ریڈیو کی تقریر یا اور کوئی پہلے سے وضع کیا ہوا پروگرام اگر وقتی ماحول کے ساتھ لگّا کھائے تو مزہ دے جاتا ہے ورنہ سخت بے ہنگم معلوم ہوتا ہے، یا یوں کہیے کہ ”دال روٹی پوسٹ کارڈ“ ہوکر رہ جاتاہے۔
جناب خواجہ ناظم الدین کو ایک مرتبہ ملک کے سربراہ کی حیثیت سے ڈھاکہ کے عام جلسے میں تقریر کرنا تھی۔ شامیانے، جھنڈیاں، کرسیاں، صوفے، شہ نشین اور پولیس ٹریفک غرض کہ تمام انتظامات مکمل ہوگئے تھے کہ اتنے میں کالے کالے بادل اُفق سے اٹھے اور تمام آسمان پر چھا گئے۔ بادل کی گرج اور بجلی کی چمک سے سب کے دم خشک ہوگئے تھے۔ میں خواجہ صاحب کی تقریر کے سلسلے میں ڈھاکہ گیا ہوا تھا اور خواجہ صاحب کی سرگرمیوں کی رپورٹ ریڈیو پاکستان کے خبروں کے محکمے کو کراچی بھیج رہا تھا۔ میں نے خبر بھیجی کہ جلسے کے تمام انتظامات مکمل ہوچکے ہیں، خواجہ صاحب تشریف لانے والے ہی ہیں لیکن گھٹا برسنے کو تلی کھڑی ہے، بادل گرج رہے ہیں، بجلی چمک رہی ہے، کوندا لپک رہا ہے، اگر بارش ہوگئی تو سب پروگرام درہم برہم ہوجائے گا۔ لوگ باگ دعائیں مانگ رہے ہیں کہ بادل چھٹ جائیں یا کم از کم جلسے کے اختتام تک برسنے کا ارادہ ملتوی کردیں۔
ریڈیو کی گھنڈی گھمائی کہ سنوں کراچی سے یہ خبر نشر ہورہی ہے یا نہیں۔ وہاں سے میری بھیجی ہوئی خبر تو کیا نشر ہوتی، عباس الدین مرحوم کے گانے کا ریکارڈ نشر ہورہا تھا:
اللہ میگھ بھیج دے، اللہ پانی بھیج دے
تقریروں کا پروگرام وضع کرنے میں ایک اور بھی دقت ہوتی ہے، اور وہ یہ کہ قومی ضروریات کے پیش نظر زراعت، مالیات اور اقتصادیات وغیرہ پر تقریروں کا پروگرام مرتب کیا جاتا ہے۔ یہ موضوعات بہت اچھے ہیں۔ ان موضوعات کو پروگراموں میں دیکھ کر اخبارات دانہ تو نہیں دیتے لیکن خاموش ضرور ہوجاتے ہیں، اور ویسے بھی ریڈیو والوں کا راج دربار میں بڑا نام ہوتا ہے کہ دیکھو کیسے اچھے مضمونوں پر تقریر کرا رہے ہیں، لیکن ریڈیو والوں کو دقت یہ آن پڑتی ہے کہ وہ تقریریں کرائیں کس سے؟ لامحالہ قرعہ فال ان افسروں کے نام پڑتا ہے جو متعلقہ وزارت میں کام کررہے ہوں۔ یہ حضرات مضمون سے تو واقف ہوتے ہیں لیکن اس کا کیا علاج کہ ریڈیو کی تقریر لکھنے میں اور دفتری نوٹ لکھنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ یہ حضرات عام طور پر اہلِ قلمدان تو ہوتے ہیں لیکن اہلِ قلم نہیں ہوتے۔ ریڈیو کے لیے بھی ایک دفتری قسم کا نوٹ لکھ کر لے آتے ہیں۔ ایسا نوٹ، جسے لکھنا آسان ہوتا ہے مگر پڑھنا مشکل ہوتا ہے، اور سننا اس سے بھی زیادہ دشوار۔ اب مائیکروفون پر یا بھری مجلس میں گوشوارہ کون پڑھ سکتا ہے! اور اگر پڑھ بھی لے تو ایسے جیوٹ کہاں سے آئیں جو اس گوشوارے کو سن بھی لیں!
خیر یہ تو ہوا تحریر کا قضیہ، تقریر کرنے والے کی آواز اور اس کے لہجے کا مسئلہ اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ افسر حضرات اپنے گراں قدر خیالات مائیکروفون پر پڑھتے وقت یا تو روتے ہیں یا گاتے ہیں۔ بیچارہ پروگرام اسسٹنٹ کرے تو کیا کرے! سر سر کہتے اس غریب کی زبان سوکھتی ہے۔ ڈرتا ہے کہ کل کلاں کو یہی ٹھوس مائع گیس کے محکمے کا افسر ہماری وزارت کا افسر بن گیا تو کیا ہوگا۔
تقریروں کا پروگرام وضع کرنے کی دقتوں کے پیش نظر ہم نے یہ انتظام کیا کہ تقریروں کا پروگرام بھی چلایا جائے جو مصالحتی ہو، یعنی اس دوسرے پروگرام میں پہلے موضوع تلاش نہ کیے جائیں بلکہ ایسے مقرر تلاش کیے جائیں جو لکھ بھی سکیں اور بول بھی سکیں، اور پھر یہ کہ لوگوں میں مشہور بھی ہوں۔
اب ہم نے ناموں کی فہرست بنانا شروع کی۔ سروجنی نائیڈو، ڈاکٹر راجندر پرشاد، اے۔ کے دہلوی، قائداعظم، جواہر لال نہرو، اچاریہ کرپلانی، یہ سب اس فہرست میں شامل تھے۔
(”سرگزشت“ آپ بیتی…زیڈ اے بخاری)

