عسکری صاحب کو نہ سمجھنے کے لیے

ان کی بات کو آگے بڑھانے والے تو کہیں نظر نہیں آتے، البتہ اُن کی شخصیت اور فکر کو سو مسئلوں میں ڈھالنے والے بہت ہیں۔

محمد حسن عسکری کو سمجھنا اپنے انفرادی اور اجتماعی وجود کو سمجھنا ہے۔ اور چونکہ پاکستانی قوم کے ایک ایک فرد نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ نہ اپنے انفرادی وجود کو سمجھنا ہے اور نہ اجتماعی وجود کو، اس لیے عسکری صاحب کو سمجھنے کی ہر کوشش فضول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کالم عسکری صاحب کی تفہیم کے لیے نہیں بلکہ ان کو نہ سمجھنے کے لیے لکھا جارہا ہے۔ ہر چند کہ عسکری صاحب کو نہ سمجھنے کی بھی بہت کوششیں ہوچکی ہیں اور یہ کوششیں خاصی کامیاب بھی رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود ایسی مزید کوششیں کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ مضائقہ نہ ہونے کی بات بلاسبب نہیں لکھی گئی۔ ہم عسکری صاحب کے عہد میں نہ سہی، عسکریت کے عہد میں بہرحال زندہ ہیں۔

عسکری صاحب کو نہ سمجھنے کی کوشش کا آغاز بہت سے ناموں سے ہوسکتا ہے۔ لیکن غالباً اس سلسلے میں سب سے زیادہ استحقاق معروف نقاد نظیر صدیقی صاحب کا ہے، جنھوں نے ایک خط میں سلیم احمد سے کہا تھا کہ آخر آپ کب تک عسکری عسکری کرتے رہیں گے، اور یہ کہ آپ عسکری صاحب کو ’’پھلانگ‘‘ کیوں نہیں جاتے! یادش بخیر نظیر صدیقی صاحب کسی زمانے میں سلیم احمد کو عسکری صاحب سے زیادہ باصلاحیت سمجھتے تھے اور اسی لیے انھوں نے عسکری صاحب کو پھلانگ کر آگے بڑھنے کی بات کہی تھی۔ اب یہ تو ہمیں معلوم نہیں کہ نظیر صدیقی اب بھی اپنی رائے پر قائم ہیں یا نہیں، لیکن اتنی بات ہمیں معلوم ہے کہ نظیر صدیقی نے سلیم احمد کو جو مشورہ دیا تھا سلیم احمد نے اس کے جواب میں ایک اچھی بات کہی تھی، انھوں نے کہا تھا کہ عسکری صاحب کو تو میں پھلانگ لوں لیکن عسکری صاحب کے تجربے اور ان کی صداقت کو میں کیسے پھلانگوں؟ یہ عسکری صاحب کے بارے میں بنیادی بات ہے۔ اور اس کے سوا عسکری صاحب کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے، وہ اضافی اور ثانوی باتوں کے ذیل میں آتا ہے۔

عسکری صاحب کو نہ سمجھنے کے کام کی مختلف جہتیں ہیں، لیکن لوگوں کو سب سے زیادہ تکلیف عسکری صاحب کی اس بات سے نہیں ہے کہ وہ زندگی کے ایک بڑے حصے میں ’’مغرب اوڑھو، مغرب بچھاؤ‘‘ کرتے رہے، لیکن آخر میں انھوں نے مغرب کو لمڈی لاروں کا غل غپاڑہ کہہ کر مسترد کردیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عسکری صاحب تیس چالیس سال تک مغرب مغرب کرتے رہے۔ اس دور میں مغرب عسکری کا اوّل و آخر تھا اور انھوں نے اس دور میں اسلام کے بارے میں پوری سنجیدگی اور دیانت داری سے کہا ہے کہ اسلام ایک Mediocre مذہب ہے۔ لفظ Mediocre کے لغوی معنی کیا ہیں؟ اس کے لیے مولوی عبدالحق یا جمیل جالبی کی مرتب کردہ لغت سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ لیکن عسکری صاحب نے اس لفظ کو جس طرح برتا ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلام بس یونہی سا مذہب ہے۔ اسلام کے سلسلے میں عسکری صاحب کا یہ رویہ بھی بلاسبب نہیں ہے۔ عسکری صاحب زندگی کے اس دور میں ادب کے حوالے سے خیال، تجربے اور تخیل وغیرہ کے تصورات کی گرفت میں تھے اور اسلام میں انھیں ان چیزوں کے بجائے عمل کی بھرمار نظر آتی تھی۔ مغربی تہذیب فکر و عمل کا ایک خاص تصور پیش کرتی ہے۔ اس تصور میں عمل ’’دکان داری‘‘ کے قریب پہنچ جاتا ہے، اور عسکری صاحب سے بہرحال دکان داری نہیں چل سکتی تھی۔ اسلام بھی فکر وعمل کا ایک خاص تصور رکھتا ہے اور عسکری صاحب جب اسلام کی طرف لوٹے تو انھیں فکر و عمل کا یہ تصور اتنا ہی عزیز ہوگیا جتنا اُن جیسے کسی شخص کو ہوسکتا تھا۔ اس صورتِ حال سے صاف ظاہر ہے کہ مسئلہ فکر و عمل کا نہیں، دو تہذیبوں کے فکر و عمل کے تصورات میں امتیاز کا تھا۔ یہاں عسکری صاحب کے اسلام کی طرف ’’لوٹنے‘‘کی بات بھی اہم ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پیشتر ہمارے جمال بھائی (جمال پانی پتی) سراج منیر کے حوالے سے کہہ رہے تھے کہ اسلام کے سلسلے میں عسکری صاحب کے رویّے کو تصوف کی اصطلاحات تلوین اور تمکین کے ذریعے ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ عسکری صاحب اسلام کے تو ہمیشہ قریب تھے لیکن اس باب میں انھیں ’’استحکام‘‘ حاصل نہ تھا، اور یہ استحکام انھیں اپنے آخری دور میں حاصل ہوگیا۔ یہ تجزیہ درست بھی ہے اور غلط بھی۔ درست اس لیے کہ انسان وہ چیز اختیار ہی نہیں کرسکتا جو اس کے اندر نہ ہو۔ یہ تجزیہ غلط اس لیے ہے کہ ابتدا میں اسلام عسکری کا ’’شعوری مسئلہ‘‘ نہ تھا۔ اگر ایسا نہیں تھا تو پھر ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ عسکری صاحب کی مغرب پرستی ڈھونگ تھی، اور ڈھونگ نہیں تھی تو بہت سطحی اور سرسری چیز بھی، اور سطحیت اور سرسری پن ایسی چیزیں ہیں جنھیں عسکری صاحب کی شخصیت، مزاج اور ذوق سے کوئی علاقہ ہی نہیں تھا۔ عسکری صاحب مغرب کی طرف بھی پورے شعور اور گہرائی سے گئے تھے، اور اسلام کی جانب بھی پورے شعور اور شدت سے مائل ہوئے۔ بعض لوگوں کو اس خیال سے بڑی وحشت ہوتی ہے کہ ایک شخص تیس چالیس سال تک مغرب مغرب کرتا رہا اور پھر اُس نے پندرہ بیس سال اسلام اسلام اور مشرق مشرق کرنے میں بسر کردیے، اس صورتِ حال میں بعض لوگوں کو ’’بھیانک تضاد‘‘، تلون اور نہ جانے کیا کیا کچھ مضمر نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اس مسئلے سے خوب صورت اور بامعنی توجیہ کے ذریعے نمٹتے ہیں اور نمٹنا چاہتے ہیں، لیکن تضاد اور خوب صورت توجیہ دونوں غلط ہیں، اور سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ اتنی سی بات کیوں نہیں سمجھتے کہ مسئلہ اصولوں اور تناظر کی تبدیلی کا ہے، یہ ٹھیک ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ کی قلبِ ماہیت کا سبب دعائے رسولؐ تھی، لیکن اس معاملے کی ایک اور سطح بھی ہے، اور اس سطح کا مفہوم یہ ہے کہ عمرؓ ابنِ خطاب اگر اچھے، سچے اور شدت پسند مشرک نہ ہوتے تو وہ کبھی فاروق اعظمؓ نہیں ہوسکتے تھے۔ دیکھیے نا جوہر یا content تو وہی رہتا ہے البتہ اصول اور تناظر بدل جاتے ہیں۔ حضرت عمرؓ کی مثال ایک بہت بڑی مثال ہے، لیکن اس سے ہم عسکری صاحب جیسے لوگوں کی قلب ماہیت کے بارے میں بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

مغرب سے مشرق کی طرف سفر میں عسکری صاحب کا بنیادی مسئلہ یہی تھا، زندگی کے ایک مرحلے پر عسکری صاحب نے یہ دیکھا کہ مغرب کے پاس سب کچھ ہے سوائے اصول کے۔ چنانچہ انھوں نے مغربی فکر کو غل غپاڑہ کہہ کر مستر د کردیا۔ اس کے برعکس عسکری صاحب نے یہ دیکھا کہ مشرق اگرچہ سیاسی مفہوم میں مغلوب ہے لیکن وہاں اصول بھی موجود ہیں اور اصولوں کے اطلاق کا تصور بھی موجود ہے۔ چنانچہ انھوں نے مغرب کو مسترد کرکے مشرق کو سینے سے لگالیا۔ کوئی معقول شخص حقیقت کے آشکار ہونے کے بعد اس کے سوا اور کیا کرسکتا ہے! ظاہر ہے کہ ایسا تو نہیں ہے کہ مغرب میں کوئی اصول موجود ہی نہیں تھا، اصول موجود تھے لیکن خدا اور مذہب کے انکار کے بعد کسی قسم کا معروضی اصول باقی ہی نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ مغرب میں اصول اور اصول بازی کا عمل بجائے خود ایک تماشا بن کر رہ گیا۔ مغرب سے عسکری صاحب کی گہری بیزاری کی بنیادی وجہ یہی تھی۔

بعض لوگ عسکری صاحب کی بصیرت کے تو بڑے قائل ہیں اور انھیں اردو کا سب سے بڑا اور اہم ترین نقاد مانتے ہیں، لیکن عسکری صاحب کی شعر فہمی انھیں مشتبہ نظر آتی ہے۔ عسکری صاحب نے یقیناً شعر فہمی میں ٹھوکریں کھائی ہوں گی، لیکن وہ ممتاز حسین تو نہیں تھے۔ بات یہ ہے کہ عسکری صاحب بدلے تو اُن کا تصورِ ادب بھی بدلتا چلا گیا۔ روایتی تہذیبوں میں آرٹ ’’علم‘‘ ہے، احساس نہیں۔ وہ ایک ’’ذریعہ‘‘ ہے، بجائے خود مقصد نہیں۔ اتفاق سے یہ بات مارکسسٹ بھی کہتے ہیں اور بعض اسلام پسند بھی، لیکن مارکسزم کا مسئلہ مارکسسٹ ریاست ہے، اور بعض اسلام پسند مقصد کی بات کرکے آرٹ کو ’’لٹرل ازم‘‘ کی جانب دھکیل دیتے ہیں۔ بہرحال کہنے کی بات یہ ہے کہ عسکری صاحب شعروں میں ’’اصول‘‘ کو تلاش کرتے تھے، اور جس شعر میں انھیں اصول نظر آتا تھا اس کی تعریف کرتے تھے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صرف اصول تلاش کرنے میں لگے رہتے تھے اور اس کے مظاہر اور اطلاقات کے نظام سے انھیں کوئی دلچسپی نہ تھی، ایسی بات نہیں ہے۔ عسکری صاحب کی تبدیلی اتنی اہم ہے کہ وہ بدلے تو ان کا ذوق بھی بدل گیا، اور یہ ایک غیر معمولی بات ہے، اس لیے کہ لوگ بدل جاتے ہیں لیکن ان کا ذوق نہیں بدلتا۔

عسکری صاحب نے مغرب کو یکسر رد کردیا، اور اس بات سے بھی کئی مسائل و معاملات نے جنم لیا۔ سلیم احمد عسکری صاحب کے ’’آدھے شاگرد‘‘ تھے، اور انھوں نے عسکری صاحب کی فکر اور شخصیت کی تشریح اور توضیح کے لیے جو کتاب لکھی ہے، وہ عسکری صاحب کے بارے میں لکھی جانے والی اب تک کی سب سے اچھی تحریر ہے، لیکن اس کتاب میں ایک بنیادی مسئلہ انھوں نے بھی اٹھایا ہے۔ سلیم احمد نے کہا ہے کہ عسکری صاحب مغرب کو مسترد کرتے ہیں۔ مشرق و مغرب کا امتزاج ان کے نزدیک ممکن نہیں۔ مشرق کی بازیافت عسکری صاحب کے لیے ناممکن نہیں تو ناممکن کے قریب ضرور نظر آتی ہے۔ سلیم احمد نے اس پر عسکری صاحب سے زبانی اور تحریری طور پر پوچھا کہ آپ نے تو ہمیں ڈرا دیا، اب ہم کیا کریں اور کہاں جائیں؟ سلیم احمد کے بقول تحریری سوال کا تو عسکری صاحب نے جواب نہیں دیا، البتہ زبانی طور پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے سلیم احمد سے کہا کہ نماز پڑھا کرو۔ سلیم احمد نے اس پر اچھی بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ مغرب نے ہماری ہر چیز کو خراب کردیا، معلوم نہیں ہماری نماز بھی ٹھیک طرح ہوتی ہے یا نہیں۔ خیر یہ تو ایک الگ قصہ ہے، اہم بات یہ ہے کہ عسکری صاحب کے حوالے سے سلیم احمد نے جو بات کہی ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ عسکری صاحب نے مغرب کو مسترد تو کردیا لیکن یہ تنقید ہمیں ایک ’’خلا‘‘ میں چھوڑ جاتی ہے، یعنی مغرب تو فضول ہے اور اس کی پیروی حماقت۔ کیونکہ مغرب تو مر رہا ہے اور جو اس کی پیروی کرے گا وہ بھی آج نہیں تو کل مر جائے گا۔ مغرب و مشرق کا امتزاج بھی ممکن نہیں کیونکہ یہ خیر وشر کا امتزاج ہوگا۔ مشرق کی بازیافت کا امکان نہیں مگر یہی راہِ نجات ہے، بلاشبہ یہ ایک خلا ہے۔ ہمارے بھائی احمد جاوید ایک دن شوآں پر اعتراضات کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ انھوں نے مغرب کی جو تنقید کی ہے اس کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ یہ تنقید ہمیں خلا سے دوچار کرکے بے بسی کے عالم میں چھوڑ دیتی ہے۔ ممکن ہے عسکری صاحب کے بارے میں بھی ان کی یہی رائے ہو۔ یہ باتیں اہم ہیں لیکن اس سلسلے میں چند نکات قابلِ توجہ ہیں۔

پہلا نکتہ تو یہی ہے کہ اصول کی سطح پر تنقید ہمیشہ نہیں تو بیشتر صورتوں میں ایک خلا ہی کو جنم دیتی ہے، یہ کام صرف پیغمبروں کا ہے کہ ان کے حوالے سے اصول کی سطح پر ایک ہمہ گیر تنقید بھی ظہور میں آتی ہے اور متبادل کی نشاندہی بھی ہوتی ہے۔ پیغمبروں کے بعد یہ کام ’’مصلحین‘‘ کے حصے میں آتا ہے، اور عسکری صاحب نے کہیں یہ نہیں کہا کہ وہ مصلح ہیں، ایک بات تو یہ ہوئی۔ دوسری بات یہ ہے کہ برصغیر میں (اور دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی) ’’پیوندکاری‘‘ کا کام تواتر اور شد و مد سے ہوا ہے۔ اس کام کی ابتدا برصغیر میں سرسید سے ہوئی، اور اُن کے بعد جتنے بھی لوگ آئے اُن میں سے اکثریت نے پیوندکاری کی اس روایت کو آگے بڑھایا۔ عسکری صاحب کی تنقید اس پیوندکاری کو یکسر مسترد کرتی ہے اور یہاں سے مغرب کے سلسلے میں ہماری فکر ایک نیا موڑ مڑ جاتی ہے۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ وہ مغرب کے ساتھ کیسا تعلق استوار کریں۔ عسکری صاحب کی تنقید میں اس سوال کا تازہ ترین، واضح اور حتمی جواب موجود ہے۔ اس جواب کی اہمیت یہ ہے کہ یہ جذبات یا کسی عملی ضرورت سے پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کی بنیاد علم، تجربہ اور تجزیہ ہے۔ عسکری صاحب کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ ایک فرد تھے اور خود کو ہمیشہ ایک فرد ہی تصور کرتے رہے۔ اُس وقت بھی جب وہ مغرب کے زیراثر تھے، اور اُس وقت بھی جب وہ اسلام کے ہوکر رہ گئے تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ تہذیبوں کی سطح پر آپریٹ کرتے تھے، لیکن ان کی تلاش بھی ایک فرد کی تلاش تھی، اور ان کے سوالات اور جوابات بھی ایک فرد کے جوابات تھے۔ چنانچہ خلا وغیرہ کا مسئلہ عسکری صاحب کے لیے اہم رہتا ہی نہیں۔ عسکری صاحب مغرب کو جذب اور پھر مسترد کرکے ایک ٹھوس سرزمین پر آکھڑے ہوئے اور انھوں نے اپنے اس تجربے میں دوسروں کو شریک کیا۔ ان کے لیے یہی اہم اور کافی تھا۔ خلا کا معاملہ اس کے باوجود بھی اہم رہتا ہے، تاہم مسلمانوں کے لیے اس کی معنویت یہ ہے کہ انھیں اس خلا کو حقیقی معنوں میں اور شدت کے ساتھ محسوس کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر وہ نئی تعمیر وجود میں نہیں آسکتی جو مسلمانوں اور خود انسانی تاریخ کی ضرورت بن چکی ہے۔ مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ تمام تر ابتری کے باوجود ایک حصارِ عافیت میں خود کو سانس لیتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ ہم اس احساس کی اہمیت اور معنویت کے منکر نہیں، لیکن بیشتر صورتوں میں یہ ایک جھوٹا احساس ہے۔ کسی کے پاس کچھ بھی نہ ہو لیکن وہ کسی بھی سبب سے یہ سمجھے کہ اس کے پاس سب کچھ یا بہت کچھ ہے تو اس پر ہنسنے کے سوا کیا کیا جاسکتا ہے؟ عسکری صاحب کا خلا اس جھوٹے احساس پر ضرب لگاتا ہے اور آئینہ دکھاتا ہے، اور انھیں اس احساسِ زباں میں مبتلا کرتا ہے، جس کو اقبال نے بڑی اہمیت دی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو عسکری صاحب کا خلا ایک گہری تہذیبی معنویت کا حامل ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ عسکری صاحب نے یہ خلا شعوری طور پر خلق کیا ہے۔ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ ان کے پاس متبادل ہوتا تو وہ اسے چھپا کر نہ رکھتے۔ انھوں نے اس متبادل کی جانب پیش قدمی شروع ہی کی تھی کہ وہ ہم سے جدا ہوگئے۔ اس سلسلے میں کہنے کی بات وہ بھی ہے جس کا اظہار کبھی مولانا مودودیؒ نے کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ہم سے جتنا کام ممکن ہوا ہم نے کیا، اب یہ دوسروں کی ذمے داری ہے کہ وہ بات کو آگے بڑھائیں۔ عسکری صاحب نے یہ بات کہی تو نہیں لیکن ان کی زندگی اور فکر سے یہ امر ازخود ظاہر ہے، لیکن عسکری صاحب کی بات کو آگے بڑھانے والے تو کہیں نظر نہیں آتے، البتہ اُن کی شخصیت اور فکر کو سو مسئلوں میں ڈھالنے والے بہت ہیں۔

بات کہاں سے شروع ہوئی تھی اور کہاں پہنچ گئی، لیکن ہمیں یقینِ کامل ہے کہ اس کے باوجود آپ عسکری صاحب سے متعلق کوئی نکتہ بھی سمجھنے میں پوری طرح ناکام رہے ہوں گے، ایسا ہے تو ہمیں بڑی خوشی ہے کیونکہ یہ کالم ہم نے عسکری صاحب کو سمجھنے کے لیے نہیں، بلکہ نہ سمجھنے کے لیے لکھا ہے۔