عمر عبداللہ ،تاریخ کے دوراہے پر

یہ وہ مقام ہے جہاں ستّر برس قبل اُن کے دادا شیخ محمد عبداللہ کھڑے تھے

کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اگر نریندر مودی کے ساتھ فکسڈ میچ کھیل رہے ہیں تو دوسری بات ہے، لیکن اگر انہوں نے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنے کا ذہن بنالیا ہے تو تھوڑی دور چل کر ہی وہ اپنے دادا شیخ محمد عبداللہ کے سیاسی انجام کی طرف بڑھتے ہوئے نظر آئیں گے۔

یہ تاثر اُس وقت گہرا ہوا جب عمر عبداللہ نے کشمیر اسمبلی میں ریاست کی بحالی کے حوالے سے منظور ہونے والی قرارداد کے بعد ایک طویل اور اہم خطاب کیا۔ عمرعبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ وہ اسمبلی نہیں جو ہم چاہتے ہیں، جس کا ہم حق رکھتے ہیں، لیکن یہ اسمبلی وہاں تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے جہاں ہم پہنچنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عزت سے جینے کا حق ہے، ہم ریاست کی مانگ اس لیے کررہے ہیں کہ ہماری شناخت، پہچان اور وجود کو زخم لگا ہے۔ اس پر مرہم رکھنے کے لیے ریاست کی بحالی کی شروعات ہوں گی۔ ہماری زمین پر ہمارا حق ہونا چاہیے۔ روزگار اور وسائل پر اپنا حق ہونا چاہیے۔ انہوں نے اپنی سرزمین پر اجنبی بن جانے کے عام کشمیری کے خوف کا حوالہ دیے بغیر کہا کہ باہر کے سرمایہ کار شوق سے یہاں آئیں اور یہاں سرمایہ کاری کریں، مگر جو اثاثے ہم نے بنائے ہیں ہم ان کو فروخت نہیں کریں گے۔ کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ ہم گلمرگ اور پہلگام بیچنے والے ہیں، ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ ہماری بنائی ہوئی چیزیں سستی قیمت پر خرید کر خود امیر بنیں اور ہمارے لوگ غربت اور بے روزگاری کی چکی میں پستے رہیں ، اس کی اجازت بھی ہم نہیں دیں گے ۔ ہمار ایجنڈا فیس بک اور ٹویٹر والے نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام طے کریں گے۔

عمر عبداللہ نے دہلی کی طاقت کی حکمتِ عملی پر دبے لفظوں میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ڈرا دھمکاکر کچھ عرصے کے لیے حالات کو ٹھیک رکھا جا سکتا ہے مگر یہ عارضی ہوتا ہے۔ حالات صرف لوگوں کے تعاون سے ہی ٹھیک ہوسکتے ہیں جب وہ قیامِ امن میں شراکت دار بن جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ ہمیں ہائبرڈ نہیں بلکہ مکمل ریاست چاہیے جس کا وعدہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کیا ہے۔

عمر عبداللہ کے اس خطاب میں کچھ کھلی باتیں تھیں تو بہت کچھ بین السطور تھا۔ یہ بات واضح ہے کہ 5 اگست2019ء سے پہلے، اور بعد میں کشمیر کی خصوصی شناخت کے خاتمے کے معاملے میں خلیج سمیت کئی ممالک واقفِ حال کے طور پر پردے کے پیچھے موجود تھے۔ خلیج سے آگے کون کون سے ممالک اس راز و نیاز میں شامل تھے یہ واضح ہونا ابھی باقی ہے۔ بالکل اسی طرح یہ ضامن اب کشمیریوں کے لیے وہ سب حاصل کرنے پر زور دے رہے ہیں جس کا وعدہ پانچ اگست کا فیصلہ لیتے ہوئے ان سے کیا گیا تھا۔ اس لیے بھارت ایک غیر محسوس اورنادیدہ دبائو میں رہا ہے۔ چین اور پاکستان کی خفگی تو عیاں تھی مگر کچھ ضامنوں کو بھی اپنے ساتھ ہونے والے وعدوں کے ایفا کا انتظار تھا۔ بظاہر کشمیر میں انتخابی عمل کا آغاز بھارت کی سب سے اعلیٰ عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں ہوا، مگر اعلیٰ عدلیہ نے کشمیر کی رٹ پٹیشنز کو اُس وقت ہاتھ لگایا جب حکومت کی طرف سے حالات کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے بعد عدلیہ کو گرین سگنل دیا گیا، وگرنہ چارسال کی مدت میں عدالت نے اپنی درازوں میں پڑی درخواستوں کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ یوں بھارت کشمیریوں کو کچھ رعایتیں دینے کے لیے مغربی یا خلیجی ملکوں کی طرف سے ایک ’’دوستانہ دبائو‘‘ میں ہے۔ اگر بھارت چاہتا تو طاقت کے زور پر انتخابات میں ہیرا پھیری کرکے اپنی پسند کا سیاسی منظر تشکیل دے سکتا تھا جس میں جموں سے ایک ہندو یا وادی سے کمزور مسلمان وزیراعلیٰ لانا بھی کچھ مشکل نہیں تھا، اور یہی نریندر مودی کے لیے ایک آئیڈیل منظرنامہ بھی ہوتا۔ نادید دبائو ہی تھا جس نے نریندرمودی کو معاملات کو بلڈوز کرنے کا یہ اسٹائل اپنانے سے روکے رکھا اور انہیں بظاہر ایک جینوئن جمہوری بندوبست پر اکتفا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اقتدار کشمیر کے ایک ایسے جانے پہچانے اور اولین سیاسی گھرانے کو دوبارہ سونپ دیا گیا جسے وہ چار سال تک اجارہ دار اور استحصالی قرار دیتے رہے اور اپنے پانچ اگست کے فیصلے کو اسی خاندانی نظام کو ختم کرنے کی بنیاد بتاتے رہے، مگر پھر خود ہی انہیں کشمیر کا اقتدار ایسے ہی ایک سیاسی خاندان کو سونپنا پڑا جسے وہ کشمیریوں کی پسماندگی، درماندگی اور بدقسمتی کی علامت قرار دیتے رہے۔ اس مقام پر چھپن انچ چھاتی والے نریندر مودی بھی ایک ’’مجبور‘‘ اور کمپرومائزڈ انسان دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں عمرعبداللہ اگر ہائبرڈ ریاست کے بجائے ایک مکمل ریاست کی بحالی کا نعرہ مسلسل لگاتے ہیں تو کشمیر میں وہ اپنی ہی نہیں، آزادی پسند قوتوں کی اسپیس بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کی اس تقریر اور کچھ اقدامات میں یہی خواہش جھلکتی ہے کہ وہ دہلی کو بھی خوش رکھیں اور کشمیریوں کے اعتماد کے شیشے میں بال لانے کا باعث بھی نہ بنیں۔ کشمیریوں میں عدم مقبولیت نہ صرف یہ کہ ان کا سیاسی وزن دوبارہ گھٹا دے گی بلکہ دہلی کے ساتھ ان کی سودے بازی کی پوزیشن کو بھی کمزور کردے گی۔ یہی احساس تھا کہ انہوں نے چند دن کی خاموشی کے بعد ہی اسمبلی میں ریاستی تشخص کی بحالی کی قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ واضح طور پر نظر آرہا تھا کہ اس قرارداد میں تاخیر عمرعبداللہ کی ساکھ کو جو عارضی اور ان کے فیصلوں سے ہی مشروط ہے، دیمک کی طرح چاٹتی چلی جائے گی۔ عمر عبداللہ اگر دہلی والوں کی جبینوں کی شکنیں گننے بیٹھ گئے تو لامحالہ وہ کشمیریوں میں اپنی ساکھ کھو دیں گے۔ آزادی پسند کیمپ کو پہلے ہی اس سیاسی عمل سے کسی اچھے کی امید نہیں، اور عمرعبداللہ کی سیاسی ناکامی کا فائدہ وادی کشمیر میں اُن کے سیاسی حریفوں پی ڈی پی انجینئررشید فیکٹر اور سجاد لون کو ہوسکتا ہے جو عمرعبداللہ سے زیادہ سخت مؤقف، دوٹوک اصطلاحات، مذمتی جملوں، محاوروں اور مطالبات پر مبنی قرارداد اسمبلی میں پیش کرنے کی کوشش کرچکے ہیں، جس میں پانچ اگست کے فیصلے کی کھلی مذمت کا نکتہ بھی شامل تھا۔

عمر عبداللہ دہلی کی فراہم کردہ اسپیس اور ریڈ لائن سے آگے بڑھتے ہیں تو اصل ریاست کی بحالی کا مطالبہ اور اس مطالبے پر اصرار دہلی والوں کے کانوں میں ناخوش گواریت کی گھنٹیاں اور ساز بجانے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ستّر برس قبل اُن کے دادا شیخ محمد عبداللہ کھڑے تھے۔ جب کشمیر پر بھارت کے قبضے کے چند ہی برس بعد کشمیر کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ نے اپنے دوست اور بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کو یاد دلانا شروع کیا کہ اب کشمیر میں امن وامان قائم ہوچکا ہے، قبائلی واپس جاچکے ہیں، پاکستان کے ساتھ جنگ بندی ہوچکی ہے تو اب پنڈت نہرو لال چوک سری نگر میں کشمیریوں سے کیے گئے رائے شماری کے وعدے پر عمل درآمد کریں۔ شیخ محمد عبداللہ نے جوں جوں اس مطالبے پر اصرار شروع کیا، پنڈت نہرو سمیت دہلی کی حکمران اشرافیہ کے کانوں میں ناخوشگواریت کا شور اور احساس بڑھتا چلا گیا۔ ایک روز ان آوازوں سے کبیدہ خاطر ہوکر پنڈت نہرو نے اس ’’آوازِ دوست‘‘ سے جان چھڑانے کا فیصلہ کرلیا۔ 1953ء میں وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کو پہلگام کے سیاحتی مقام سے اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ چھٹیاں گزار رہے تھے، اور اس کے بعد انہیں چین اور پاکستان کے ساتھ سازباز کے الزام میں جیل میں ڈال دیا گیا۔ یوں رائے شماری کا انعقاد تو درکنار، بھارت نے کشمیر کی آزادی اور خودمختاری چھیننے کے طویل المیعاد اور مرحلہ وار عمل کا آغاز کیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ عمرعبداللہ کشمیر میں اپنی ساکھ کی قیمت پر ہائبرڈ نظام پر قناعت کرتے ہیں یا پھر شیخ عبداللہ کے راستے پر چل کر انہی کے سیاسی انجام سے دوچار ہوتے ہیں؟ عمر عبداللہ کی تقریر کے چند جملوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر پانچ اگست کے ضامنوں نے درمیان میں آکر کوئی کردار ادا نہ کیا تو اس سوال کے جواب کے لیے زیادہ انتظار نہیںکرنا پڑے گا اور جلد ہی منظر بڑی حد تک واضح ہوجائے گا۔