جاپان میں اردو مکتوب نگاری ایک وقیع علمی کاوش

زبانیں تہذیبوں کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ اردو زبان و ادب کی ترویج کے لیے دنیا بھر میں مختلف النوع کوششیں کی جاتی رہی ہیں، لیکن جاپان میں اردو کی تدریس، تحقیق اور مکتوب نگاری جیسے موضوعات ہمیشہ اردو دان طبقے کے لیے حیرت اور دلچسپی کا باعث رہے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز، جاپان کے زیراہتمام شائع ہونے والا یہ مجموعہ ہے، جس میں جاپانی مصنفین، اساتذہ اور طلبہ کے وہ خطوط شامل ہیں جو انہوں نے معروف پاکستانی محقق، معلم اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل کے نام تحریر کیے۔

یہ مجموعہ نہ صرف اردو مکتوب نگاری کی روایت کو خوبصورت انداز میں نمایاں کرتا ہے بلکہ اس میں جاپانی اہلِ علم کی اردو زبان و ادب سے گہری وابستگی کا بھی بھرپور اظہار نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل جو میرے استاد بھی ہیں اور رہنمائی کرتے رہتے ہیں، پاکستان میں اردو تحقیق و تدریس کا ایک نمایاں نام ہیں، جنہوں نے جامعہ کراچی سمیت دنیا کی کئی بڑی جامعات میں تدریسی خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر معین الدین عقیل نے اردو تحقیق، تاریخ، ادب اور تہذیب پر متعدد کتابیں اور مقالات تحریر کیے ہیں۔ ان کا تحقیقی کام مسلمانانِ برصغیر کی تاریخ، خطباتِ سرسید، اردو مخطوطات کی تدوین، اور اسلامی فکر و تہذیب جیسے موضوعات پر محیط ہے۔ وہ جامعہ کراچی، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML)، اور بین الاقوامی سطح پر کئی جامعات میں تدریس و تحقیق سے وابستہ رہے ہیں۔

یہ کتاب نہ صرف اردو میں غیر ملکیوں کی مکتوب نگاری کا اولین مجموعہ ہے بلکہ اس میں جاپانی اہلِ علم اور پاکستان کے ایک نامور محقق کے درمیان خط کتابت کو محفوظ کرکے ایک تاریخی نوعیت کا کام انجام دیا گیا ہے۔ کتاب کی تدوین اور تحقیقی تشریح عامر علی خان نے کی ہے، جو کہ خود بھی جاپان میں اردو تدریس سے وابستہ ہیں۔

یہ مجموعہ کئی حوالوں سے اردو ادب میں اپنی نوعیت کی پہلی کاوش قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب جاپانی اہلِ علم کی اردو سے گہری وابستگی کا ثبوت ہے۔ اردو ادب کے جاپانی مترجمین، محققین اور اساتذہ نے جس محنت، لگن اور عقیدت سے اس زبان کو سیکھا اور سکھایا، یہ مجموعہ اسی شوق کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں حتی الامکان کوشش کی گئی ہے کہ جاپانی مکتوب نگاروں کے اسلوب کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے، تاکہ غیر اہلِ زبان کے اردو اظہار کی انفرادیت محفوظ رہے۔ اسی طرح کتاب میں خطوط کو الف بائی ترتیب سے مرتب کیا گیا ہے، اور ہر مکتوب نگار کا مختصر تعارف بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ قارئین کو مکتوب نگار اور مکتوب الیہ کے علمی و ادبی پس منظر کو سمجھنے میں سہولت ہو۔

خطوط ہمیشہ کسی عہد کی فکری، علمی اور تہذیبی تاریخ کے مظہر ہوتے ہیں۔ ان مکاتیب میں نہ صرف جاپانی اہلِ علم کے جذبات جھلکتے ہیں بلکہ اردو اور جاپان کے علمی و ثقافتی روابط کی جھلک بھی ملتی ہے۔

یہ خطوط گزشتہ پانچ دہائیوں پر محیط ہیں۔ کئی مکتوب نگار اِس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں، مگر ان کے لکھے گئے مکاتیب آج بھی تحقیق کے طالب علموں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔

اس کتاب میں اردو زبان اور جاپانی تہذیب کے تاریخی روابط پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ برصغیر سے جاپان کے تعلقات 1663ء میں اُس وقت استوار ہوئے جب ہندوستانی تاجروں کا ایک بحری جہاز جاپان کی بندرگاہ ناگاساکی پر پہنچا۔ جاپانی مورخین کے مطابق ان تاجروں اور ملاحوں کے ساتھ ہونے والے ابتدائی روابط میں فارسی اور اردو کے الفاظ استعمال ہوئے۔

کتاب میں جاپان میں اردو کے فروغ کے لیے خدمات انجام دینے والے اساتذہ کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے، جن میں پروفیسر رے ایچی گامو، پروفیسر سوزوکی تاکیشی، پروفیسر ہیروشی باگیتا، پروفیسرسویامانے، پروفیسر مامیا کین ساکو، پروفیسر ماتسو مورا، پروفیسر تے تسویا تسویوگوچی جیسے نام شامل ہیں۔ ان کے علاوہ مورا کامی آسوکا، توریا مساتو، میاموتو تاکاشی اور سُناگا ایمیکو جیسے نوجوان اساتذہ بھی اردو تدریس میں سرگرم ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ جاپانی اسکالرز نے اردو لغت نویسی اور ترجمے کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ پروفیسر سوزوکی تاکیشی، پروفیسر اسادا یوتاکا، پروفیسر کان کاگایا، اور پروفیسر ہیروشی ہاگیتا نے اردو- جاپانی لغات مرتب کیں، جبکہ کئی جاپانی اساتذہ اور طلبہ نے سعادت حسن منٹو، انتظار حسین، قرۃ العین حیدر، احمد ندیم قاسمی، ممتاز مفتی، عبداللہ حسین، اور کرشن چندر جیسے معروف اردو ادیبوں کی تخلیقات کا جاپانی زبان میں ترجمہ کیا۔

عامر علی خان نے مکاتیب کو الف، ب ترتیب سے مرتب کرنے کے ساتھ ہر مکتوب نگار کا مختصر تعارف بھی شامل کیا ہے، جو قاری کے لیے خطوط کے متن اور سیاق و سباق کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تدوین کے دوران مکتوب نگاروں کی ذاتی معلومات کو حذف کرکے ان کی رازداری کا بھی مکمل خیال رکھا گیا ہے۔

یہ کتاب جاپان میں اردو تحقیق، تدریس اور مکاتیب کے حوالے سے ایک منفرد اور وقیع دستاویز ہے۔ اردو مکاتیب کا یہ مجموعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو زبان کی محبت سرحدوں سے آزاد ہے اور جاپانی اہلِ علم کا اردو سے تعلق گہرا اور دیرپا ہے۔

یہ کتاب اُن تمام افراد کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے جو اردو تحقیق، خط کتابت کی روایت، اور جاپان میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے حوالے سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ عامر عالی خان کی یہ کوشش اردو ادب میں ایک منفرد اضافہ ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے تحقیق اور مکالمے کے نئے در وا کرے گی۔