دورِ حاضر کے انسان کی بدنصیبی کے سوا اسے اور کیا نام دیا جا سکتا ہے کہ آج کی یک محوری دنیا کا مدارالمہام امریکہ جیسا ایک انتہائی منافق اور دہرے کردار کا حامل ملک ہے جس کی اساس ہی امریکہ کے قدیم باشندوں ریڈ انڈینز کے قتلِ عام پر رکھی گئی، جس نے جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری بم گرا کر لاکھوں انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا، اور جو زندہ بچ رہے ذہنی و جسمانی معذوری اُن کی نسلوں کا مقدر قرار پائی۔ جوہری ہتھیاروں کے ظالمانہ اور سفاکانہ استعمال کا یہ منفرد اعزازاس کے بعد آج تک کسی ملک کے حصے میں نہیں آسکا، اور آج یہی امریکہ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلائو کی روک تھام کا سب سے بڑا علَم بردار ہے۔ یہ امریکہ ہی تھا جس نے ویت نام کے خلاف فوج کشی کرنے میں ذرا شرم محسوس نہیں کی، اور یہ بھی امریکہ ہی تھا جس نے نائن الیون کا بہانہ بناکر نہایت ڈھٹائی سے افغانستان پر یلغار کی اور لاکھوں بے گناہ لوگوں کو خون میں نہلا دیا، اور زہریلی گیسوں کی تیاری کا بے بنیاد الزام لگا کر عراق جیسی مملکت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، اور حال ہی میں غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کردینے والی دہشت گرد اسرائیلی ریاست کی دھڑلے سے دامے، درمے اور سخنے سرپرستی کی، ہر طرح کا جدید اسلحہ نہتے فلسطینی مسلمان بچوں، بوڑھوں، عورتوں، زخمیوں اور معذوروں تک پر اندھا دھند بمباری کے لیے بدمعاش صہیونی ریاست کو فراہم کیا۔ یوں دنیا کے مختلف خطوں میں سب سے زیادہ تباہی پھیلانے کا اعزاز آج کے اس سب سے بڑے طاغوت کو حاصل ہے، مگر اس کے باوجود منافقت کا عالم یہ ہے کہ انسانی حقوق کا سب سے بلند آہنگ علَم بردار بھی امریکہ ہی ہے، سب سے زیادہ مہذب ہونے کا دعویٰ بھی اسی کو ہے، اور امنِ عالم کی فکر بھی اس سے زیادہ کسی دوسری ریاست و مملکت کو نہیں۔ دنیا بھر کی ترقی و خوش حالی کا جھنڈا بھی امریکہ کے ہاتھوں سربلند ہے۔
مغربی جمہوریت کا ثمر ہے کہ آج دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں ایک ایسا فرد ایوانِ اقتدار میں سیاہ و سفید کا مالک ہے جسے اقتدار میں آنے تک پوری دنیا ایک دہشت گرد کے طور پر پہچانتی تھی اور امریکہ سمیت کئی ملکوں میں اس کے داخلے پر پابندی تھی، مگر یہ جمہوریت کی برکات میں سے ہے کہ اب ان سب ممالک میں اس ’’دہشت گرد‘‘ کا استقبال سرکاری مہمان کے طور پر نہایت گرم جوشی سے کیا جاتا ہے۔ امریکہ جیسی اہم جمہوری ریاست کا معاملہ بھی خاصا دلچسپ ہے، جہاں ملکی عدالت کی طرف سے باقاعدہ مجرم قرار پانے والا شخص جس کا دماغی معائنہ بھی ملکی ماہر ڈاکٹروں کی سفارش پر ضروری سمجھ کر کرایا گیا، آج دوسری مرتبہ امریکہ جیسی عالمی طاقت کے صدر کے طور پر منتخب ہوکر ایوانِ اقتدار… سفید محل کا مکین ہے۔ اس محل میں داخلے سے قبل ہی اس مجرم نے اپنی مجرمانہ ذہنیت کے مطابق فیصلے سنانا شروع کردیے تھے اور بطور صدر حلف اٹھانے کے فوری بعد کینیڈا، میکسیکو، پانامہ اور چین وغیرہ کے خلاف اپنی جارحانہ سوچ کو روبہ عمل لانے کے اعلانات میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی تھی، اور صدر کا منصب سنبھالتے ہی ان ممالک کی آزادی و خودمختاری کا لحاظ کیے بغیر کسی کو امریکہ میں مدغم کرنے اور کسی کو تجارتی پابندیاں لگانے کی دھمکیاں دے ڈالیں جسے ان ممالک کے علاوہ عالمی برادری کی اکثریت نے بھی ناپسندیدگی کی نگاہ ہی سے دیکھا۔ ان ممالک سے متعلق اعلانات پر ردعمل کا سلسلہ جاری تھا کہ صاحب بہادر نے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے دورۂ امریکہ کے موقع پر ’’سفید محل‘‘ میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فلسطین اور خصوصاً غزہ کے تباہ حال باشندوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے ایک نئے قطعی ناقابلِ عمل و ناقابلِ قبول اور مضحکہ خیز منصوبے کا اعلان کردیا کہ امریکہ طویل عرصے کے لیے غزہ کی پٹی پر قبضہ کرلے گا، ہم اس کے مالک ہوں گے، ہمارا مقصد اس علاقے میں استحکام لانا ہے۔ منصوبے کے مطابق غزہ بدر کیے جانے والے فلسطینیوں کے لیے اردن اور مصر کو جگہ فراہم کرنے پر آمادہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ امریکی صدر نے اگلے روز اپنے سالانہ ناشتے کے دوران تقریر کرتے ہوئے اس منصوبے پر اصرار کیا اور مزید انکشاف کیا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ کی پٹی اسرائیل کے ذریعے امریکہ کے حوالے کردی جائے گی، امریکہ احتیاط سے غزہ کی تعمیرِنو شروع کرے گا اور دنیا کے بہترین ترقیاتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا، غزہ کی تعمیرِنو اپنی نوعیت کی سب سے عظیم اور شاندار پیش رفت میں سے ایک ہوگی، امریکہ کو اس کام کے لیے کسی فوجی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس خاکے میں رنگ بھرتے ہوئے تازہ تجویز یہ پیش کی ہے کہ فلسطینی عوام کو اُن کی اپنی سرزمین سے دربدر کرنے کے بعد سعودی عرب میں فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔ یوں عالمی طاغوت کی تہہ در تہہ سازش کی ایک کے بعد ایک پرت کھل رہی ہے۔ مقامِ شکر یہ ہے کہ ہر طرح کے حالات میں امریکہ کے ساتھ کھڑے ہونے والے برطانیہ جیسے ملک سمیت فرانس، جرمنی، آسٹریلیا، روس، چین سمیت پوری عالمی برادری نے امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کے پیش کردہ اس منصوبے کو ناقابلِ عمل قرار دیا ہے، جب کہ پوری مسلم دنیا میں بھی اس کے خلاف شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔ ضرورت ہے کہ مسلم دنیا اور عالمی رائے عامہ کو ٹرمپ کی جارحانہ سوچ کے خلاف منظم کیا جائے۔ عرب لیگ کا اجلاس 27 فروری کو طلب کرلیا گیا ہے، اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ کو بھی فوری طور پر متحرک کیا جانا ضروری ہے، ورنہ منہ زور ٹرمپ کی بروقت مزاحمت نہ کی گئی تو ’’جس کی لاٹھی… اس کی بھینس‘‘ کے رواج کو رائج ہونے سے روکنا آسان نہیں ہوگا۔
(حامد ریاض ڈوگر)

