پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو اس بات کا اندازہ ہوا ہے کہاسٹیبلشمنٹ انتخابات کے مقابلے میں پلان بی پر بھی غور کررہی ہے
پاکستانی سیاست عوام کی اہمیت یا سیاسی اورجمہوری طور طریقوں سمیت آئین و قانون کی بالادستی کے مقابلے میں دو پہلوئوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ اوّل: سیاست دان یا حکمران اتحاد لندن کے بعد دبئی میں اگلے اقتدار کے کھیل کی نئی صف بندی میں مصروف ہیں اورکوشش کی جارہی ہے کہ اقتدار کی بندر بانٹ کو ایک بار پھر اپنے تک ہی محدود رکھا جائے۔ نوازشریف، شہبازشریف اور مریم نواز کی کوشش ہے کہ اقتدار کا ہما اُن کے سر ہی بیٹھے اور پیپلزپارٹی ان کے ساتھ ایک بار پھر شریکِ اقتدار رہے۔ وافقانِ حال کا کہنا ہے کہ شریف خاندان اور بالخصوص نوازشریف نے دبئی میں بیٹھ کو خود کو نئے وزیراعظم کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا ہے۔ ان کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہی اگلے وزیراعظم ہوں گے۔ جبکہ دوسری طرف شہبازشریف جن کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں، اس کھیل میں ایک بار پھر خود کو مضبوط وزیراعظم کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ شریف خاندان میں اصل مقابلہ نوازشریف اور شہبازشریف کے درمیان ہے، اور شہبازشریف کو لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ میں نوازشریف کے مقابلے میں ان کی سیاسی قبولیت زیادہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی بھی خود کو وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ میں شامل کیے ہوئے ہیں۔ آصف زرداری جو آج کل اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہیں، ان کی کوشش ہے کہ وہ یا تو خود وزیراعظم کے طور پر سامنے آئیں، اور اگر ان کی قبولیت نہیں ہوتی تو ان کے بیٹے بلاول بھٹو کو وزیراعظم کے طور پر قبول کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ دبئی کی سیاسی بیٹھک اگلے اقتدار کے کھیل کے گرد گھوم رہی ہے۔ کوئی وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور کوئی صدر کے طور پر خود کو پیش کررہا ہے۔ خود مولانا فضل الرحمٰن صدر کے امیدوار ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کو انعام کے طور پر پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) صدر کے طور پر قبول کریں۔
دوم: اس سے قبل ایک کھیل نگران وزیراعظم یا نگران سیٹ اَپ کا ہے۔
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) یہاں بھی اپنی مرضی کا نگران سیٹ اَپ چاہتی ہیں۔ کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ انتخابات کے انعقاد میں ابھی بھی رکاوٹیں ہیں اور ممکن ہے کہ نگران سیٹ اَپ ہی آگے جاکر لمبے عرصے کے لیے عبوری سیٹ اَپ میں تبدیل ہوجائے۔ لیکن اس کھیل کو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کسی بھی طور پر قبول نہیں کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ دبئی اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ اگر ہماری حکومت مقررہ وقت پر ختم ہوتی ہے تو انتخابات کو ہی بنیاد بنایا جائے، اور وہ تمام فریق جو انتخابات میں تاخیر چاہتے ہیں ان کو ناکام بنایا جائے۔ کیونکہ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ (ن)… کسی بھی طور پراقتدار کو کسی اور کے پاس جانے دینے کے لیے تیار نہیں، اور چاہتی ہیں کہ اقتدار کے کھیل کا ریموٹ کنٹرول ان ہی کے پاس رہے اور وہی فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ خاص طور پر ایک ایسے موقع پر جب پی ٹی آئی شدید سیاسی عتاب کا شکار ہے اور اس کی انتخابات میں شرکت بھی سوالیہ نشان ہے، تو ایسے میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پاس اچھا آپشن ہے کہ وہ اقتدار کے کھیل کو پی ٹی آئی سے نکال کر خود تک ہی محدود کرلیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو اس بات کا اندازہ ہوا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ انتخابات کے مقابلے میں پلان بی پر بھی غور کررہی ہے، اسی کو بنیاد بناکر دبئی اجلاس کیا گیا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور جمہوریت اتنی آزاد اور خودمختار ہوگئی ہیں کہ اپنے سیاسی فیصلے خود کرسکیں؟ کیونکہ یہ بات تو واضح طور پر دیکھی جارہی ہے کہ اس وقت بھی ہماری سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اور اسی بنیاد پر کہا جارہا ہے کہ اگرچہ دبئی میں بیٹھ کو دو بڑی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادتیں سیاسی فیصلے کرنے کی کوشش کررہیے ہیں، لیکن یہ تمام فیصلے دبئی میں نہیں بلکہ اسلام آباد اور پنڈی میں ہوں گے۔ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت اورمدد کے بغیر حکومت ہو یا حزبِ اختلاف… ان کی فی الحال کوئی بڑی سیاسی حیثیت نہیں، اور دونوں نے اپنی اپنی طاقت کا سرچشمہ اسٹیبلشمنٹ کو ہی بنایا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت پر بڑا الزام یہی تھا کہ وہ ایک اسکرپٹ پر مشتمل حکومت تھی، اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد اورحمایت کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کو اقتدار دیا گیا۔ اگر یہ بات درست تسلیم کرلی جائے تو جو کچھ آج ہورہا ہے اس کو کیا نام دیا جائے گا؟کیونکہ اگر انتخابات میں فیصلہ عوام کو کرنا ہے تو پھر دبئی میں بیٹھ کر اقتدار کی بندر بانٹ کے اس کھیل یا اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے سجائے جانے والے انتخابی کھیل کی کیا سیاسی حیثیت ہوگی؟ کیونکہ اگر یہی طے کرنا ہے کہ کس کو انتخابات کی بنیاد پر سامنے لانا ہے اورکس کا سیاسی راستہ روکنا ہے تو پھر ظاہر ہے اقتدار کا فیصلہ کسی بھی صورت میں عوامی ووٹوں سے نہیں بلکہ طاقت کے مراکز کے ذریعے ہوگا۔ عام طور پر کہا یہ جارہا ہے کہ پی ٹی آئی اگرچہ عوامی سطح پر مقبولیت رکھتی ہے اور اس کا ووٹ بینک بھی بہت ہے مگر اُس کے سربراہ کی، طاقت کے مراکز میں قبولیت نہیں ہے، یا اُن پر اقتدار کے تناظر میں فی الحال کراس یا کاٹا لگایا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں کسی بھی طور پر پی ٹی آئی کو حصہ نہیں لینے دیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو انتخابات کی ساکھ کیا ہوگی، اوراس طرح کے انتخابات کے بعد کیا ہم کسی بڑے بحران سے خود کو بچاسکیں گے؟
یہ جو منطق دی جارہی ہے کہ پی ٹی آئی کی قبولیت نہیں ہے یا اس پر کراس لگادیا گیا ہے تو یہ کھیل کون کھیل رہا ہے اور وہ اس سے کیا نتائج نکالنا چاہتا ہے؟ یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اس وقت جو کچھ پاکستانی سیاست میں ہورہا ہے اس سے ملک میں جمہوری معاملات یا آئین کی بالادستی سے جڑے معاملات پیچھے کی طرف جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ جو اِس وقت ہورہا ہے وہ کسی بھی طور پر ہماری قومی سیاست اورجمہوریت کے حق میں نہیں، اور نہ ہی اس سے ملک کا کوئی بحران ختم ہوسکے گا، بلکہ اس میں ہمیں اور زیاد ہ شدت کے مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔
9مئی کے واقعات سے قبل جب پورے حکمران اتحاد پر پی ٹی آئی کا بھوت سوار تھا اور کہا جارہا تھا کہ اگر آپ کو واقعی پی ٹی آئی کا مقابلہ کرنا ہے تو سیاسی میدان میں مقابلہ کیا جائے۔ لیکن حکمران اتحاد کا مؤقف تھا کہ پی ٹی آئی کو سیاسی طاقت بھی اسٹیبلشمنٹ نے دی ہے اور اب اگر اسے کمزور کرنا ہے یا اس کی طاقت کو ختم کرنا ہے تو اسٹیبلشمنٹ ہی اپنا کردار ادا کرے۔ اسی طرح مریم نواز کا یہ مطالبہ کہ ہمیں جو بھی لیول پلیئنگ فیلڈ انتخابات کے تناظر میں چاہیے اس سے واضح مراد مائنس پی ٹی آئی ہے۔ اس وقت بھی پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) اسی خوش فہمی کا شکار ہیں کہ اول تو پی ٹی آئی ختم ہوگئی ہے یا اسے ختم کردیا گیا ہے، اوراگر ختم نہیں ہوئی تو انتخابات سے پہلے اس پر قانونی بنیاد پر بہت سی پابندیاں لگادی جائیں گی۔ مسلم لیگ (ن) اس خوش فہمی میں بھی ہے کہ اب پی ٹی آئی کے بھوت کے خاتمے کے بعد پنجاب میں ہم دوبارہ ایک بڑی برتری کے ساتھ سیاسی میدان اپنے کنٹرول میں کرلیں گے۔کیونکہ ان کو لگتا ہے کہ ایک طرف پی ٹی آئی کا خاتمہ اور دوسری طرف جہانگیر ترین کی پارٹی ہو یا مسلم لیگ (ق)… ان کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں، اور نہ ہی پیپلزپارٹی کا پنجاب میں کوئی ووٹ بینک ہے، اس طرح اب ہمارے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی ختم ہوگئی ہے تو پھر اسے سیاسی سرگرمیوں کی عملاً اجازت کیوں نہیں ہے؟ پی ٹی آئی کو انتخابات میں جانے سے روکنے کی حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ آج بھی پی ٹی آئی کا خوف حکمران اتحاد پر حاوی ہے۔ مسلم لیگ (ن) وفاق میں حکمرانی کی خواہش رکھتی ہے اور نوازشریف اور شہبازشریف میں وزارتِ عظمیٰ حاصل کرنے کا مقابلہ ہے۔ اگر مسلم لیگ(ن) کو محض وفاق میں اقتدار ملتا ہے اور پنجاب میں حکومت نہیں ملتی تو وہ ایسے اقتدار کی حامی نہیں، اور اس کی خواہش ہے کہ مرکز کے مقابلے میں پنجاب میں ہمیں اقتدار نہ صرف دیا جائے بلکہ مریم نواز کو وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر قبول کیا جائے تو ہم نئے نظام کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ اور پیپلزپارٹی سمجھتی ہیں کہ اگر پنجاب میں واضح اقتدار مسلم لیگ (ن) کو ہی ملنا ہے تو اس کا مطلب اقتدار کے کھیل میں شریف خاندان کی واضح برتری ہوگی۔ کیونکہ عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ پنجاب جس کے پاس ہوتا ہے ملک میں اصل اقتدار اسی کا ہوتا ہے۔ آئندہ حکومت کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ طے کرے یا دبئی میں بیٹھ کر حکمران اتحاد طے کرے سوال یہ ہے کہ اس کھیل میں عوام اورجمہوریت کہاں ہیں؟کیا یہی ہمارے نصیب میں ہے کہ اقتدار کی بندر بانٹ کا کھیل انتخابات سے پہلے طے ہو اور پھر اسی طے شدہ منصوبے کے تحت مصنوعی طریقے سے انتخابات کا تماشا سجایا جائے۔اس کھیل سے ہم نے پہلے کیا نتائج حاصل کیے ہیں اورآگے کیا حاصل کرلیں گے؟کیا ہم ماضی سے کچھ سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟ اگر نہیں تو پھر عملی طور پر ہماری سیاست اور جمہوریت کا کیا مستقبل ہوگا؟
اس پورے کھیل میں جو دبئی میں سجایا جارہا ہے یا سجایا گیا ہے اس سے جو مطلوبہ نتائج دو بڑی جماعتیں حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں کیا یہی ہماری قسمت ہے اورہمیں اسی دائرے میں اپنا نام نہاد سیاسی سفر جاری رکھنا ہے؟ اس کھیل میں پی ٹی آئی کو جو اس وقت ناقدین کے بقول ایک بڑی سیاسی جماعت ہے، اِس طرح سے منظر سے ہٹانا کیا سیاسی استحکام پیدا کرسکے گا؟ اور کیا اس سے ہم واقعی آگے بڑھ سکیں گے؟ ہم نے دیارِغیر میں مقیم پاکستانیوں کو جس برے انداز سے سیاسی محاذ پر بلکہ پارلیمنٹ کے فورم کو بنیاد بناکر گالیاں دی ہیں اوران کی تضحیک کی ہے اس کے بعد کیا اُن پاکستانیوں میں ہمارا مقدمہ مثبت رہے گا؟ جواب نفی میں ملے گا۔ اور اگر کسی کو اس بات پر شک ہے تو دیارِ غیر میں موجود پاکستانیوں کی رائے معلوم کرنے کے لیے ریفرنڈم کرواکر دیکھ لے، نتیجہ سامنے آجائے گا۔ اسی طرح پاکستان میں موجود نوجوانوں کی رائے کا بھی تجزیہ کرلیا جائے جن کی اکثریت پی ٹی آئی کے ساتھ ہے تو اُن کے خلاف جاری مخالفانہ ردعمل پر شدید ردعمل کا سامنے آنا بھی فطری ہے۔ یہ جو ہم آئی ایم ایف کے نوماہ کی بنیاد پر ملنے والے پیکیج پر ڈھول بجائے جارہے ہیں کیا واقعی ہم اس امداد کی بنیاد پر معاشی اصلاحات اور سخت اقدامات کرسکیں گے؟ خاص طور پر ایک ایسے موقع پر جب حکمران اتحاد انتخابات کی بات کررہا ہے، آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر عمل درآمد ممکن ہوسکے گا؟ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد مہنگائی کا جو نیا طوفان آنے والا ہے اسے بھی عام آدمی ہی بھگتے گا۔ تو قوم کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ آئی ایم ایف سے جو معاہدہ ہوا ہے اس کی شرائط کیا ہیں؟ اورکیا ان شرائط کو قوم کے سامنے رکھا جائے گا؟ اس لیے مجموعی طور پر جو کچھ اس وقت پاکستانی سیاست میں ہورہا ہے وہ کسی بھی طور پر ملکی سیاسی استحکام کا راستہ نہیں ہے۔کیونکہ جوکھیل سجایا جارہا ہے اس سے تو قومی سطح پر زیادہ محاذ آرائی اور ٹکرائو کے مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ یہ جو کہا جارہا ہے کہ ہم نے اب معاشی ترقی کا روڈمیپ تیار کرلیا ہے اور اس میں حکومت اوراسٹیبلشمنٹ ساتھ ساتھ کھڑے ہیں۔ لیکن جو کچھ اِس وقت ہورہا ہے اسے بنیاد بناکر ہم معاشی ترقی کیسے حاصل کرسکیں گے؟ یہ خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کاش ہم اس وقت سیاسی مہم جوئی اور سیاسی ایڈونچرز سے باہر نکل سکتے اوراُن معاملات پر توجہ دیتے جو ہماری قومی سیاست سے جڑے بڑے مسائل ہیں۔ لیکن شاید اِس وقت ہماری ترجیحات قومی معاملات سے زیادہ ذاتی مفادات پر مبنی سیاست کا شکار ہیں، اوریہی اس وقت سب سے بڑا بحران اور قومی المیہ ہے۔

