیس کا فیصلہ ہوگیا، اُس وقت 18 اپریل 1982ء کو ڈاکٹر صدیقی نے جدہ سعودی عرب سے امیر جماعت اسلامی ہند مولانا ابواللیث اصلاحی کے نام ایک طویل خط لکھا، جس میں اس فیصلے سے متعلق اپنے تحفظات کو تفصیل سے مدلل طور پر بیان کرنے کے بعد آخر میں لکھتے ہیں:
’’مذکورہ بالا عرض داشت کی روشنی میں میری تجویز ہے کہ مجوزہ تنظیم کے دستور میں جماعت کی سرپرستی کی وضاحت اور تعیین نہ کی جائے اور کسی لفظ سے بھی اس تنظیم کا رسمی طور پر جماعت سے منسلک ہونا نہ ظاہر ہو‘‘۔ (اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 76)
(جاری ہے)

