وادئ کشمیر کو مزید دو حصوں میں بانٹنے کا کھیل بھی تیار ہے
مقبوضہ کشمیر کے سینئر صحافی یوسف جمیل نے وائس آف امریکہ کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندو انتہا پسند راہنمائوں نے مقبوضہ جموں کو وادیِ کشمیر سے الگ ریاست بنانے کا مطالبہ اور مہم تیز کردی ہے۔ اس مفصل رپورٹ میں اس مطالبے کا پس منظر اور پیش منظر بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے جس سے مترشح ہے کہ انتہا پسندوں کے اس مطالبے کا مقصد وادیِ کشمیر میں آزادی کے مطالبے کی دیرینہ تحریک کو بتدریج کمزور کرنا اور ریاست جموں و کشمیر کی جغرافیائی ہیئت کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہے۔
بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی شناخت پر پہلا وار کرتے ہوئے اسے دو حصوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا تھا، اور دونوں حصوں کو یونین ٹیریٹری یعنی مرکز کے زیر انتظام علاقے قرار دیا گیا تھا، لیکن شاید اس سے اصل مقاصد کی تکمیل ناممکن تھی، اسی لیے اب بھارتی حکومت نے تقسیم در تقسیم کا عمل مزید آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کشمیر کی شناخت کے خاتمے کے چار سال بعد جموں کو وادی سے الگ کرکے ریاست کے حصے بخرے کرنے کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔
جموں کی آبادی تقریباً 70 لاکھ ہے۔ جموں، کشمیر کی مجموعی آبادی کا پچاس فیصد ہے۔ جموں کے دس میں سے پانچ اضلاع میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، جبکہ پانچ ہندو اکثریتی اضلاع ہیں۔ بھدرواہ، کشتواڑ، ڈوڈہ، رام بن اور راجوری میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، جبکہ سانبا، کٹھوعہ، ادھم پور، ریاسی، جموں اضلاع میں ہندوئوں کی اکثریت ہے۔ جموں علاقے کا سب سے بڑا نسلی گروپ ڈوگرہ ہے جو ریاست کے بانی مہاراجا گلاب سنگھ کا قبیلہ ہے۔ ڈوگرہ آبادی جموں کی مجموعی آبادی کا 47 فیصد ہے۔ ڈوگرہ آبادی ہی جموں کو الگ ریاست بنانے کا مطالبہ کرنے میں پیش پیش ہے۔ جموں کے ڈوگروں کی ایک سیاسی جماعت ڈوگرہ سوابھیمان سنگھسن پارٹی (ڈی ایس ایس پی) نے حالیہ ہفتوں میں جموں کو الگ ریاست بنانے کی مہم شدومد کے ساتھ شروع کررکھی ہے۔ اس مطالبے کے حق میں جلسے جلوس بھی کیے جارہے ہیں۔ اس موقع پر جاری مہم کا مقصد یہ ہے کہ نریندر مودی جموں و کشمیر کو مرکز کے زیرانتظام علاقے سے دوبارہ ریاست کی شکل میں بحال کرنے کا وعدہ کرچکا ہے، اس لیے اس مطالبے کی تکمیل اور جموں کی الگ ریاست کا قیام ایک ساتھ ہو۔ اس مہم کے حامیوں کا دوٹوک مؤقف ہے کہ اس سے کشمیر میں علیحدگی کی تحریک غیر مؤثر ہوجائے گی اور آزادی کا مطالبہ صرف وادی کی محدود سی جغرافیائی پٹی اور 80 لاکھ آبادی کا معاملہ ہوکر رہ جائے گا۔
اس سے اگلے مرحلے کے طور پر وادی کشمیر کو مزید دو حصوں میں بانٹنے کا کھیل بھی تیار ہے۔ کشمیری پنڈت وادی کے اندر مسلمانوں سے الگ ایک ریاست کا مطالبہ کئی دہائیوں سے دہرا رہے ہیں اور انہوں نے اس ریاست کا نام بھی ’’پنن کشمیر‘‘ یعنی اپنا کشمیر رکھا ہے۔ وادی سے نقل مکانی کرکے جانے والے پنڈت دنیا بھر میں اس مطالبے کی حمایت میں مہمات چلاتے رہے ہیں۔اس طرح یہ مسلم اکثریتی وادی کشمیر کو آبادی اور جغرافیے کے لحاظ سے مزید محدود کرنے کا عمل ہوگا، اور یوں آزادی اور حقِ خود ارادیت کی اسپیس اور جواز مزید کم ہو کر رہ جائے گا۔ جموں کی الگ ریاست کو آزادکشمیر کے اُن لوگوں کے لیے پُرکشش بنایا جا سکے گا جو اس وقت وادی کشمیر کی تحریک اور مطالبے کی حمایت میں نہ صرف آزادکشمیر کے اندر بلکہ بیرونی دنیا میں بھی سب سے زیادہ سرگرم ہیں۔ آزادکشمیر میں وادیِ کشمیر کا علاقہ صرف مظفر آباد ہے، جبکہ میرپور اور پونچھ کے علاقے جموں کا حصہ ہیں۔ بیرونی دنیا میں مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے اور زندہ رکھنے کا اصل کام میرپور کے تارکین وطن کرتے ہیں۔ یہ لوگ برطانیہ کے سیاسی نظام میں خاصا اثر رسوخ بھی رکھتے ہیں اور مقامی نمائندوں کو منتخب کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ کشمیر کے لیے منعقد ہونے والے سیمینار، جلسے، جلوس اور سفارتی مہمات کی زیادہ تر رونقیں انھی تارکینِ وطن کے دم قدم سے قائم ہیں۔ غیر ملکی تارکینِ وطن اور آزادکشمیر کے عوام کو سوچ کے نئے زاویے دینے کے لیے اس عمل کو کامیابی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 1990ء اور 2000ء کی دہائیوں میںکشمیر میں ہونے والی مسلح مزاحمت میں آزادکشمیر سے شریک ہونے والے اکثر نوجوان میرپور اور پونچھ سے تعلق رکھتے تھے جو روایتی طور پر جموں کا حصہ رہے ہیں۔جموں کی الگ ریاست کے ذریعے آزاد کشمیر کے فعال اور متحرک لوگوں کو وادی کے مقبول عوامی جذبات سے کاٹنا اور لاتعلق کرنا مقصود ہے۔

