ؒ شمعِ محفل کی طرح سب سے جدا، سب کا رفیق مولانا فاروق خان

عیدالاضحی کی تیاریوں کے ہنگامے کے درمیان اچانک اس خبر نے پورے ماحول کو سوگوار کردیا کہ مولانا فاروق خاں اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ رحمان و رحیم پروردگار کی بے پناہ محبت اور اس کی عظمت کا ہر دم زندہ و متحرک تاثر، مولانا مرحومؒ کی شخصیت کی سب سے نمایاں خصوصیت تھی۔ اس خدا مست بندے کی طلبی کے لیے یوم عرفہ کی مقدس ساعتیں منتخب ہوئیں اور مولانا فاروق خاں، مرحوم ہوکر عیدالاضحی کے روز، تکبیروں کی صداوں سے عبارت ماحول میں، اپنی آخری آرام گاہ میں دراز ہوگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

مولانا فاروق خاں مرحوم کئی پہلوئوں سے ایک منفرد شخصیت کے مالک تھے۔ وہ تحریک اسلامی کے اس سلسلۃ الذہب کا حصہ تھے جس نے اپنے اوقات اور اپنی قوتوں و صلاحیتوں کی ساری پونچی، پوری یکسوئی کے ساتھ، اللہ کے دین کی خاطر وقف کردی تھی اور اپنے خونِ جگر اور علم و فن سے تحریک کے مختلف میدانوں کی آبیاری کی تھی۔ وہ علم کا سمندر تھے اور ان کا خزینہ علم حیرت انگیز تنوعات کا حامل تھا۔ قرآن، فلسفہ،حدیث،تقابلِ ادیان اور ہندو مذہب و فلسفہ، اخلاقیات، روحانیات، ادب و شاعری وغیرہ میدانوں میں تو ان کی گہری علمی تصانیف موجود ہیں، لیکن ان کی محفلوں میں شرکت کرنے والے جانتے ہیں کہ اور بھی بے شمار علوم تھے جن کی ضوافشانیوں سے ان کی محفلیں ہر دم روشن رہتی تھیں۔ وہ مترجم قرآن تھے۔ مفسر تھے۔ کلامِ نبوت کے مصنف تھے۔ جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک پوری نسل ان کی تحریروں سے علم حدیث کی مبادیات سے واقف ہوئی تھی۔ اردو کے ساتھ ہندی کے بھی بلند پایہ ادیب تھے۔ سنسکرت، ہندی ادب اور ہندوستانی فلسفوں کے ہماری صفوں میں سب سے قدآور وِدوان تھے۔ شاعر تھے۔ فلسفی تھے۔لیکن ہم جیسوں کے لیے ان کی شخصیت کا سب سے پُرکشش پہلو اُن کی قلندری و درویشی تھی۔ درویشی اور خدامستی کے پارینہ قصے ان کی شخصیت میں زندہ ہوگئے تھے۔ ان کی محفل میں پہنچ کر ہمیشہ یہ احساس ہوتا کہ

نہ تخت و تاج میں، نے لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے!

ان کی ذات اُس ‘حجازی فقر کا حسین مرقع تھی جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:

ہمت ہے اگر تو ڈھونڈ وہ فقر
جس فقر کی اصل ہے حجازی
اس فقر سے آدمی میں پیدا
اللہ کی شانِ بے نیازی

نہ رہن سہن میں آرام و آسائش کی جستجو، نہ لباس و پوشاک میں عالمانہ امتیاز کی کوشش، نہ اپنی عظمت کے نقوش قائم کرنے سے کوئی دلچسپی، اور نہ عجز و انکسار کا غیر فطری اعلان و اظہار، نہ سربلندوں سے انکسار، نہ خاکساروں سے سربلندی۔ دوعالم سے بے نیاز وہ اپنی خدا مستی میں ہمیشہ ایسے گم رہے کہ یہ بے نیازی ان کی شخصیت کا اہم ترین حوالہ بن گئی۔

باری تعالیٰ کی ذات و صفات سے والہانہ وابستگی ان کے مزاج میں اس طرح رچ بس گئی تھی کہ اُسے ان کے جذبات کا اہم ترین سرچشمہ، مزاج کی نمایان ترین خصوصیت اور ان کے منہج علمی کا اساسی اصول کہا جاسکتا ہے۔ خدا کا نام لیتے ہوئے ان کی آنکھوں میں ایک خاص چمک پیدا ہوجاتی اور لہجے سے ایک عجیب سرمستی اور لطف و سرور صاف ظاہر ہونے لگتا۔خدا کی عظمت، اس کی اعلیٰ صفات، اس کے کلام کا ‘شاہانہ انداز، اس کی بنائی ہوئی کائنات کا حسن و جمال، اس قسم کی باتوں کا ان کی زبان پر ہمیشہ ورد رہتا اور اس دوران مولانا مرحومؒ کے جذب و سرور کا عالم دیدنی ہوتا۔ جذب و سرور کی یہ کیفیت وہ پوری محفل پر طاری کردیتے۔فلسفہ و معقولات اور عشق و جذب ان کی محفلوں میں ہمیشہ ہم رکاب ہوتے۔ جہاں دماغ کا افق نت نئی نکتہ آفرینیوں کی ضیا پاشیوں سے دمک اٹھتا وہیں قلب کے نہاں خانے میں لطیف جذبات کی موجیں کروٹ لیتی ہوئی صاف محسوس ہوتیں۔قرآن و حدیث کی تشریح و تعبیر اورعلمی تحقیقات میں بھی یہ جذبات ان کے لیے دلیل بنتے۔ ”آیت کا یہ ترجمہ قرآن کے شاہانہ بیان سے ہم آہنگ نہیں ہے، اس لیے ترجمہ یوں ہونا چاہیے“ اس طرح کی دلیلوں کا ذکر ان کے دروسِ قرآن میں کثرت سے ہوتا۔

یہ ذا تِ خداوندی کی محبت ہی تھی جس نے انہیں کلام الٰہی کا خادم و عاشق بنادیا تھا۔ ان کے دروسِ قرآن میں جو بے ساختگی اور آمد کی کیفیت پائی جاتی تھی وہ کہیں اور بہت کم دیکھنے کو ملتی تھی۔ درس کے دوران وہ جو بھی کہتے کلام الٰہی میں ڈوب کر کہتے۔ کلام الٰہی کے معنوں میں سیر کرتے ہوئے صرف عقل و شعور کو نہیں بلکہ جذبات کو بھی ہم رکاب رکھتے اور مخاطبین کے دلوں کے تاروں کو بھی مرتعش کردیتے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ بہت بڑا شرف عطا کیا تھا کہ شمالی ہند کے غیرمسلم سماج کو قرآن سے جوڑنے اور متعارف کرانے میں انہیں پیش روئی اور پیشوائی کا مقام حاصل تھا۔انہوں نے نہ صرف ہندی میں قرآن کے ترجمے کیے بلکہ اپنی پُرکشش محفلوں اور دل نشین گفتگو کے ذریعے برادرانِ وطن کی ایک بڑی تعداد کے اندر قرآن کو جاننے اور سمجھنے کا صاف ستھرا ذوق پیدا کردیا۔

وہ ہمارے درمیان اُن گنے چنے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ہندو فلسفوں کو ان کی گہرائیوں کے ساتھ، ان کی زبانوں میں پڑھ کر سمجھا تھا۔وہ اس ملک کے ذہن اور مزاج کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور ہم احساسی کے ساتھ (empathetically) انہیں مخاطب کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ برادرانِ وطن کو مخاطب کرتے ہوئے ان کی زبان اور لفظیات ہی نہیں بلکہ لہجہ، اندازِ طرزِ استدلال اور طرزِ بیان بھی ان سے ہم آہنگ ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی محفلوں میں برادرانِ وطن بھی خصوصی دلچسپی لیتے۔ پرانی دلی میں ہم نے اکثر دیکھا کہ تعلیم یافتہ ہندو مردو خواتین عقیدت کے ساتھ دور دراز سے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور گھنٹوں بیٹھ کر ان کی باتیں سنتے۔پرانی دلی میں ان کے حجرے تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔ جامع مسجد کے آگے کوئی گاڑی جا نہیں سکتی۔ جامع مسجد میں گاڑی پارک کرکے پرانی دلی کی تنگ گلیوں میں جہاں کھوے سے کھوا چھلتا ہے، لمبا پیدل سفر طے کرنا خاصا مشکل کام ہے۔ لیکن ان کی کشش، مسلم و غیر مسلم اصحاب ِثروت کو اس مشقت کے لیے بخوشی آمادہ کرتی۔

خدا مستی نے ان کی شخصیت میں بڑی دلآویزی پیدا کردی تھی۔ ان کے لہجے کی لطافت، سخن کی دلنوازی اور ان کے پورے وجود میں پنہاں اخوت کی جہاں گیری اور محبت کی فراوانی نے ان کے وجود کو مقناطیس بنادیا تھا۔ لیکن دوسری طرف مزاج کی فطری بے نیازی نے ان کے اندرحق گوئی کی غیر معمولی جرا ت بھی پیدا کردی تھی۔ وہ بڑے بڑے لوگوں کو سر عام ڈانٹ دیتے۔ ان کی باتوں کا کمزور اور بے بنیاد ہونا سرِ محفل واضح کردیتے۔ ماضی کی عظیم اور محترم و مقتدی شخصیتوں کی فروگزاشتوں پر بھی جارح تنقید کردیتے۔ اس طرح کی تنقیدوں کے وقت کبھی کبھی ان کی آواز بھی بلند ہوجاتی اور لہجہ بھی بے لچک ہوجاتا۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی یہ سخت باتیں بھی کبھی کسی پر گراں نہ گزرتیں۔ ان کی ڈانٹ میں بھی لوگوں کو ایک خداست مجذوب کی ڈانٹ کی لطافت محسوس ہوتی۔ تقریر کے دوران محفل میں موجود کسی ایک فرد پر پوری طرح مرکوز ہوجانا، اسی کو سنانا، اسی سے سوال کرنا، اسی کو ڈانٹنا، اسی کے لیے مسکرانا اور اسی پر نظریں جمائے رکھنا، یہ ان کا ایک خاص انداز تھا۔ لوگ اس انداز سے بھی خوب محظوظ ہوتے اور کبھی کبیدہ خاطر نہ ہوتے۔

یادش بخیر، مولانا سے پہلی تفصیلی ملاقات اُس وقت ہوئی جب میں ایس آئی او مہاراشٹر کا صدرِ حلقہ تھا۔ ہم نے ممبرز کے کیمپ میں انہیں پونا مدعو کیا تھا۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن فریدی مرحوم ؒبھی مدعو تھے۔مقامی جماعت نے فریدی صاحب مرحوم کے اعزاز میں معاشیات سے دلچسپی رکھنے والے شہر کے عمائدین کے لیے بلاسودی معیشت سے متعلق کسی عنوان پر پروگرام رکھا تھا۔ فریدی صاحب کی فلائٹ منسوخ ہوگئی اور وہ اس دن تشریف نہیں لائے (غالباً ایک دن تاخیر سے دوسرے دن آئے)۔عمائدین جمع تھے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ مولانا فاروق خاں ؒ موجود ہیں، ان کا پروگرام رکھ دیا جائے۔ لیکن مولانا فاروق خاں اورمالیات و معاشیات؟ کچھ لوگوں کو تامل تھا لیکن بالآخر فیصلہ ہوا اور مولانا مرحوم ؒ نے بلاسودی معیشت کے عنوان پر فی البدیہ خطاب کیا۔ خدا کی رزاقیت کی صفت کو مرکزی موضوع بناکر اپنے مخصوص صوفیانہ انداز میں مولانا نے واضح کیا کہ رزاق و جواد خدا سودی معیشت کی اجازت نہیں دے سکتا۔یہ ہمارے لیے ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔ تحریکی لٹریچر کے مخصوص استدلالی اور عقلی انداز سے یہ بیانیہ بالکل مختلف تھا۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اسلامی معاشیات پر اس انداز سے بھی بات ہوسکتی ہے۔ شرکاء بھی بہت متاثر ہوئے اور ہم مولانا کے دامن کے اسیر ہوگئے۔

اس کے بعد جب بھی دلی کا سفر ہوتا، پرانی دلی جاکر مولانا کی محفل میں کچھ وقت گزارے بغیر سفر نامکمل سا محسوس ہوتا۔ میں نے اپنے ہر دوست کو مولانا کی اس محفل کی سیر کرائی حتیٰ کہ شادی کے فوری بعد دلی کا مختصر سفر ہوا تو اپنی بیگم کو لے کر بھی ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مولانا کی محفل ایوانِ عام تھی، اس میں کوئی بھی کسی بھی وقت حاضر ہوسکتا تھا۔ ہر طرف کتابوں کی الماریوں سے بھرا ہوا ایک پرانا کمرہ، تہ در تہ کتابوں اور کاغذات سے اٹی ہوئی ایک بڑی میز اور اس میز کے پیچھے ایک کرسی پر سر پیچھے کو ٹکائے ہوئے، نیم وا آنکھوں کے ساتھ، فکر و خیال میں مست ایک قلندرانہ وجود… مولانا کے کمرے کا یہ منظر کبھی نہ بدلا۔ کچھ دیر یہاں بیٹھیے تو پتا چلتا ہے کہ کئی کام یہاں بیک وقت جاری ہیں۔ ایک طرف ایک صاحب بیٹھے مولانا کو ان کی کسی تحریر کا مسودہ سنارہے ہیں۔ ایک طرف ایک غیر مسلم طالبہ شدھ ہندی میں سوالات کررہی ہے۔ مولانا بیچ بیچ میں کاغذ اٹھاکر، اپنی زیر تکمیل تحریر مکمل کرنے لگتے ہیں۔ تین چار لوگ اِدھر اُدھر کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں جنہیں مخاطب کرکے مولانا قسم قسم کی باتیں بھی کررہے ہیں۔ اس دوران خود اٹھ کر میز کی دراز سے کافی میکر نکالتے ہیں۔ پانی گرم کرکے پہلے کپ اور طشتریوں کو گرم کرتے ہیں۔ پھر اپنی مخصوص چائے بناتے ہیں۔ کوئی اٹھ کر ان کا ہاٹھ بٹادیتا ہے۔ یہ سب کام ایک ساتھ متوازی طور پر اس طرح فطری انداز سے چل رہے ہوتے ہیں کہ وہاں ان کے عجیب ہونے کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ بعد میں غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتنا مشکل معاملہ ہے کہ مولانا کی خلوت اور جلوت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان محفلوں ہی میں وہ فلسفیانہ گتھیاں بھی سلجھا لیتے ہیں، لکھ بھی لیتے ہیں، غور وفکر بھی کرلیتے ہیں اور لوگوں کی علمی پیاس بھی بجھالیتے ہیں۔

مثلِ خورشید سحر فکر کی تابانی میں
شمعِ محفل کی طرح سب سے جدا سب کا رفیق

بعد میں جب ان کی رہائش مرکز سے متصل عمارت میں منتقل ہوئی تو کبھی کبھار وہ فجر بعد کی چائے کی محفل میں تشریف لاتے۔ مولانا تشریف لاتے تو وہ اس محفل کی توجہات کے بلاشرکت غیرے مرکز ہوتے۔ مولانا کی آمد پر یہ محفل بہت طویل ہوجاتی۔ ہمیں یاد ہی نہ رہتا کہ آٹھ بجے ایک ویڈیو کانفرنس اٹینڈ کرنی ہے اور نو بجے کسی کو اپائنٹمنٹ دیا ہوا ہے۔ اللہ نے مجھے طرح طرح کے اہلِ علم کی محفلوں سے استفادے کا موقع عنایت فرمایا۔ اسلامی علوم و فنون کے ماہرین کی محفلیں بھی اور اللہ والوں کی مجالس بھی۔ نامور سائنس دانوں اور انجینئرز کی نشستیں بھی اور دانشوروں اور قائدوں کی بزمیں بھی۔ لیکن شاید مولانا فاروق خاں کی محفل کےسوا کسی غیر رسمی محفل میں یہ خصوصیت میں نے نہیں دیکھی کہ آپ اس محفل سے کبھی تہی دامان نہیں اٹھتے۔ چند منٹ بھی بیٹھ لیں تو چاہے ہنسی مذاق کی غیر رسمی بات چیت ہی کیوں نہ ہو، علم و حکمت کا کوئی انوکھا موتی اور فکر و خیال کا کوئی اچھوتا زاویہ آپ ضرور اپنے دامن میں لے کر اٹھیں گے۔

مولانا کی رحلت پر اردو کے ایک ممتاز سوانح نگار کے یہ جملے ذہن میں گونج رہے ہیں جو انہوں نے علامہ اقبال کی رحلت پر تحریر کیے تھے۔انہیں معمولی تصرف کے ساتھ درج کررہا ہوں:

”اس محرومی کی خلش کھٹکتی ہے کہ سمندر کی ہم عصری نصیب ہوئی اور چُن پائے چند خزف ریزے۔ لیکن پھر سوچتا ہوں کہ شخصیت، علم و فضل، عظمت و کمال کے سرچشموں سے نیازمندی ایسی چیز نہیں ہے جس کو وقت کے گز سے ناپا جائے۔ اس لیے ذاتی صحبت اور ملاقات میں کسبِ فیض کے جو موقعے ملے اس کے لیے شکر کرنا چاہیے اور ان کے فکر و کلام اور شخصی محاسن کی یادوں کی دولت، جو زمان و مکان کی پابندیوں سے آزاد ہے، اس سے اور زیادہ ذوق و شوق کے ساتھ استفادہ جاری رکھنا چاہیے۔“