ہمارے علما اور صوفیہ انسانوں کو ہمیشہ یاد دلاتے رہے ہیں کہ انہیں خدا سے انصاف نہیں، رحم طلب کرنا چاہیے۔
مولانا اعظم طارق نے ایک زمانے میں میاں نوازشریف کے بارے میں ایک اچھی بات کہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ میاں نوازشریف اور اُن کا خاندان اللہ تعالیٰ سے انصاف کا طالب ہے۔ مولانا نے ’’شریفوں‘‘ کو مشورہ دیا کہ وہ خدا سے ڈریں اور اُس سے انصاف طلب کرنے کے بجائے رحم طلب کریں کیوں کہ اگر انصاف ہوگیا تو روئے زمین پر شریفوں کا کہیں ٹھکانہ نہ ہوگا۔
مولانا اعظم طارق نے جو بات کہی ہے وہ اسلامی تعلیمات اور روایات کا ایک حصہ ہے، اور ہمارے علما اور صوفیہ انسانوں کو ہمیشہ یاد دلاتے رہے ہیں کہ انہیں خدا سے انصاف نہیں، رحم طلب کرنا چاہیے۔ لیکن یہ ایک ایسی بات ہے جو کم لوگوں کو یاد رہتی ہے۔ حکمرانوں کی تو بات ہی کیا ہے، عام لوگ بھی اس اہم حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس سوال پر غور کیا جائے تو بہت سی وجوہ سامنے آتی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم وجہ ’’نسیان‘‘ بھی ہے، جو انسان کا ازلی و ابدی دشمن ہے۔
نسیان ایک سطح پر حافظے (Memory) کا مسئلہ ہے۔ کچھ لوگوں کا حافظہ اچھا ہوتا ہے اور کچھ کا خراب۔ عمر کے ایک حصے میں یادداشت سرعت کے ساتھ کام کرتی ہے لیکن جیسے جیسے بڑھاپا پیش قدمی کرتا اور جوانی پسپا ہوتی ہے، انسان کی یادداشت کمزور پڑنے لگتی ہے۔ لیکن یہ کوئی اصول نہیں۔ کچھ لوگوں کی یادداشت جوانی ہی میں خراب ہوجاتی ہے۔ جدید نفسیات کا کہنا ہے کہ انسان کے حافظے اور یادداشت کے سلسلے میں ایک چیز بہت اہم ہوتی ہے: “Selectiv Perception”۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کچھ چیزیں انسان کو بعض دوسری چیزوں سے زیادہ یاد رہتی ہیں، اور اِس کا انحصار انسان کی ذہنی و نفسیاتی ساخت اور بڑی حد تک اُس کے ذوق پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جو شخص ادب کا گہرا ذوق و شوق رکھتا ہے، اُسے ادبی امور کی نسبت سائنسی امور کم یاد رہیں گے کیوں کہ ان امور میں اُس کی دل چسپی کم یا نہ ہونے کے برابر ہوگی۔ یہ بات بڑی حد تک درست ہے، لیکن بات یہ ہے کہ جدید نفسیات، فزیالوجی اور دماغی سائنس وغیرہ نسیان کے مسئلے کو یادداشت کی سطح سے آگے نہیں پہچانتیں، اور معاملہ ’’جسم‘‘ سے اوپر نہیں اُٹھ پاتا۔ لیکن بات یہ ہے کہ حافظے اور نسیان کا مسئلہ بہت گہرا ہے اور اس کا جہاں ایک طرف وجود کی سطح سے گہرا تعلق ہے، وہیں اس حوالے سے یہ سطح انسان کی اخلاقی اور روحانی صورتِ حال سے بھی متعلق ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے پاس ’’سائنسی دلیل‘‘ اور ’’تجربہ گاہ میں ڈھلنے والی منطق‘‘ تو کوئی نہیں ہے، البتہ دو مذہبی حقائق ضرور موجود ہیں۔ ان میں سے ایک حقیقت تو یہی ہے کہ انسان نے روزِ اوّل خدا کے سامنے اس کے معبود اور اپنے عبد ہونے کا اقرار کیا لیکن اس اقرار کو جس شے نے نقصان پہنچایا وہ نسیان تھا، اور اس نسیان سے نمٹنا ضروری تھا۔ اس کی وجہ یہ کہ ہبوطِ آدم یا زوالِ آدم نسیان کا نتیجہ تھا۔ اس ہبوط سے وجود کی صلابت اور فطری ہم آہنگی میں خلل واقع ہوا۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ پاک، آپؐ کی بعثت اور پھر معراج کائناتی سطح (Cosmic Plain) پر زوالِ آدم کا Counter balance نظر آتی ہے۔ زوالِ آدم سے ترازو کا ایک پلڑا جھک گیا تھا۔ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، آپؐ کی بعثت اور معراج سے ترازو کے دونوں پلڑے پھر برابر ہوگئے۔ اس صورتِ حال کو کائناتی سطح پر عدل کے اصول کی کارفرمائی بھی کہا جاسکتا ہے اور ختمِ نبوت کے مفاہیم میں سے ایک مفہوم یہ بھی ہے۔ ایک جانب زوالِ آدم ہے اور اس کی پشت پر کارفرما نسیاں کا عنصر ہے، اور دوسری جانب سرورِ کائناتؐ کی بعثت اور معراج ہے جو ’’یاد‘‘ سے عبارت اور اس کا حاصل ہے۔
اس گفتگو سے غالباً یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ نسیان اور حافظے اور یادداشت کے معاملے دماغ اور جسم کے دائرے تک محدود نہیں۔ اس کا ایک اور ثبوت بجائے خود یہ پہلو ہے کہ انسان مشکل میںگھرتا ہے تو وہ خدا سے رحم کے بجائے انصاف کا طالب ہوتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ مطالبہ یا خواہش رکھتے ہوئے وہ اپنی اوقات کو فراموش کرتا ہے اور دوسری جانب اپنے اور اپنے رب کے تعلق کی نوعیت کو نظراندازکرتا ہے۔ یہ صورتِ حال اس کے روحانی ضعف اور اخلاقی کمزوری کا شاخسانہ ہوتی ہے۔ ورنہ کوئی شخص روحانی اور اخلاقی صحت کی حالت میں ایسی خواہش کا تصور بھی نہیںکرسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنے نسیان کی وجہ سے انصاف، انصاف تو کرتا ہے لیکن یہ انسان کی بساط کہاں کہ وہ خدا کے انصاف کا متحمل ہوسکے۔ انسان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ انسان کے کیے ہوئے انصاف کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
بے شک خدا سب سے بڑا ہادی اور سب سے بڑا انصاف کرنے والا ہے، لیکن وہ کافروں اور مشرکوں کو بھی زندہ رکھتا ہے، انہیں رزق مہیا کرتا ہے اور پھلنے پھولنے کے مواقع عطا کرتا ہے۔ کیا یہ عدل ہے؟ نہیں، یہ تو سراسر رحمت ہے۔ کیا یہ عدل ہے کہ وہ سوچی گئی اور ارادے کے احاطے میں لائی گئی اچھی سوچوں پر ہمارے لیے نیکیوں کی بارش کرتا ہے اور سزا کے لیے اس نے عمل کی شرط رکھی ہوئی ہے۔ نہیں، بخدا! یہ تو سراسر رحمت ہے اور دیکھیے! عمل کا معاملہ بھی کمزور ہے، ایسا نہ ہوتا تو اہلِ ایمان کے لیے توبہ اور دعا کے صدر دروازے رکھے ہی نہ گئے ہوتے۔ بے شک توبہ اور دعا بہت بڑی نعمت اور رحمت ہیں۔ ایسی نعمت اور رحمت جن سے انسان نزع کے عالم سے پہلے تک جب چاہے استفادہ کرسکتا ہے۔ تو پھر خدا کا عدل کیا ہے؟ یہ جاننے کے لیے ہم کبھی قرآن و سنت سے رجوع کریں گے اور کبھی غزالی اور رومی سے رہنمائی چاہیں گے۔
البتہ یہاں کہنے کی ایک بات یہ ہے کہ خدا سے انصاف طلب کرنے والے اپنی نیکی، تقویٰ یا کم از کم اچھائی کے ہیضے میں مبتلا ہوتے ہیں۔ معاف کیجیے گا، اس بحث میں دوبارہ نوازشریف کا ذکر ہونا کئی طرح کی آلودگی پھیلانے کے مترادف ہے، لیکن بات یہ ہے کہ ان کی حیثیت تو نیکی، تقویٰ اور اچھائی کے ہیضے میں مبتلا شخص کی بھی نہیں، اس لیے کہ اس ہیضے میں مبتلا ہونے کے لیے بھی ایک سطح درکار ہوتی ہے اور یہ سطح جیسی کچھ بھی ہوتی ہے، انسان اور حقیقت کے مابین ایک پردہ بن جاتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اس نے کیا ہی کچھ نہیں، اس پر غلط الزام لگایا گیا ہے اور وہ خدا کے انصاف کا حق دار ہے۔ لیکن خدا تو دلوں کا حال بھی جانتا ہے اور نیت کی چادر میں پڑنے والی معمولی سی شکن سے بھی آگاہ ہے۔ چنانچہ اس سے انصاف کا طالب ہونا صرف جہالت ہی نہیں، خدا کی بے کنار رحمت سے منہ موڑنا بھی ہے۔ یہ کتنا بڑا گھاٹا اور کتنا بڑا نقصان ہے، لیکن انسان کا نسیان اسے کبھی گھاٹے اور کسی نقصان سے بھی آگاہ نہیں ہونے دیتا۔

