منکی پاکس صحتِ عامہ کے لیے خطرہ نہیں

عالمی ادارئہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ تقریباً ایک سال قبل بین الاقوامی سطح پر پھیلنے والا منکی پاکس وائرس اب صحتِ عامہ کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ منکی پاکس وائرس عوامی سطح پر اب تشویشناک نہیں ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ کام ختم ہوگیا ہے۔
ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی طرح ہی منکی پاکس ابھی بھی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے جس کے لیے مضبوط، فعال اور پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ جولائی میں یہ وائرس تیزی سے پھیل رہا تھا لیکن ممالک کے جلد اور مؤثر اقدامات سے اس پر بہت حد تک قابو پالیا گیا جو کہ ڈبلیو ایچ او کے لیے حوصلہ افزا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں 111 ممالک سے 87,000 سے زیادہ کیسز اور 140 اموات کی اطلاع ملی تھی لیکن 3 ماہ کے دوران گزشتہ 3 مہینوں کے مقابلے میں 90 فیصد کم کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ منکی پاکس وائرس جسمانی رطوبتوں کے ساتھ براہِ راست رابطے سے پھیلتا ہے اور فلو جیسی علامات اور پیپ سے بھری جلد کے زخموں کا سبب بنتا ہے۔