انٹرنیٹ پر موجود مواد غائب ہو رہا ہے

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود ویب پیج اور آن لائن کونٹینٹ غائب ہورہا ہے۔
تازہ ترین تحقیق کے مطابق ویب کو اکثر ایسی جگہ سمجھا جاتا ہے جہاں کونٹینٹ ہمیشہ رہتا ہے۔ لیکن پیجز کے ڈیلیٹ یا ہٹا دیے جانے کی وجہ سے انٹرنیٹ کا بڑا حصہ ختم ہورہا ہے۔
مثال کے طور پر انٹرنیٹ پر 2013ء میں جتنے ویب پیجز تھے ان کا 38 فی صد حصہ غائب ہوچکا ہے۔ یہاں تک کہ نئے ویب پیجز بھی غائب ہوتے جارہے ہیں، 2023ء میں موجود ویب پیجز کا 8 فی صد حصہ اب دستیاب نہیں ہے۔تحقیق کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود بھاری مقدار میں خبریں اور اہم حوالہ جات غائب ہورہے ہیں۔ 23 فی صد کے قریب نیوز پیجز اور 21 فی صد حکومتی ویب سائٹس میں کم از کم ایک ناکارہ لنک ہوتا ہے جبکہ وکی پیڈیا کے 54 فی صد پیجز کے حوالوں میں ایک لنک ایسا ہوتا ہے جو وجود ہی نہیں رکھتا۔ایسا ہی کچھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ بھی ہورہا ہے۔ 20 فی صد ٹوئٹس ایکس پر پوسٹ کیے جانے کے بعد چند مہینوں میں غائب ہوجاتی ہیں۔واشنگٹن میں قائم پیو ریسرچ سینٹر میں کی جانے والی اس تحقیق میں تقریباً 10 لاکھ ویب پیجز کے نمونوں کو اکٹھا کیا گیا اور دیکھا گیا کہ آیا یہ پیجز 2013ء سے 2023ء کے درمیان وجود رکھتے تھے یا نہیں۔ا