پی پی کے گڑھ لاڑکانہ میں قیامت صغریٰ کا منظر
آج کل پہلے ہی سے بنیادی انسانی سہولیات سے یکسر محروم اور شدید ترین بدامنی اور مہنگائی سے دوچار اہلِ سندھ کی زندگی بہت زیادہ پڑنے والی گرمی کی حدت اور شدت سے مزید اجیرن ہوچکی ہے، اس پر مستزاد گھنٹوں پر محیط بجلی اور گیس کی اعلانیہ اور غیراعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ نے بھی رہی سہی کسر پوری کردی ہے۔ گرمی کی حدت اور شدت اتنی زیادہ ہے کہ تجربہ کار اور بزرگ افراد کے مطابق انہوں نے اس سے پہلے کبھی اپنی زندگی میں اس قدر گرمی کا مشاہدہ نہیں کیا۔ اور سچ بھی یہی ہے کہ گھر سے اگر کوئی بھی فرد بہ امر مجبوری کسی ضروری کام سے باہر نکلے تو باہر کی کھلی فضا میں شدید گرمی کی وجہ سے پانچ منٹ گزارنا یا کھڑا رہنا بھی محال ہوجاتا ہے۔ تپش اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ گھر سے باہر ضروری کام کاج سے نکلنے والے افراد جلدازجلد واپس اپنے گھر یا کسی سایہ دار جگہ کا رخ کرنا پسند کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے ہی سے دشوار حیات اب اور بھی دشوار ترین محسوس ہونے لگی ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقے جہاں ہر سال موسم گرما میں درجۂ حرارت 50 سینٹی گریڈ اور کبھی اس سے بھی کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے‘ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہاں پر حکومت، منتخب عوامی نمائندوں اور انتظامیہ کی جانب سے منصوبہ بندی کے تحت بڑے پیمانے پر مستقل مزاجی کے ساتھ شجرکاری کا اہتمام کیا جاتا تو یقیناً گرمی کی موجودہ شدت اور حدت اتنی زیادہ نہ ہوتی، لیکن بدقسمتی سے کسی بھی دور میں ایسا نہیں ہوسکا، اور جتنی زیادہ سندھ اور بلوچستان کے گرمی سے متاثرہ علاقوں میں سایہ دار درختوں کی بہتات کی ضرورت ہے اس کے برعکس درختوں کی اتنی ہی شدید کمی ہے جس کے باعث موسم گرما گزارنا اب ان علاقوں کے مکینوں کے لیے کسی عذاب سے کم ہرگز نہیں ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومتی ذمہ داران، عوامی نمائندوں اور انتظامیہ کی جانب سے منصوبہ بندی کے تحت منظم انداز سے شجرکاری مہم شروع کی جائے اور عوام کو بھی اس سلسلے میں شعور اور آگہی فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس انداز میں کام کیا جائے تو امید ہے کہ آنے والے برسوں میں صورت حال میں بہتری آجائے گی، ورنہ چند برس قبل برطانیہ سے سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں کی گرمی کا مشاہدہ کرنے کے لیے یہاں آنے والے ماہرینِ موسمیات کی یہ پیشن گوئی خدانخواستہ پوری ہونے کا خدشہ ہے کہ آنے والے برسوں میں سکھر، شکارپور، لاڑکانہ، جیکب آباد، کشمور، کندھ کوٹ تا سبی بلوچستان کے علاقے ناقابلِ رہائش ہوجائیں گے اور مقامی افراد مستقبل میں پڑنے والی بے حد و حساب گرمی اور پانی کی سخت قلت کی بنا پر یہاں سے ہجرت یا نقل مکانی پر مجبور ہوجائیں گے۔ اللہ اس روزِ بد سے محفوظ رکھے، آمین۔
ایک طرف حد درجہ پڑنے والی گرمی سے عوام کی زندگی عذاب میں مبتلا ہے تو دوسری طرف بجلی کی عدم موجودگی ’’مرے پر سو درّے‘‘ کے مصداق صورتِ حال کو جنم دے رہی ہے۔ عوام کا چین و قرار اور سکون بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے ختم کر ڈالا ہے۔ سوئی گیس بھی گھنٹوں غائب رہتی ہے جس سے کھانے پکانے کے حوالے سے خواتین کو بے حد دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر گیس آ بھی جائے تو اس کا پریشر اتنا کم ہوتا ہے کہ اس پر کھانا بمشکل پک سکتا ہے۔ میٹھے پانی کی قلت سے بھی عوام پریشان رہتے ہیں اور شدت کی گرمی میں روڈ راستوں پر گدھا گاڑیوں پر پانی کے کین لاکر فروخت کرنے والے اُن افراد کے منتظر کھڑے دکھائی دیتے ہیں جو موقع کی مناسبت سے عوام کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مہنگے داموں پانی فروخت کرتے ہیں۔ اس جدید اور سائنسی دور میں بھی اہلِ سندھ اور اس سے ملحق بلوچستان کے علاقوں ڈیرہ اللہ یار، ڈیرہ مراد جمالی، جعفر آباد، اوستہ محمد، صحبت پور، بھاگ ناڑی، جھل مگسی، سبی اور دیگر علاقوں کے باشندے زندگی کی تمام تر بنیادی سہولیات سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے احساسِ محرومی کا شکار ہوچکے ہیں اور مشکلات اور تکالیف میں اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں حکمران طبقے، منتخب عوامی نمائندوں اور مقامی انتظامیہ کی بے حسی، ڈھٹائی، ظالمانہ اغماض اور تجاہلِ عارفانہ کو دیکھتے ہوئے وہ بزبانِِ حال ان سے مخاطب ہوکر یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ خدارا ہماری حالتِ زار پر رحم کیجیے، اپنی پالیسیوں کو عوام دوست بنایئے نہ کہ عوام دشمن۔ مطلب یہ کہ ’’زندگی پہلے ہی سے دشوار ہے، اسے اور بھی مشکل تر نہ بنائیے۔‘‘
ایامِ عید کی شدید ترین مصروفیات اور ہنگامہ خیزی میں یہ اہم ترین اور بے حد خاص لیکن بے حد افسوس ناک اور قابلِ مذمت خبر اہلِِ وطن سے اوجھل اور پوشیدہ رہی کہ ہفتۂ رفتہ لاڑکانہ ڈویژن کے بیشتر اضلاع یعنی قمبر شہداد کوٹ، لاڑکانہ، دادو، شکارپور سیپکو کی بے حد نااہلی اور بجلی کی فراہمی کے ناقص اور بوسیدہ و فرسودہ نظام کی وجہ سے بجلی سے بالکل محروم رہے اور عوام کو عید کے مبارک اور خوش گوار ایام بھی حکومت اور سیپکو انتظامیہ کی حد درجہ نااہلی اور نالائقی کی بنا پر بہت زیادہ گرمی میں سخت ترین اذیت، کوفت اور دشواری کے ساتھ گزارنے پر مجبور ہونا پڑا۔ سابق صدر آصف زرداری اہلِ وطن کو تواتر کے ساتھ یہ خوش خبری اور مژدۂ جاں فزا سنانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں کہ ’’مستقبل میں پاکستان پر پی پی پی کی حکومت ہوگی اور آئندہ وزیراعظم بھی بلاول بھٹو زرداری ہوں گے‘‘۔ لیکن ان کی حکومتِ سندھ کی نااہلی اور بدعنوانی کا عالم یہ ہے کہ خود پی پی پی کے سیاسی گڑھ اور مرکز لاڑکانہ ڈویژن میں اہلِ علاقہ تقریباً ایک ہفتے تک مقدس ایام عیدالاضحی میں بجلی سے بالکل محروم رہے جس کی وجہ سے شدید گرمی کی بنا پر سینکڑوں مرد و خوتین اور بچے نہ صرف بے ہوش ہوگئے جنہیں قریبی اسپتالوں میں طبی امداد دی گئی بلکہ ایک خاتون روشنا تنیو سمیت 9 افراد گرمی شدت کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق بھی ہوگئے۔ پیپلز پارٹی کے اپنے سیاسی گڑھ لاڑکانہ ڈویژن میں جب اس کے طویل ترین اور مسلسل اقتدار کے باوجود لوگ اتنی اذیت ناک اور تکلیف دہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں تو جعلی اور دو نمبر طریقے سے اہلِ کراچی پر زبردستی مسلط ہونے والے پی پی پی کے میئر کیا کیا گل کھلائیں گے وہ مذکورہ مثال سے بالکل واضح ہو جاتا ہے، یعنی ابھی سے ہی ’’قیاس زدن گلستان من بہار مرا‘‘ کی سی صورت حال دکھائی پڑتی ہے ۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لاڑکانہ، دادو، قمبر شہداد کوٹ کے لاکھوں باشندے سخت ترین گرمی کی اذیت بھگت رہے تھے، پانی کی موٹر نہ چلنے سے وہ ایام عید میں بھی اللہ کی عبادت اور نمازِ عید کی ادائی سے محروم رہے، اور ان میں سے باوسائل اور صاحبِ حیثیت افراد حیدرآباد اور سکھر یا کراچی اپنے رشتے داروں کے ہاں مع اہلِ خانہ عید گزارنے کے لیے سفر کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ سابق صدر زرداری نواب شاہ (بے نظیر آباد) میں اپنے آبائی گھر عید منا رہے تھے اور خود سے ملنے والے مختلف وفود کو نوید سنانے میں بھی مصروف تھے کہ ’’یہاں پر تو میرا نمائندہ ایم پی اے علی حسین زرداری ہی مستقبل میں اہلِ علاقہ کی خدمت کیا کرے گا، البتہ مستقبل میں پاکستان کے وزیراعظم بلال بھٹو زرداری ہوں گے، اس کے لیے کارکنان ابھی سے آئندہ آنے والے الیکشن کے لیے تیاری زور شور سے فوری طور پر شروع کردیں‘‘۔
لاڑکانہ ڈویژن میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ برف کی بھی شدید قلت پیدا ہوگئی اور برف کا ایک بلاک جو 300 روپے کا تھا وہ 2,000 روپے میں فروخت کیا گیا۔ بجلی مسلسل بند رہنے سے لاڑکانہ ڈویژن کے متاثرہ اضلاع میں ایک طرح سے قیامتِ صغریٰ کا منظر دیکھنے میں آیا، جب کہ متاثرہ اضلاع کے منتخب عوامی نمائندے اس آزمائش کے موقع پر بھی عوامی پریشانی اور مشکل سے لاتعلق بن کر اپنی دنیا میں مگن یا پھر کراچی میں مقیم رہے اور انہوں نے اپنی عید عوام سے کٹ کر گزار دی۔ 50 درجۂ حرارت پر بجلی کی عدم موجودگی نے عوام کو روڈ راستوں پر احتجاج کے لیے نکلنے پر مجبور کردیا اور انہوں نے اس موقع پر سیپکو اور حکومت کے خلاف سخت نعرہ زنی بھی کی۔ واضح رہے کہ گڑھی یاسین کے قریب قبل از عید شدید طوفانی بارش کی وجہ سے پانچ دن قبل ایک لاکھ 32 ہزار کے وی ٹرانسمیشن لائن کے متعدد کھمبے گر جانے سے لاڑکانہ، دادو اور قمبر شہزاد کوٹ اضلاع کی بجلی مکمل طور پر بند ہوگئی جو ان سطور کے لکھے جانے تک مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی ہے۔ بجلی کی یہ بندش ایام عید میں بھی قائم اور برقرار رہی جس کی وجہ سے متاثرہ اضلاع کے عوام کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ اضلاع میں مختلف مقامات پر عوامی، سماجی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور بجلی کی بندش کے خلاف دھرنے بھی دیے گئے۔ مظاہرین اور احتجاج میں مصروف افراد کا کہنا تھا کہ ایسی مشکل اور کٹھن گھڑی میں بھی پی پی پی کے ہمارے علاقے سے منتخب عوامی نمائندے، وزراء اور مشیر ہم سے لاتعلق بنے ہوئے ہیں جو اُن کے لیے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ استعمال کے لیے پانی اور برف نایاب ہونے سے متاثرہ عوام کو اور زیادہ تکلیف اور مشکل سے دوچار ہونا پڑا، اور دیگر علاقوں سے منافع خوروں نے برف لاکر کئی گنا مہنگے داموں پر فروخت کی۔ دریں اثنا سخت عوامی احتجاج کے پیش نظر سابق صدر زرداری نے بجلی کے مذکورہ بحران کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر توانائی امتیاز شیخ کو ذاتی طور پر معاملے کی نگرانی کرکے بجلی کو بحال کرانے کی ہدایت کی۔ وزیر توانائی کے دعوے کے مطابق اب بیشتر علاقوں کی بجلی لگ بھگ ایک ہفتہ بند رہنے کے بعد بحال کردی گئی ہے۔ تاہم اُن کے اس
دعوے کی تاحال کوئی مستند تصدیق سامنے نہیں آسکی ہے۔ تاجر حضرات کا بھی کہنا ہے کہ بجلی کی مذکورہ بندش کی وجہ سے ان کا ایام عید کے حوالے سے خریدوفروخت کا سارا نظام ہی تباہی سے دوچار ہوگیا ہے اور انہیں عید کے موقع پر سخت مالی خسارہ اٹھانا پڑا ہے۔ بجلی کے بحران سے لاڑکانہ، قمبر شہداد کوٹ، شکارپور، دادو سخت متاثر ہوئے ہیں اور ان اضلاع میں کاروبارِِ زندگی بجلی نہ ہونے سے مفلوج ہوکر رہ گیا اور ایک ہفتے تک اہلِ علاقہ شدید اذیت سے دوچار رہے ہیں۔
دریں اثنا تازہ ترین مستند اطلاع کے مطابق لاڑکانہ سمیت دیگر متاثرہ اضلاع کی بجلی تاحال مکمل بحال نہیں ہوسکی ہے اور عوام سخت گرمی میں شدید اذیت سے دوچار ہیں۔

