مولانا مودودیؒ کی برسی پر نئے مودودی کی پیدائش

ڈاکٹر فاروق عادل ملک کے ایک معروف صحافی ہیں، ان کا ایک مضمون ’’مولانا مودودی کیا تھے؟‘‘ 22 ستمبر 2024ء کو روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوا، جس کو پڑھ کر یہ احساس ہوا کہ اس میں نہ صرف مولانا مودودی کے حوالے سے بلکہ سرسید اور اقبال کے فکری اور شخصی حوالے سے بھی کئی مغالطے موجود ہیں جن کی نشان دہی ضروری ہے۔ ڈاکٹر فاروق عادل کے اس مضمون میں ایسے کئی نکات ہیں جن پر انفرادی طور پر نکتہ چینی کی جاسکتی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس کس نکتے پر بات کی جائے! ایسا لگتا ہے کہ ڈاکٹر فاروق عادل نے اپنے مضمون میں جان بوجھ کر ’’مولانا مودودی کیا تھے؟‘‘ کا سوال اٹھایا ہے۔ بجائے اس کے کہ مولانا مودودی کون تھے؟ ’’کیا‘‘ کے انتخاب سے دو اہم نکات ظاہر ہوتے ہیں۔ اوّل یہ کہ ڈاکٹر صاحب یہ بات اجاگر کرنا چاہتے ہیں کہ مولانا مودودی دراصل کیا تھے اور لوگوں نے انہیں کیا بنادیا ہے۔ دوم یہ کہ ’’کیا‘‘ کا انتخاب ایک تجربے کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ سوال مولانا مودودی کی ذاتی شناخت یعنی ’’کون‘‘ سے ہٹ کر زیادہ تر ان کی فکری اور نظریاتی ماہیت (یعنی کیا) پر زور دیتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عادل اس بات سے زیادہ دل چسپی رکھتے ہیں کہ ان کے نظریات کی اصل کیا تھی؟ یہ سوال قاری کو مولانا مودودی کے افکار کے اثرات اور ان کی نظریاتی تبدیلیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ان دائروں میں مولانا ایک فرد کے بجائے ایک علامت یا نظریے کے ترجمان بن جاتے ہیں۔

ڈاکٹر فاروق عادل اپنے کالم کے آغاز میں فرماتے ہیں کہ مولانا مودودی کو ہم سے بچھڑے ہوئے 45 سال ہوچکے ہیں اور اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی ہے کہ ان کے مقام اور خدمات کو درست تناظر میں دیکھا جائے۔ فاروق عادل پہلا اعتراض یہ اٹھاتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں جس طرح دوسرے لوگ اپنے بزرگوں اور قائدین کی عظمت کے گن گاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح مولانا مودودی کے لیے بھی القاب استعمال کیے جانے لگے ہیں جیسے امام العصر، مجددِ اسلام اور فاتح تختۂ دار وغیرہ۔ اس قسم کے القاب پڑھ کر ان کے لیے بھی خطیبِ اسلام اور واعظ شعلہ بیان قسم کے بزرگوں کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ پھر وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا واقعی مولانا مودودی ایسے تھے؟ اور کیا وہ اپنے بارے میں اسی قسم کا تاثر پیدا کرنا چاہتے تھے؟ اور پھر اس کا جواب دیتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ مولانا مودودی جن دنوں اپنے ناقدین کی بدترین تنقید کا نشانہ تھے، کچھ لوگوں کی طرف سے کہا گیا کہ وہ مجدد یا مہدی بننا چاہتے ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ وہ کوئی بھی دعویٰ کیے بغیر اس دنیا سے کوچ کر جائیںگے۔ اس بات کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ پوری اسلامی تاریخ میں جو القاب جس کسی کو دیے گئے ہیں وہ اس کی خدمات اور اس کے کام کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے دیے گئے ہیں۔ مولانا مودودی کا اپنے لیے کوئی لقب منتخب نہ کرنا ان کی عاجزی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو القاب لوگ انہیں دیتے ہیں وہ درست نہیں، یا مولانا مودودی ان کے مستحق نہیں۔ مولانا مودودی کا کام اس بات کی دلیل ہے کہ ان کو احترام اور القاب سے یاد کیا جائے۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے کہ مولانا مودودی نے کیوں کہ اپنے لیے کوئی لقب نہیںچنا، یا کچھ کہلوانا پسند نہیںکیا تو اس سے یہ بات کہاں نکلتی ہے کہ دوسرے ان کو اس کا مستحق نہ سمجھیں! مثال کے طور پر علامہ اقبال، سید سلیمان ندودی کے نام اپنے ایک خط میں فرماتے ہیں کہ ’’عجب نہیں کہ آئندہ نسلیں مجھے شاعر تصور نہ کریں۔‘‘ ایک اور جگہ فرماتے ہیں اور یہ قول ’کلیاتِ اقبال‘ کے آغاز میں بھی ہے کہ ’’میں نے کبھی اپنے آپ کو شاعر نہیں سمجھا۔ اس واسطے میرا کوئی رقیب نہیں اور نہ میں کسی کو اپنا رقیب سمجھتا ہوں۔ فنِ شاعری سے مجھے کبھی دل چسپی نہیں رہی۔‘‘ اس کے باوجود علامہ اقبال کو نہ صرف شاعر بلکہ شاعر مشرق اور پاکستان کے قومی شاعر جیسے القاب سے نوازا جاتا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ علامہ اقبال کو شاعرِ مشرق کہنے والے غلط ہیں، یا وہ اقبال کو سمجھنے سے قاصر ہیں؟

اب آجاتے ہیں ڈاکٹر فاروق عادل کی اس بات پر کہ جب مولانا مودودی کے ناقدین ان کے پیچھے پڑے ہوئے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ مولانا مودودی اپنے آپ کو امام مہدی یا مجدد قرار دینے والے ہیں، اس کے جواب میں مولانا مودودی نے فرمایا کہ میں اِس دنیا سے کوئی دعویٰ کیے بغیر چلا جائوں گا اور ناقدین دیکھتے رہ جائیں گے۔

جیسا کہ ظاہر ہے مولانا مودودی کے ناقدین ان کی تعریفوں کے پل نہیں باندھ رہے تھے بلکہ اتنا بڑا بہتان لگا رہے تھے کہ مولانا مودودی مہدی ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہیں۔ جس کے جواب میں مولانا نے یہ بات فرمائی۔ اس بات کو بھی اس کے سیاق و سباق میں سمجھنا چاہیے، کیوں کہ یہ اتنی سلجھی ہوئی بات نہیںہے بلکہ اس کا تعلق ان کے تصور مہدیت سے ہے۔ اس کا اصل پس منظر یہ ہے کہ مولانا کے نزدیک جیسا کہ انہوں نے ’’تجدید و احیائے دین‘‘ میں تشریح کی ہے، امام مہدی ایک آئیڈیل مجدد ہوں گے۔ اور مولانا مودودی کے نزدیک ’’مہدیت دعویٰ کرنے کی چیز نہیں، کرکے دکھائی جانے والی چیز ہے۔‘‘ اس وجہ سے ان کے مخالف علما نے یہ الزام لگایا کہ مولانا خود کو مہدی قرار دینے والے ہیں، حالانکہ مولانا مودودی نے اپنی کتاب میں صاف صاف لکھا ہے کہ اپنے کام کا آغاز نبی ہی دعوے سے کرسکتا ہے، اور یہ حق کسی کے پاس نہیں۔

پھر فاروق عادل صاحب یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ’’سوال یہ ہے کہ مولانا مودودی کیا تھے اور ان کا مرتبہ کیا ہے‘‘ اور پھر فرماتے ہیں کہ ’’مولانا مودودی کو سمجھنے کے لیے سرسید احمد خان اور اُن کے سب سے بڑے نظریاتی حریف علامہ شبلی نعمانی کے درمیان اختلاف کو سمجھنا ضروری ہے کہ برصغیر کے ان دو نظریاتی دھاروں کے ہوتے ہوئے اقبال نے ایک عظیم مقام کیسے حاصل کیا۔ کیسی عجیب بات ہے کہ مولانا مودودی کو سمجھنے کے لیے صرف اقبال اور شبلی کو ہی نہیں بلکہ سرسید کو پڑھنا اور ان کے اور شبلی کے درمیان اختلاف کو سمجھنا بھی ضروری ہے! حقیقت میں ان میں سے کسی چیز کا تعلق مولانا کی ذات یا فکر سے رتی برابر بھی نہیں۔ مولانا کی فکر میں ان تینوں شخصیات کا کوئی اثر نہیں۔ اور تو اور اگر مولانا یہ فقرہ خود پڑھ لیتے کہ ان کو سمجھنے کے لیے سرسید کو پڑھنا ضروری ہے یا سرسید کی کڑی مولانا تک آکر رکتی ہے تو مولانا یہی فرماتے جو انہوںنے برہان فاروقی کی کتاب The Mujaddid’s Conception of Towhid پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا تھا۔

مولانا لکھتے ہیں کہ ’’اوّل تو ان دونوں حضرات (سرسید اور مولوی عبداللہ چکڑالوی) کا ذکر مجدد صاحب، شاہ ولی اللہ صاحب، شاہ اسماعیل شہید اور سید احمد بریلوی کے سلسلے میں لانا یہ غلط فہمی پیدا کرتا ہے کہ گویا یہ بھی اسی سلسلے کے آدمی ہیں۔ پھر سرسید کے کام کو اصلاح اور تنقید عالی کے الفاظ سے تعبیر کرنا اور یہ کہنا کہ مسلمانوں میں ان کے بعد جتنی اہم مذہبی، سیاسی، اجتماعی، ادبی اور تعلیمی تحریکیں اٹھیں ان سب کا سرِ رشتہ کسی نہ کسی طرح سے ان سے ملتا ہے۔ دراصل وہ مبالغے کی حد تک بھی متجاوز ہیں۔ علی گڑھ کے تعلق کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کو خواہ سرسید سے کتنی ہی ارادت ہو مگر جب وہ ایک مسلمان محقق کی حیثیت سے سامنے آرہے ہیں تو انہیں بے لاگ حق کا اظہار کرنا چاہیے۔‘‘ اور پھر اس عبارت کے آخر میں دیکھیے مولانا مودودی سرسید کے بارے میں کیا فرماتے ہیں:

’’سچ یہ ہے کہ 1857ء کے بعد سے اب تک جس قدر گمراہیاں مسلمانوں میں پیدا ہوئی ہیں ان کا شجرۂ نسب بالواسطہ یا بلاواسطہ سرسید کی ذات تک پہنچتا ہے۔ وہ اس زمین میں تجدد کے امامِ اوّل تھے اور پوری قوم کا مزاج بگاڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے۔‘‘

یہ تھا مولانا کا سرسید کے بارے میں تجزیہ۔ اور اب دیکھیے فاروق عادل صاحب سرسید کے بارے میںکیا فرما رہے ہیں:

’’سرسید بہت بڑی شخصیت ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا اور مذہب اور عقل کے ربطِ باہمی کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کی تعبیرات ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کی گئیں، یہ فطری تھا۔‘‘

چلیے اب ذرا سرسید کی تعلیمی خدمات کا بھی جائزہ لیتے ہیں اور ان کے مقاصد کو اچھی طرح سمجھ لیتے ہیں۔

نوآبادیاتی تعلیم کے اہداف میں سے ایک، برطانوی ثقافتی بالادستی بھی تھی، اس لیے یہاں ہمیں بدنامِ زمانہ لارڈ میکالے یاد آتا ہے۔ لارڈ تھامس بیبنگٹن میکالے ایک برطانوی منتظم (Administrator) تھا، جس نے ہندوستان میں تعلیمی پالیسیوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ لارڈ میکالے کا 1835ء میں تحریر کردہ ’’منٹ آف انڈین ایجوکیشن‘‘ جو نوآبادیاتی مطالعات میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے، برطانوی ثقافتی بالادستی کے لیے حکمتِ عملی کا تعین کرتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد انگریزی زبان، ادب اور مغربی اقدار کی تعلیم دینا تھا، جب کہ مقامی زبانوں، علم اور اقدار کو مکمل طور پر نظرانداز، کمزور اور مغلوب کرنا تھا۔ میکالے کے مطابق اس کا آخری مقصد ایک ایسا طبقہ پیدا کرنا تھا جو ’’خون اور رنگ میں ہندوستانی لیکن ذوق، رائے، اخلاقیات اور ذہانت میں انگریز‘‘ ہو۔ لارڈ میکالے نے اپنے مشہور ’’منٹ آن ایجوکیشن‘‘ میں 1835ء میں انگریزی زبان اور تعلیم کو روایتی، مقامی علم اور زبانوں پر ترجیح دینے کی حمایت کی جنہیں وہ بے کار اور کھنڈرات کا ڈھیر سمجھتا تھا۔ اُس نے دعویٰ کیا کہ انگریزی تعلیم ایک ایسا طبقہ پیدا کرے گی جو مغربی نقطۂ نظر رکھتا ہو، جس سے برطانوی سلطنت کا انتظام چلانے میں آسانی ہو۔ میکالے نے کہا ’’میں نے کبھی کسی Orientalist (مشرق شناس) کو نہیں دیکھا جو تسلیم کرے کہ ایک اچھی یورپین لائبریری کی ایک شیلف پورے ہندوستان اور عرب کے تمام مقامی ادب سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔ اور ٹھیک یہی پالیسی سرسید کی تھی جنہوں نے نہ صرف ٹھیک انہی خیالات کا اظہار کیا بلکہ کئی مقامات پر میکالے کی اس حوالے سے تعریف کی، میکالے کی پالیسی کو اپنا مقصد بنایا، اور میکالے کو ایک مسیحا کے طور پر پایا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سرسید ایک ایسے خطرناک احساسِ کمتری کا شکار تھے جس نے انہیں انگریزوں کی طرح ہندوستان کے رہنے والے باشندوں کو بھی ’’جنگلی جانوروں‘‘ کے مترادف قرار دیا۔ سرسید کا کردار بطور معلم (Educationist) ، دانش ور، سماجی و سیاسی کارکن، برطانوی نظام (Colonial) کو ہندوستان میں مضبوط کرنے کا تھا۔ وہ صرف ظاہری تبدیلیاں لانے کی حمایت کرنے پر مطمئن نہیں تھے، جیسا کہ کھانے کے آداب میں تبدیلیاں۔

ان کا مشن مقامی عناصر اور شناخت کو مکمل طور پر برطانوی طریقوں کے مطابق ڈھالنا اور ہمیشہ کے لیے نوآبادیاتی حکمرانوں کو جائز قرار دینا رہا۔ میکالے کی طرح سرسید بھی اس بات کے قائل تھے کہ برطانوی ہندوستان میں تعلیم کا مقصد انگریزی بولنے والے ہندوستانیوں کا ایک ایسا طبقہ پیدا کرنا تھا جو مکمل طور پر برطانوی ثقافت اور اقدار میں ضم ہوچکا ہو اور برطانوی نوآبادیات کا مکمل طور پر وفادار ہو۔ اور تو اور 1869ء کے بعد سرسید نے یورپی زبانوں خاص طور پر انگریزی کی حمایت میں مقامی زبانوں کے خلاف ’’جہاد‘‘ کرنا شروع کردیا، جیسا کہ وہ لکھتے ہیں:

’’اگر ہم اپنی اصلی ترقی چاہتے ہیں تو ہمارے لیے فرض ہے کہ ہم اپنی زبان تک بھول جائیں، تمام مشرقی علوم کو نسیا منسیا کردیں، ہماری زبان یورپ کی اعلیٰ زبانوں میں سے انگلش یا فرنچ ہوجائے، یورپ میں ہی ترقی یافتہ علوم دن رات ہمارے دستِ حال ہوں تاکہ اپنے مفادات کو پورا کیا جاسکے۔‘‘

اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سب سے بڑا ہتھیار مقامی آبادی کے ذہن اور ثقافت پر کنٹرول تھا۔ اس سلسلے میں جبری نو آبادیاتی تعلیم سب سے زیادہ کام آئی۔ جبری نوآبادیاتی تعلیم مسلمانوں کے عقائد، اخلاق اور ثقافت کے لیے ضرر رساںثابت ہوئی۔ یہاں تک کہ جی ایچ جینسن (G.H.Jansen) بیان کرتا ہے کہ کوئی بھی مشنری یا دوسری مغربی کوششیں مسلمانوں کو اسلام کی اقدار پر سنجیدگی سے عمل کرنے سے روکنے میں ناکام رہیں۔ صرف مغربی تعلیم نے مغربی دنیا کو اس قابل بنایا کہ وہ مسلمانوں کو اسلام کی اہمیت کو کم کرنے پر قائل کرسکے۔

جینسن لکھتا ہے ’’جیسا کہ ہم نے دیکھا، اسلام بہ حیثیت مذہب 350 سال کی عیسائی مشنری کوششوں سے بہت کم متاثر ہوا۔ یہ ڈیڑھ سو سال کی نوآبادیاتی فتح اور سامراجی حکمرانی سے بھی کم متاثر ہوا۔ یہ بات درست طور پر کہی گئی ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مسلمانوں پر کون حکمرانی کرتا ہے، جب تک وہ انہیں ان کے حال پر نہ چھوڑ دے، حتیٰ کہ مسلمان مخالف حکمران بھی اسلامی کمیونٹی کے خلاف آہستہ آہستہ پیش قدمی کرسکتے ہیں۔ لیکن ایک شعبہ تھا تعلیم، جہاں نوآبادیاتی حکمرانی نے مسلم معاشرے پر گہرے اثرات ڈالے، کیوں کہ غیر مسلم حکمرانوں نے غیر معمولی اتفاقِ رائے اور خاص مقصد کے ساتھ جتنا ممکن ہوا کم تعلیم دینے کی کوشش کی، اور جب تعلیم دینی ضروری ہوئی تو غلط قسم کی تعلیم دی تاکہ مسلم کمیونٹی کی روح میں ایک تفریق یا پھوٹ ڈالی جائے۔ پہلے سے موجود طرزِ حکمرانی، رویوں اور خیالات کو ختم کرنے کے لیے مغربی استعمار نے مغربی تعلیم کا استعمال کیا۔‘‘

جینسن ایک اور جگہ لکھتا ہے:
’’مغربی یلغار کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ موجودہ مقامی تعلیمی نظام کو یا تو منہدم کیا جائے یا نظرانداز کیا جائے۔ جتنی کم ہوسکے مغربی تعلیم فراہم کی جائے اور یورپی زبان کے ذریعے معاشرے کی روح میں ایک تقسیم پیدا کی جائے جس کے ذریعے اشرافیہ کو اپنے ثقافتی پس منظر سے بے گانگی کی حالت میں تعلیم دی جائے۔‘‘

یہاں تک کہ سرسید کا علی گڑھ کالج بنانے کا مقصد بھی یہی تھا۔ سرسید ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:

’’اس کالج کا بنیادی مقصد مسلمانوں میں عمومی طور پر، اور خاص طور پر ممتاز مسلمان خاندانوں میں یورپی سائنس اور ادب کو فروغ دینا ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسا طبقہ تیارکرنا ہے جو خون او رنگ کے لحاظ سے ہندوستانی ہو… لیکن مزاج اور فہم کے لحاظ سے انگریز ہو۔‘‘

تھیوڈور بیک جس کو سرسید نے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کا پرنسپل بنایا، اُس نے بھی کھل کر یہ دعویٰ کیا کہ کالج کا مقصد ہندوستانیوں کی برطانوی حکومت کے خلاف مزاحمت کو کچلنا اور انہیں وفادار بنانا ہے۔ اس نے کہا:

’’انگریزی تعلیم وہ کوشش ہے جو ہمارے نزدیک مادّی خوش حالی کے لیے سب سے فائدے مند نظر آتی ہے اور یہ جنونیت اور بے وفائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سب سے زیادہ مؤثرہے۔‘‘

چلیے آگے بڑھتے ہیں۔ پھر فاروق صاحب اقبال کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’ اقبال کا نظریہ یہ تھا کہ جدید ترین تعلیم حاصل کی جائے، حتیٰ کہ فقہ اسلامی کی تشکیلِ جدید بھی کی جائے، لیکن اپنی اصل کو نہ چھوڑا جائے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اقبال کا جدید فقہ کی تشکیل کا یہ جو مطالبہ ہے جسے اقبال کی عظمتوں میں سے ایک بتایا جارہا ہے، یہ دراصل ان کی چند کمزوریوں میں سے ایک ہے۔ کچھ ایسے شواہد بھی ملتے ہیں خاص طور پر اقبال کے خطوط میں، جو یہ ثابت کرتے ہیںکہ اقبال کا خود اس پر راسخ ایمان نہیں تھا۔‘‘

اس کے بعد فاروق صاحب پہلے اقبال اور پھر مودودی کے حوالے سے ایک ایسی بات کہتے ہیںجو سمجھ سے بالاتر ہے۔ آپ لکھتے ہیںکہ ’’اقبال کی فکر کا ایک اور اہم نکتہ ان کا خطبہ الٰہ آباد ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ امپیریلزم یعنی ملوکیت سے نجات میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری نسلِ انسانی کی بقا ہے۔ یہ دو الفاظ لسانی اعتبار سے تو ہم آہنگ اور ہم معنی ہیں لیکن علم اشتقاقِ الفاظ کے اعتبار سے ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ لفظ ملوکیت عربی زبان کے لفظ ملک یا اسم جمع ملوک سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں: بادشاہ، اور ملوکیت یعنی بادشاہت۔ مثال کے طور پر امام غزالی کی ایک کتاب ’’نصیحتِ ملوک‘‘ کا ترجمہ ’’بادشاہوں کو نصیحت‘‘ کے نام سے ہوا، یا پھر جیسا کہ قرآن کی سورہ فاتحہ میں آیا ہے مالک یوم الدین۔ جیسے مالک یا ملک دونوں پڑھا جاتا ہے جس کا ترجمہ ہے ’’روزِ آخر کا مالک‘‘۔ اور امپیریلزم جس کے لیے اردو میں اکثر سامراج کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ایک انگریزی لفظ ہے جو کہ لاطینی زبان کے لفظ Imperium سے نکلا ہے، اور سامراج (Imperialism) ایک ایسے نظریے کو کہا جاتا ہے جس میں ایک ملک یا امپائر اپنی طاقت اور اثر رسوخ کو دوسری قوموں یا علاقوں پر بڑھاتا ہے۔ اکثر اکثریتی قوت استعمار یا اقتصادی تسلط میں دوسرے علاقوں پرسیاسی اور اقتصادی کنٹرول کا قیام شامل ہوتا ہے اور عام طور پر اس کے نتیجے میں وسائل کا استحصال اور مقبوضہ لوگوں پر نوآبادیاتی طاقت کی ثقافت اور نظام کا نفاذ ہوتا ہے۔ تاریخ میں نوآبادیاتی نظام متاثرہ علاقوں کے سماجی، سیاسی اور اقتصادی ڈھانچوں میں نمایاں تبدیلیوںکا باعث بنا۔

اگر فاروق صاحب کی بات مان لی جائے کہ امپیریلزم اور سامراج ایک ہی چیز ہیں تو کیا اس سے مراد امریکہ میں بادشاہت کے ہیں؟ رہی بات فاروق صاحب کی کہ خطبہ الٰہ آباد میں علامہ اقبال نے فرمایا کہ امپیریلزم یعنی ملوکیت سے نجات میں پوری انسانی نسل کی بقا ہے تو آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ خطبۂ الٰہ آباد میں ملوکیت کو چھوڑیے امپیریلزم کا لفظ دو دفعہ سے زیادہ استعمال نہیں ہوا۔ اقبال نے امپیریلزم کا لفظ ایک جگہ سلطنتِ برطانیہ کے لیے استعمال کیا ہے، دوسری جگہ اس کو عرب اثرات کے لیے استعمال کیا ہے۔ خود دیکھ لیجیے کہ اقبال کیا کہہ رہے ہیں اور کس تناظر میں کہہ رہے ہیں:

I, therefore demand the formation of a consolidated Muslim State in the best interests of India and Islam. For India it means security and peace resuting from an internal balance of powers for Islam an opportunity to rid it self of the stamp that, Arabian Imperialism wasforced to give it, to moblize its law, its education, its culture and to bring them into closer contact with its own original sprit and with the sprit of modern times.

رہی اقبال کی عربک امپیریلزم والی بات، تو یہ بھی تنقید کے لائق ہے۔

ڈاکٹر فاروق عادل اس بات کو اقبال کے ہی نہیں بلکہ مولانا مودودی کے سر ڈالنا چاہتے ہیں۔ فاروق صاحب لکھتے ہیں:

’’خطبہ الٰہ آباد کے بعد تو اقبال کو زیادہ وقت نہ ملا، لیکن ان کے بعد بھی یہ فکر آگے بڑھتی رہی۔ یہ کام مولانا مودودی نے کیا۔ مولانا مودودی اقبال کے جونیئر ہم عصر تھے، جن کا دور قیام پاکستان کے بعد شروع ہوتا ہے۔‘‘

کتنی حیرت کی بات ہے کہ مولانا مودودی کا دور پاکستان کے قیام کے بعد شروع ہوتا ہے۔ کہیں اس سے پہلے مولانا چنے تو نہیں بیچا کرتے تھے؟

پاکستان بننے سے پہلے مولانا کے سیکڑوں مضامین ’’ترجمان القرآن‘‘ میں شائع ہوچکے تھے، کئی کتب بھی شائع ہوچکی تھیں جن میں ’’الجہاد فی الاسلام‘‘، ’’پردہ‘‘ ، ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحات‘‘ اور ’’اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی‘‘ جیسی کتابیں شامل ہیں۔ جماعت اسلامی بھی وجود میں آچکی تھی اور مولانا علمی حیثیت سے اپنا آپ منوا چکے تھے۔

فاروق صاحب لکھتے ہیں کہ ’’اُن کے اپنے مکتبۂ فکر کے مطابق تفہیم القرآن مولانا مودودی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔‘‘

یہاں یہ بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ مؤقف مولانا کے مکتبۂ فکر کا نہیں بلکہ یہ خود مولانا مودودی کی رائے ہے۔

فاروق صاحب آگے لکھتے ہیں کہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ ہے۔

یہ فاروق صاحب کی ذاتی رائے تو ہوسکتی ہے لیکن یہ مولانا کے اپنے قول کی نفی کرتی ہے اور حقیقتاً بھی درست نہیں، کیوں کہ ’’خلافت و ملوکیت‘‘ مولانا کے تمام کاموں میں نقطے (Fullstop) کی حیثیت رکھتی ہے یعنی اس پر مولانا کی فکر کا کام مکمل ہوا، مگر مولانا مودودی کا اصل کارنامہ تجدیدِ دین ہے۔ ایک ایسے دور میں جب مذہب کو ایک نجی معاملہ بناکر رکھ دیا گیا تھا مولانا نے اس کے برعکس بتایا کہ دین ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہے۔‘‘

آخر میں فاروق صاحب فرماتے ہیں کہ:
’’قیام پاکستان کے بعد کشمیر میں جنگ کا پہلا مرحلہ 1948ء میں آیا۔ مولانا مودودی نے اس وقت کہا کہ اگر ریاست اس جنگ کو تسلیم کرتی ہے تو یہ جہاد ہے ورنہ نہیں۔ جہادِ افغانستان بھی ان کی زندگی میں شروع ہوگیا تھا۔ ان کے حلقے کے بہت سے لوگ اس جنگ میں نجی یا تنظیمی حیثیت سے شریک ہونا چاہتے تھے لیکن مولانا مودودی نے اسے کبھی درست قرار نہ دیا۔ پروفیسر سلیم منصور خالد نے اس کی بیشتر تفصیلات اپنی کتاب ’’تصریحات‘‘ میں لکھ دی ہیں۔ مولانا مودودی کا ذہن جنگ و جدل کے معاملے میں بھی ریاست کے نظام کی طرح بالکل واضح تھا۔ وہ کسی پرائیویٹ شخص یا گروہ کو ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں دیتے تھے۔ ان کا یہ مؤقف بھی آج بالکل درست ثابت ہوگیا کہ پرائیویٹ جہاد دراصل فساد کا دروازہ کھولنے والی بات ہے۔‘‘

مولانا مودودی کا مؤقف یہ نہیں تھا کہ ’’اگر ریاست اس جنگ کو تسلیم کرتی ہے تو یہ جہاد ہے ورنہ نہیں‘‘۔ اصل میں مولانا کا مؤقف یہ تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف معاہدے، تجارت اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں جس کی رو سے پاکستانی شہریوں کا جنگ میں حصہ لینا اُس وقت تک درست نہیں جب تک دونوں ممالک کے درمیان یہ معاہدے قائم ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کشمیری اور وہ قبائلی لوگ جنہوں نے پاکستان کی شہریت کو اب تک قبول نہیں کیا، ان کی بھارت کے خلاف جدوجہد جہاد کے مترادف نہیں ہے۔ وہ جہاد ہی ہے۔ مولانا نے لکھا کہ قبائلی لوگ جہاد میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس طرح فاروق عادل صاحب کی بات کی بھی نفی ہوجاتی ہے کہ مولانا کسی شخص یا گروہ کو ذاتی طور پر ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں دیتے تھے۔ مولانا نے مطالبہ کیا کہ لوگوں کو ریاست پر دبائو ڈالنا چاہیے کہ وہ تمام معاہدے اور تعلقات ختم کرے اور جہاد کا اعلان کرے۔

مولانا ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’حاشا و کلا میں تو دل سے یہ چاہتا ہوں کہ ان کو (کشمیریوں کو) بچانے کے لیے کچھ کیا جائے، لیکن میرے نزدیک اس کی صحیح تشریح یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان حکومتِ ہند سے معاہدانہ تعلقات ختم کردے پھر خواہ وہ کشمیر میں کارروائی کرے یا نہ کرے ہم اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے آزاد ہوجائیں گے۔‘‘

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ستمبر 1948ء میں جب پاکستانی حکومت نے کشمیر کی سرزمین پر پاکستانی فوجیوں کی موجودگی کا اعتراف کیا تو اس کو نظر میں رکھتے ہوئے جماعت اسلامی نے ایک مجلس شوریٰ بلائی جس کی تفصیلات مولانا نے شبیر احمد عثمانی کو لکھے گئے اپنے خط میں تحریر کیں:

’’حکومتِ پاکستان کے اس اقرار و اظہار اور حکومت کے اس پر مطلع ہو جانے کے بعد مسئلے کی نوعیت شرعاً بالکل بدل چکی ہے۔ اب جو معاہدانہ تعلقات دونوں مملکتوں کے درمیان ہیں وہ دراصل اس معنی میں ہیں کہ ایک علاقے میں حالتِ جنگ کا قیام اور دوسرے تمام علاقوں میں مصالحانہ روابط کی بقا فریقین کی رضا مندی سے ہے، لہٰذا دونوں صورتوں میں اب اہلِ پاکستان کے لیے جہادِ کشمیر میں حصہ لینا بالکل جائز ہے۔‘‘

ٹھیک اس کے بعد دیکھیے مولانا کیا لکھتے ہیں:
’’اس کے ساتھ جماعت نے یہ بھی طے کیا ہے کہ اب وہ خود اس جنگ میں عملاً حصہ لے گی۔‘‘

آخر میں ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ فاروق عادل صاحب نے اپنے مضمون میں مولانا کو ریاست کا پٹھو بنانے کی کوشش کی ہے جب کہ مولانا اس بات کے محتاج نہیںکہ کسی جنگ کو جہاد قرار دینے کے لیے وہ ریاست کی اجازت کے منتظر ہوں۔ لہٰذا فاروق صاحب کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ مولانا کا مؤقف ریاست کے برخلاف تھا اور اسی لیے اُن پر حکومت کی طرف سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وہ ہندوستان کے ایجنٹ ہیں اور کشمیر کے جہاد کو حرام قرار دیتے ہیں۔ اور اسی لیے انہیں حراست میں بھی لے لیا گیا تھا۔