اردو زبان اور رومن رسم الخط

سقوطِ ڈھاکا کے سانحے سے قبل مغربی اور مشرقی پاکستان میں رہائش پذیر افراد نے آپس میں ”اتحاد“ کی شکل پیدا کرتے ہوئے اختلافات کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے چاہا کہ بنگلہ اور اردو دونوں کا ایک رسم الخط ہوجائے، جب کہ یہ بالکل ہی ناممکن خیال تھا۔ رومن رسم الخط کی ان کوششوں نے جب دم توڑ دیا تو پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصوں نے اتنی دوری اختیار کرلی کہ آخرکار مشرقی حصہ ایک الگ ملک بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ظاہر ہوا۔

انگریزوں نے برصغیر میں رومن خط کو متعارف کرانا شروع کیا اور اس کوشش میں رہے کہ کسی بھی طرح فارسی رسم الخط کے بجائے رومن خط میں عیسائی مبلغوں کی تبلیغی ضروریات کی تکمیل ہوجائے۔ انگریزوں نے ایسی کتابیں شائع کرنا شروع کردیں جو رومن میں تحریر کی گئیں۔

ٹیپو سلطان 1799ء میں جب شکست سے دوچار ہوا تو انگریز قوم کے مخالف اور دشمن فرانسیسی پھر کبھی انگریزوں کے خلاف سراٹھانے کی جرات نہ کرسکے۔ برصغیر میں انگریزی زبان تو اتنی عام نہیں ہوئی مگر رومن رسم الخط بھی ہندوستان میں مقبول نہیں ہوسکا۔ 1941ء میں جو مردم شماری ہوئی اس کے مطابق ہندوستان کی پونے دو فیصد آبادی ہی رومن حروف کو پہچان سکتی تھی۔ آج پاکستان کی کُل آبادی کا انتہائی قلیل حصہ رومن رسم الخط کی طرف راغب ہوا ہے اور ایسے وقت میں جب کہ سیل (موبائل) پر پیغام ارسال کرنے کا عمل سامنے آیا ہے تو رومن رسم الخط نے اردو زبان کو بہت نقصان پہنچانا شروع کردیا ہے۔ اب ہم یہاں اردو کے حروفِ تہجی کو دیکھتے ہیں یعنی ا، ب، ت، ث اگر A.B.C.D کی جگہ لے لیں تو کیا ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا صوتی اعتبار سے اردو زبان اور انگریزی زبان کے حروف کا حوالہ ایک ہی ہے؟۔

کیا ضروریاتِ زندگی، طباعت، بیرونی دنیا سے رابطے کے ساتھ ساتھ ادبی دنیا میں علمی وادبی سرمائے میں اضافہ ہوسکے گا؟ اگر جواب ہاں میں آئے تو ہم سمجھ لیں گے کہ رومن رسم الخط کو رائج کردیا جائے، مگر جب جواب نہیں میں آئے تو ہم یقین کرلیں گے کہ رومن رسم الخط کو اختیار کرنے سے اردو زبان کی موت واقع ہوجائے گی۔ رومن الفاظ کو اردو میں استعمال کرنے سے زبان کی موت تو واقع ہوسکتی ہے مگر زبان کو کسی طور فائدہ ممکن نہیں ہوسکتا۔

(ڈاکٹر جاوید منظر،ماہنامہ ”اخبار اردو“ اسلام آباد۔ اپریل مئی 2016ء، صفحہ 16)

مجلس اقبال
اندھیری شب ہے، جدا اپنے قافلے سے ہے تُو
ترے لیے ہے میرا شعلہ نوا قندیل

علامہ اقبال امت ِ واحدہ یا ملّتِ اسلامیہ کی متحدہ قوت سے کٹے ہوئے مسلمانوں کو تلقین کرتے ہیں کہ میرے کلام سے رہنمائی حاصل کرو، اس لیے کہ غلامی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اپنے ملّی قافلے سے کٹ کر تم قدم قدم پر ٹھوکریں کھا رہے ہو۔ ایسے میں میرے کلام کی روشنیاں چراغِ راہ بن کر تمہاری رہنمائی کرتی اور تمہارے دلوں کو ایمانی جذبوں اور آزادی کے لطف سے روشناس کراتی ہیں۔ یوں وہ اپنے اشعار کو اندھیری راہ میں جذبے اور روشنیاں بخشنے والے چراغ قرار دیتے ہیں۔