عوام، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان خلیج
اگر آپ کو پاکستان میں حکمرانوں، طاقتور طبقے، اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا کا باہمی گٹھ جوڑ دیکھنا یا سمجھنا ہے تو 8 فروری 2025ء کے قومی اردو اخبارات روزنامہ جنگ، ایکسپریس، نوائے وقت اور دنیا کے پہلے صفحات کا جائزہ لیں۔ اس سے سارے کھیل کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان اخبارات میں اس دن حکمران طبقے نے اپنی کامیابیوں کی خبریں چلوائیں اور یہ ثابت کیا کہ یہ حکومت اس وقت ایسی ریکارڈ ساز ترقی کررہی ہے جو ماضی میں کوئی بھی حکومت نہیں کرسکی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کھیل میں صرف حکومت شامل نہیں تھی بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی بھی ایک جھلک دیکھنے کو ملی، جہاں آرمی چیف نے بھی معاشی ترقی کے اقدامات کو ایک بہت بڑی کامیابی کے ساتھ جوڑا۔ عمومی طور پر حکمران طبقہ چاہے آج کا ہو یا ماضی کا، وہ اپنی حکومتی کامیابیوں کی تشہیر کے لیے اشتہارات کا سہارا لیتا تھا۔ لیکن موجودہ حکومت کا یہ تاریخی ڈرامہ ہے کہ اس نے صرف اشتہارات ہی کے ذریعے نہیں، بلکہ صحافیوں، صحافتی اداروں اور اخبارات کے مالکان کو اس انداز سے استعمال کیا کہ ایسا لگے جیسے ان اقدامات کی تشہیر اشتہارات کے بجائے خود صحافی یا اخبارات اپنی صحافتی رپورٹنگ کی بنیاد پر کررہے ہیں۔ اس کھیل سے حکومت نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جو کچھ دکھایا جارہا ہے وہ ہم نہیں کررہے بلکہ خود میڈیا اس بات کی نشاندہی کررہا ہے کہ ہماری حکومت ترقی کے اہداف پورے کررہی ہے۔ اس طرح اس کھیل میں پاکستانی صحافت نے جس طرح سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے اس پر داد توبنتی ہے۔ عمومی طور پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اخبارات کا کاروبار اشتہارات سے چلتا ہے۔ یہ بات بہت حد تک درست ہے۔ تو پھر اسے محض اشتہارات تک ہی محدود رہنا چاہیے تھا۔ حکومت جو کچھ دکھانا چاہتی تھی صحافتی ادارے اسے اشتہارات تک ہی محدود رکھتے۔ لیکن جس انداز سے صحافتی اداروں نے خبروں کی بنیاد پر یہ کھیل حکومت کی حمایت میں پیش کیا ہے اس سے صحافت کا زوال دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلے ہی صحافت زوال کا شکار ہے اور صحافتی ادارے ٹوٹ پھوٹ کا… اور خاص طور پر اب صحافت کا ادارہ جاتی نظام کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔ ایسے میں صحافت میں سچائی کی بات کرنا یا سچائی کے اصول کو قائم رکھنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔
اصل میں حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ ہم اشتہارات کے اس کھیل سے عوام کو اپنی حمایت کے لیے آسانی سے گمراہ کرسکتے ہیں، یا ان کو یقین دلا سکتے ہیں کہ ہم ہی درست سمت میں کھڑے ہیں۔ لیکن حکمران طبقہ یہ بھول جاتا ہے کہ یہ 2025ء ہے، اب عوام کا سماجی اور سیاسی شعور ماضی کے مقابلے میں بہت بلند ہے، اور وہ جانتے ہیں کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ۔ یہی وجہ ہے کہ آج حکمران طبقے کے سچ اور عوام کے سچ میں بنیادی نوعیت کے تضادات نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔اس کھیل کی وجہ سے عوام، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان نہ صرف ایک خلیج ہے بلکہ ایک بہت بڑی سیاسی تقسیم بھی پیدا ہو گئی ہے۔ اس تقسیم نے ایک دوسرے پر عدم اعتماد بھی پیدا کیا ہے اور بھروسہ بھی کم ہوا ہے۔ میڈیا کے موجودہ کھیل نے واقعی عوام کو بھی بہت مایوس کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی اخبارات کی اہمیت ماضی کے مقابلے میں کم ہوئی ہے اور صرف اخبارات ہی نہیں، اب الیکٹرانک میڈیا پر بھی جس نوعیت کی پابندیاں ہیں، ان کی وجہ سے اس میڈیا کو دیکھنے والے لوگوں کی تعداد میں بھی کمی ہوئی ہے۔ اگرچہ اس کی ایک بڑی وجہ حکومتی اور ریاستی پابندیاں ہیں لیکن دوسری طرف خود میڈیا نے بھی خود کو تماشا بنایا ہوا ہے، اور مواد سے زیادہ لڑائی جھگڑوں اور شخصی تناؤ میں جاری پروگرام کو بنیاد بناکر، یا ریٹنگ کی بنیاد پر میڈیا کو چلا کر عوام میں تقسیم پیدا کی ہے۔ اس لیے اب اخبارات اور ٹی وی کے مقابلے میں ڈیجیٹل میڈیا یا سوشل میڈیا کی اہمیت بڑھ گئی ہے اور لوگ ان کی طرف دیکھتے ہیں۔اخبارات کا نظام اب ایڈیٹر یا صحافیوں سے نکل کر براہِ راست مالکان کے پاس آگیا ہے اور حکومت کے لیے یہ زیادہ آسان ہو گیا ہے کہ وہ صحافیوں سے معاملات طے کرنے کے بجائے مالکان سے معاملات طے کرلے، اور مالکان خود اپنی مرضی اور منشا کے مطابق صحافیوں کے ساتھ معاملات چلائیں۔اس لیے صحافی ہوں یا ایڈیٹر… سب اپنی اپنی سطح پر بے بس نظر آتے ہیں، اور اس بے بسی کے کھیل میں صحافت نے خود کو تماشا بنادیا ہے۔صحافیوں کا ایک گروپ ایسا بھی موجود ہے جو صحافت تو کرتا ہے لیکن اصل میں اُس کی صحافت حکمران طبقات یا اسٹیبلشمنٹ کے مفادات سے وابستہ ہوتی ہے۔اس لیے صحافیوں کا ایک بڑا طبقہ آپ کو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے قریب نظر آتا ہے، اور انہی کی حمایت میں صحافت کرنا اُن کی مجبوری بنا ہوا ہے۔ اس کھیل میں مسلم لیگ ن ہمیشہ سے پیش پیش رہی ہے جس نے صحافیوں کو سب سے زیادہ نوازا ہے۔آج بھی پنجاب میں سب سے زیادہ صحافی اگر مالی طور پر نوازے جا رہے ہیں تو اس میں مسلم لیگ ن کی حکومت پیش پیش نظر آئے گی۔یہ جو 8 فروری 2025ء کے اخبارات کی کہانی پیش کی گئی ہے اس کے مرکزی کردار وزیر اطلاعات عطا محمد تارڑ ہیں، انہی کی مہربانی سے یہ سارا کھیل سجایا گیا تھا اور شہبازشریف کو ایک قومی ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا ۔پیکا قانون کی منظوری خود ظاہر کرتی ہے کہ حکومت میڈیا کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ویسے تو 8 فروری 2025ء کے قومی اردو اخبارات خود پیکاقانون کی زد میں آتے ہیں جن کی خبروں کو بنیاد بنا کر حکومت نے اپنی کامیابی کے دعوے کیے ہیں۔ کیا یہ فیک نیوز نہیں ہے؟ اور کیا اس کی تحقیقات نہیں ہونی چاہیے؟ اور کیا کوئی ادارہ ان خبروں کو بنیاد بنا کر حکومت کے خلاف فیک نیوز کی بنیاد پر مقدمہ درج کرے گا؟جب حکومت خود وسیع پیمانے پر فیک نیوز کا کاروبار چلائے گی تو وہ باقی لوگوں کو فیک نیوز سے کیسے روک سکے گی؟
دوسری طرف شہبازشریف حکومت کو ایک برس بیت گیا، اور 8 فروری 2024ء کے انتخابات پاکستان کی انتخابی تاریخ کے سب سے بدترین انتخابات سمجھے جا سکتے ہیں۔ یہ انتخابات کیا تھے، انتخابات کے نام پر ایک ڈرائونا خواب تھے۔ ایک ایسا خواب، جس کی عملی تعبیر پاکستانی عوام کے لیے بہت مایوس کن ہے۔ اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے عدلیہ، انتظامیہ، نگران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طاقت کی بنیاد پر اپنی مرضی اور منشا کے نتائج حاصل کرنے کے لیے ایک سیاسی اسکرپٹ لکھا۔ اس میں پی ٹی آئی کو دیوار سے لگا دیا گیا تھا اور یہ طے کردیا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کا کوئی سیاسی وجود باقی نہیں رکھا جائے گا۔ اسی کھیل کی بنیاد پر پی ٹی آئی کو بطور جماعت عملاً سیاسی پابندی کا سامنا کرنا پڑا، سپریم کورٹ کے فیصلے پر اُس سے اُس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا۔ پی ٹی آئی بطور جماعت انتخابات میں حصہ نہیں لے سکی، اور اس کے حمایت یافتہ امیدواروں کو آزاد حیثیت سے انتخابات لڑنا پڑے۔ یہ تمام امیدوار مختلف انتخابی نشانات پر انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ ان کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں تھی، یہاں تک کہ وہ جلسے جلوس بھی نہیں کرسکے۔ بیشتر امیدواروں نے روپوش رہ کر، یا جیلوں میں بیٹھ کر انتخابات میں حصہ لیا۔ امیدواروں کے اہلِ خانہ کو گرفتار کیا گیا، یا ہراساں کیا گیا، اور آخر تک مجبور کیا گیا کہ وہ پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن نہ لڑیں۔ پی ٹی آئی کے اندر سے ایک نئی جماعت ’’استحکام پاکستان پارٹی‘‘ بنائی گئی اور پی ٹی آئی کے لوگوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اس جماعت میں شامل ہوں۔ جبری بنیاد پر لوگوں کی پریس کانفرنسیں بھی دیکھنے کو ملیں۔ اس کھیل کے باوجود پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے اُس وقت کی نگران حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو بہت برے انداز سے شکست دی، اور 8 فروری 2024ء کو اسٹیبلشمنٹ اور نگران حکومت کے تمام تر اقدامات کے باوجود عملی طور پر عوام کی اکثریت نے پی ٹی آئی کی حمایت میں ووٹ دے کر سب کو حیران کر دیا۔اُس رات 11 بجے تک پی ٹی آئی کے امیدوار جیت چکے تھے اور مسلم لیگ ن عملی طور پر پنجاب میں ہار چکی تھی، لیکن رات ڈھائی بجے کے بعد ایک نیا کھیل شروع ہوا اور مسلم لیگ ن جو8 فروری 2024ء کا انتخاب ہار چکی تھی اُسے 9 فروری 2024ء کو انتخابات میں فاتح کے طور پر دکھایا گیا۔ان انتخابات میں فارم 47 کے امیدوار جیتے اور فارم 45 کے لوگوں کو ہرایا گیا، اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ خود شریف خاندان کے اپنے لوگ بھی ان انتخابات میں برے انداز سے ہارے تھے ،لیکن اس کے باوجود اقتدار کا کھیل انہی کے گرد گھوما اور وہی آج حکومت میں موجود ہیں۔ان انتخابات کے پانچ مرکزی کردار رہے، ان میں وفاقی اور صوبائی نگران حکومتیں، چیف الیکشن کمشنر، چیف جسٹس آف پاکستان ،صوبائی انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ۔ انہی کی مدد اور حمایت کے ساتھ 2024ء کے انتخابات کا کھیل سجایا گیا تھا۔بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اسی طرح کا کھیل 2018ء کے انتخابات میں بھی ہوا تھا۔یقیناً 2018ء کے انتخابات میں بھی بہت کچھ ہوا تھا، لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ 2024ء کے انتخابات میں جو کچھ ہوا وہ 2018ء سے بہت آگے کا کھیل تھا، اس لیے اس کا موازنہ 2018ء سے نہیں کرنا چاہیے۔2024ء کی حکومت یا سیاسی نظام کا بندوبست اسٹیبلشمنٹ نے اپنی مرضی اور منشا کے مطابق کیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ شہبازشریف حکومت اِس وقت اسٹیبلشمنٹ کے سہارے ہی کھڑی ہے، جب تک اسٹیبلشمنٹ ساتھ ہے، اِس حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔اسی لیے شہبازشریف مسلسل آرمی چیف کی تعریف بھی کرتے ہیں اور ان کی حمایت کو اپنے لیے ایک بہت بڑا اعزاز بھی سمجھتے ہیں۔ اور ان کو یہ سمجھنا بھی چاہیے، کیونکہ جس مینڈیٹ کے ساتھ وہ آئے ہیں اس میں آرمی چیف کی حمایت ہی ان کی اصل طاقت ہے۔
دوسری طرف حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے درمیان ایک ٹکراؤ نظر آرہا ہے۔ پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 7 ججوں اور اب سپریم کورٹ کے 5 ججوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سربراہ یعنی چیف جسٹس اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خطوط لکھے ہیں اور عدلیہ میں موجودہ بحران پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بھی ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح 26 ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ بھی مختلف ججوں کی جانب سے کیا جارہا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ابھی تک ان خطوط کا کوئی جواب نہیں دیا اور مختلف صوبوں سے مختلف ججوں کو لاکر اسلام آباد میں موجود ججوں کی سٹی کو تبدیل کردیا گیا ہے، اور اس کی مدد سے اپنی مرضی اور منشا کی بنیاد پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نے تمام تر دبائو کے باوجود سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلاکر وہ سب کچھ کیا جو حکومت کا ایجنڈا تھا۔ اس لیے موجودہ چیف جسٹس کا کردار اس لحاظ سے خاصا متنازع ہے کہ وہ عدلیہ میں موجود اپنے ہی ججوں کے تحفظات اور مسائل سننے کے بجائے وہی کچھ سننے کی کوشش کررہے ہیں جو حکمران طبقے کے مفادات کے قریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ چیف جسٹس اور ججوں کے درمیان فاصلے بہت بڑھ گئے ہیں، اور یہ عدلیہ کے حوالے سے کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ اصل میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کی عدلیہ چاہتی ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ موجودہ عدلیہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو ان کے لیے سیاسی مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔ اس لیے ان ججوں کو دیوار سے لگاکر اپنی مرضی اور منشا کے ججوں کو سامنے لانا موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی مجبوری ہے۔ حکومتی حکمتِ عملی کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ججوں کی تقرری یا ان کے تحفظات کے تناظر میں بار یعنی وکلا تنظیموں کو اس حد تک تقسیم کردیا جائے کہ یہ اکٹھی نہ ہوسکیں اور جب بھی اکٹھی ہونے کی کوشش کریں تو ان کو تقسیم ہی رکھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی وکلا اکٹھے ہونے کی بات کرتے ہیں تو ان میں تقسیم کا کھیل نمایاں طور پر شامل ہوجاتا ہے۔

