اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس سوال پر غور کرنے کا ایک الگ لطف ہے کہ مذہب کے زیر اثر ہماری زندگیاں اس طرح کیوں نہیں بدل پارہیں جس طرح کہ انہیں بدلنا چاہیے؟ بعض لوگوں کو اس رائے ہی سے اتفاق نہیں کہ مذہب ہماری زندگیوں کو تبدیل نہیں کررہا۔ وہ کہتے ہیں کہ ذرا حاجیوں کی تعداد کو دیکھیے جو ہر سال بڑھ رہی ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ پہلے مساجد میں اکثر بوڑھے اور ادھیڑ عمر نظر آتے تھے مگر اب نوجوانوں کی بڑی تعداد سر بسجود دکھائی دیتی ہے۔ کچھ لوگ اس سلسلے میں مختلف مذہبی جماعتوں کے اجتماعات کے بڑھتے ہوئے حجم کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ بے پردگی بڑھ گئی ہے، لیکن دوسری جانب پردے کے رجحان کا دائرہ بھی وسیع ہورہا ہے۔ ان حقائق سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور بلاشبہ ان کی اپنی اہمیت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مذہبیت روزافزوں ہے اور مذہب کے زیراثر زندگیوں میں غیر معمولی تغیر رونما ہورہا ہے تو معاشرتی زندگی کے تانے بانے،ڈھانچے سانچے اور حال احوال سے اس کی گواہی کیوں نہیں مل رہی؟ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں فساد برپا کیوں نظر آرہا ہے؟ انسانی تعلقات میں وہ خوب صورتی کیوں نظر نہیں آتی جو مذہبی اثرات کا لازمی نتیجہ ہوتی ہے؟ ایثار، قربانی، رواداری اور درگزر کے وہ اصاف کہاں ہیں جو مذہبی معاشروں اور تہذیب کا طرۂ امتیاز سمجھے جاتے ہیں؟ یہ سوالات اپنی نہاد میں شدید اور تلخ ہیں اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان سے اس دعوے کی تردید ہوجاتی ہے کہ مذہب کے اثرات بڑھ رہے ہیں اور مذہبیت دنوں، ہفتوں، مہینوں یا برسوں کے اعتبار سے ترقی کررہی ہے۔ بلاشبہ مذکورہ سوالات اپنی نوعیت میں شدید تلخ ہیں اور ان سے کسی بھی صورت میں صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن غالباً ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مذہبیت واقعتاً فروغ پذیر نہیں ہے۔
اس سلسلے میں ایک رائے یہ ہے کہ جو مذہبیت زندگی کو تبدیل نہ کرے اور انسان میں تضادات دکھائی دیں، وہ جھوٹی مذہبیت ہوتی ہے، اور جھوٹی مذہبیت سے تو سچی دنیا پرستی اچھی ہے، کیوں کہ اس طرح کم از کم انسان کے ہاتھ دنیا تو آجاتی ہے، جبکہ جھوٹی مذہبیت تو آخرت بھی گنواتی ہے اور دنیا بھی۔ یہ رائے غلط نہیں، لیکن ہوسکتا ہے کہ جو مذہبیت جھوٹی نظر آتی ہے، وہ جھوٹی نہ ہو، محض سطحی ہو، اور انسانوں کی زندگی میں نظر آنے والے تضادات جھوٹی مذہبیت کے بجائے سطحی مذہبیت کے تضادات ہوں۔ یہ نکتہ بظاہر واضح ہے، لیکن اس کی وضاحت ضروری ہے۔
مغربی دنیا کے بنیاد پرستی سے متعلق تمام شور و غوغا کے باوجود غالباً وہ زمانہ ہوا ہونے والا ہے جس میں مذہب، مذہبیت اور مذہب پرستی کو رجعت پسندی کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہبیت دنیا کا جدید ترین رجحان (Latest Trend) ہے۔ یہ صورتِ حال ابھی پوری طرح عیاں نہیں، لیکن جیسے جیسے وقت گزرے گا، یہ حقیقت عیاں ہوتی چلی جائے گی۔ ہرچند کہ پوری دنیا میں اس لہر کے متوازی اتنا ہی مؤثر دوسرا رجحان بھی موجود ہے جسے ’نری دنیا پرستی‘ قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن اس سے مذکورہ حقیقت کے وجود پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ مذہب کو دنیا کا جدید ترین رجحان کیونکر قرار دیا جاسکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ مغربی تہذیب مذہب کے خلاف بغاوت تھی، لیکن اب اس بغاوت کے خلاف بغاوت ہوچکی ہے، اور اس بغاوت کی علامت مذہب ہے۔ ایک وقت تھا کہ روئے زمین پر اشتراکیت سرمایہ دارانہ نظام المعروف مغربی تہذیب کے خلاف بغاوت سمجھی جاتی تھی، لیکن اس بغاوت کا قصہ پاک ہوچکا اور دوسری جانب مغربی تہذیب اپنے بیشتر نتائج سامنے لا چکی ہے۔ اس تجربے کے خلاف دنیا میں مختلف اقسام کے ردعمل سامنے آرہے ہیں، لیکن چونکہ اس تجربے سے پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات مہیا کرنے کے لیے کوئی دوسرا نظام موجود نہیں، اس لیے مذہب کے سوا انسان کو کوئی جائے پناہ نظر نہیں آرہی۔ لیکن یہاں ہمیں مسلمانوں کی مخصوص صورتِ حال سے صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے۔
مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے ہمہ جہت غلامی کا ایک طویل دور بسر کیا ہے، جس نے انہیں کسی اور کے بارے میں کیا اپنے بارے میں بھی بے اعتبار اور بداعتماد بنادیا ہے۔ اس کیفیت میں مذہب ان کے لیے یا تو ’’تلافی‘‘ کے ایک ذریعے کا کام انجام دے رہا ہے یا پھر اس کی حیثیت ایک نفسیاتی و جذباتی ڈھال کی سی ہے۔ یہ مسلمانوں کی مذہبیت کی سطحیت اور ان کے تضادات کا ایک اہم پہلو ہے۔
زندگی ایک ہمہ گیر حقیقت ہے اور اس کے بے شمار دائرے ہیں، اور ہر دائرے کے اپنے تقاضے ہیں۔ ان تقاضوں کا اہم پہلو یہ ہے کہ یہ مخصوص دائرے ہی میں پورے ہوسکتے ہیں، لیکن لوگ ایک، دو یا چند دائروں کے تقاضوں کو اپنے تئیں پورا کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ تمام دائرے سیراب ہوگئے۔ نماز پڑھ لی تو رزقِ حلال کے تقاضے بھی ادا ہوگئے۔ روزہ رکھ لیا تو شہادتِ حق کا فریضہ بھی ادا ہوگیا۔ حج کرلیا تو حق گوئی اور حقوق العباد سے بھی گویا سبک دوش ہوگئے وغیرہ وغیرہ۔ مسلمانوں کی آج جو حالت ہے اس حالت میں بالعموم سہولت اور عادت کے معاملات اہم ہوجاتے ہیں۔ اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ ذاتی مزاج، خاندانی حالات، معاشرتی صورتِ حال یا کسی اور وجہ سے مجھے مذہب کے کسی ایک پہلو پر عمل کرنے میں سہولت ہوتی ہے تو میں اسے اختیار کرلیتا ہوں یا شدت سے اختیار کرلیتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ بس یہی اصل مذہب ہے اور باقی جو کچھ ہے وہ ثانوی ہے۔ اس طرح کی صورتِ حال میں مذہب انسان کے امیج کا حصہ بن جاتا ہے اور اس سے انسان کے اندر نہ تو کوئی گہری تبدیلی آتی ہے اور نہ انسان کو اپنے تضادات کا علم ہوتا ہے، اور اگر تھوڑا بہت علم ہو بھی جاتا ہے تو وہ اسے اہمیت نہیں دیتا۔ مسلمانوں کا مسئلہ اس وقت یہی ہے۔ بلاشبہ اسلام کا تسلسل روزِ اوّل سے اب تک قائم ہے، لیکن مسلمان گزشتہ چار سو سال اور خاص طور پر گزشتہ ڈیڑھ دو سو سال میں جن حالات کا شکار رہے ہیں اُس کے باعث اِس وقت مسلمانوں کی بڑی تعداد کی کیفیت یہ ہے کہ جیسے وہ اسلام کو ازسرنو دریافت کررہے ہیں۔ یہ خود آگہی کا ایک نیا سفر ہے، اور اس سفر میں پریشان کن، قابلِ مذمت اور قابلِ گرفت باتیں تو بے شمار ہیں اور ہمیں ان سے صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ان کا سفاکانہ تجزیہ کرتے رہنا چاہیے، لیکن اس سفر میں ’’مایوسی‘‘ کی کوئی بات نہیں۔ کیوں نہیں؟ اس پر ہم پھر کبھی اظہارِ خیال کریں گے۔

