’’مدعیانِ ایمان‘‘کی آزمائش

ذہنی آزادی اور غلبہ وتفوق کی بنا در اصل فکری اجتہاد اور علمی تحقیق پر قائم ہوتی ہے۔ جو قوم اس راہ میں پیش قدمی کرتی ہے وہی دنیا کی رہنما اور قوموں کی امام بن جاتی ہے اور اسی کے افکار دنیا پر چھا جاتے ہیں۔ اور جو قوم اس راہ میں پیچھے رہ جاتی ہے اسے مقلد اور متبع ہی بننا پڑتا ہے۔ اس کے افکار اور معتقدات میں یہ قوت باقی نہیں رہتی کہ وہ دماغوں پر اپنا تسلط قائم رکھ سکیں۔ مجتہد اور محقق قوم کے طاقت ور افکار و معتقدات کا سیلاب انہیں بہا لے جاتا ہے اور ان میں اتنابل بوتا نہیں رہتا کہ وہ اپنی جگہ پر ٹھیرے رہ جائیں۔ مسلمان جب تک تحقیق و اجتہاد کے میدان میں آگے بڑھتے رہے، تمام دنیا کی قو میں ان کی پیرو اور مقلد ر ہیں ۔ اسلامی فکر ساری نوع انسانی کے افکار پر غالب رہی۔ حُسن اور فتح، نیکی اور بدی ، غلط اور صحیح ،شائستہ اور غیر شائستہ جو معیار اسلام نے مقرر کیا وہ تمام دنیا کے نزدیک معیار قرار پایا اور قصد اًیا اضطراراً دنیا اپنے افکار و اعمال کو اسی معیار کے مطابق ڈھالتی رہی۔ مگر جب مسلمانوں میں اربابِ فکر اور اصحاب تحقیق پیدا ہونے بند ہو گئے ، جب انہوں نے سوچنا اور دریافت کرنا چھوڑ دیا، جب وہ اکتسابِ علم اور اجتہادِ فکر کی راہ میں تھک کر بیٹھ گئے تو گویا انہوں نے خود دنیا کی رہنمائی سے استعفا دے دیا۔ دوسری طرف مغربی قو میں اس راہ میں آگے بڑھیں۔ انہوں نے غور وفکر کی قوتوں سے کام لینا شروع کیا، کائنات کے راز ٹٹولے اور فطرت کی چھپی ہوئی طاقتوں کے خزانے تلاش کیے۔ اس کا لازمی نتیجہ وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ مغربی قو میں دنیا کی راہنما بن گئیں اور مسلمانوں کو اسی طرح اُن کے اقتدار کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا پڑا جس طرح بھی دنیا نے خود مسلمانوں کے اقتدار کے آگے خم کیا تھا۔