اسلام میں ترکِ دنیا نہیں ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا کوئی مذہب ترکِ دنیا کی تعلیم نہیں دیتا۔ البتہ ہندوؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُن کے یہاں ترکِ دنیا ہے، اور ترکِ دنیا کا یہ تصور خود ہندو ازم سے آیا ہے۔ بلاشبہ ہندو ازم میں دنیا اور دُنیا کی زندگی کو ”مایا“ کہا گیا ہے، اور مایا کا مطلب فریب اور دھوکا ہے۔ اس سے اکثر لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ ہندو ازم ترکِ دنیا کی تعلیم دیتا ہے۔ دنیا اور دنیا کی زندگی اگر واقعتاً دھوکا اور فریب ہے تو اسے ترک کردینا ہی مناسب ہے، ہندوؤں میں ایک بڑا طبقہ اس بات کا قائل ہے اور اس کے زیراثر اس کے اراکین دُنیا کو ترک کرکے جنگلوں کی راہ لیتے ہیں۔ لیکن مایا کا یہ تصور درست نہیں، اور جس نے مایا کے لفظ سے مذکورہ مفہوم برآمد کیا ہے، اس نے یقیناً ٹھوکر کھائی ہے۔
بلاشبہ انسان ایک حقیقت ہے اور اس کا وجود بھی حقیقت ہے، لیکن واجب الوجوب صرف خدا کی ذات ہے۔ اپنی موجودگی کے حوالے سے انسان صرف ”ممکن“ کے درجے پر فائز ہے۔ خدا نہ ہوتا تو انسان بھی نہ ہوتا۔ آخرت کی زندگی اور دنیا کی زندگی کے باہمی تعلق کی نوعیت بھی یہی ہے۔ آخرت کی زندگی ہی دراصل حقیقی زندگی ہے، اور اس کے مقابلے پر دنیا کی زندگی، زندگی کا محض ایک پرتو ہے۔ مایا کا تصور بھی یہی ہے۔ یعنی دنیا اگر فریب اور دھوکا ہے تو آخرت کے تناظر میں، ورنہ دنیا کی زندگی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ مایا کے تصور کی یہ تشریح ہماری اپنی تشریح نہیں ہے۔ یہ تشریح خود ہندو عالموں نے کی ہے۔ لیکن اس بات سے خود ہندوؤں کی بڑی تعداد آگاہ نہیں۔
خیر بات ہورہی تھی اسلام اور ترکِ دنیا کی۔
اسلام میں ترکِ دنیا نہیں ہے، اور اس لیے نہیں ہے کہ دنیا ایک حقیقت اور دارالعمل ہے، اور آخرت کی زندگی کا دارومدار اسی دنیا کی کارکردگی پر ہوگا۔ لیکن اسلام میں ترکِ دنیا نہیں ہے تو اس کی وجہ ایک اہم ترین اور عملی مسئلہ ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ کتابی زندگی اور عملی زندگی میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ انسان کتاب سے جو اُصول سیکھتا ہے یا تو عملی زندگی پر ان کا اطلاق ہو ہی نہیں پاتا، یا ہوتا ہے تو جزوی طور پر۔ اور پھر اس سے بے شمار مسائل بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس لیے کتابی آدمی اور عملی آدمی کی تفریق بھی پیدا ہوگئی ہے، اور عام زندگی میں ہم روز مذکورہ تفریق کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ایک مثال تو یہ ہوئی۔ دوسری مثال یہ ہے کہ ایک آدمی دنیا کے سرد خطے میں رہائش اختیار کرتا ہے اور پھر اُسے اچانک گرم خطے میں رہائش اختیار کرنا پڑتی ہے۔ اس صورتِ حال سے جو مسائل پیدا ہوں گے ان کی نشاندہی کی ضرورت نہیں۔ ان مثالوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اسلام کا منشا یہ ہے کہ انسان کی آگہی جزوی اور ادھوری نہ ہو بلکہ مکمل ہو۔ اس سے یہ نتیجہ ازخود برآمد ہوجاتا ہے کہ ترکِ دنیا کے نتیجے میں جو آگہی حاصل ہوگی وہ جزوی یا ادھوری آگہی ہوگی۔ دُنیا سے کٹ کر زندگی بسر کرنے اور دنیا میں شامل رہ کر زندگی گزارنے کے تجربے میں بڑا فرق ہے۔ تجربے کے اس فرق سے آگہی کا فرق پیدا ہوتا ہے۔
اسلام میں ایمان اور نجات کا تصور فرد کے لیے ہے۔ حتمی جزا اور سزا کا تصور بھی فرد ہی کے حوالے سے ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آدم سے اس کا جوڑا بنایا اور پھر ایک خاص واقعے کے بعد انھیں شوہر اور بیوی کی حیثیت سے زمین پر اتار دیا۔ یہاں تک کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے یہ بعید تو نہ تھا کہ وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے فرشتوں کو زمین پر اتار دیتا، یا اس کام کے لیے کوئی اور بندوبست کردیتا۔ لیکن اس نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انسان ہی کو ہادی بناکر بھیجا۔ یہ باتیں ”اجتماعیت“ کے سلسلے میں بنیادی دلائل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پھر نماز کو دین کا ستون کہا گیا ہے اور نماز گھر میں تنہا بھی ادا کی جاسکتی ہے، لیکن باجماعت نماز کا ثواب ستائیس گنا زیادہ رکھا گیا ہے۔ دوسری عبادات کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو اسلام انفرادیت اور اجتماعیت کا ایک حسین امتزاج ہے اور اس میں ترکِ دنیا کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔
جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے ترکِ دنیا کی تعلیم تو دوسرے مذاہب میں بھی نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان مذاہب میں ترکِ دنیا کے غیر معمولی رجحانات پیدا ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کی کئی وجوہ ہیں، لیکن اہم اسباب دو ہیں۔ ایک یہ کہ کسی تصور کی غلط تفہیم کے باعث جزو پرستی نے زور پکڑا۔ دوسرے یہ کہ دوسری شریعتوں کی عر خواہ کتنی ہی طویل کیوں نہ رہی ہو لیکن بہرحال وہ ایک خاص زمانے کے لیے تھیں جس کے گزرنے کے بعد کسی دوسری شریعت کو ان کی جگہ لے لینی تھی۔ چنانچہ خالص ہوجانے کی آرزو کو ان شریعتوں کے ماننے والے بعض افراد میں شدید ہونا ہی تھا۔ ترکِ دنیا ”خالص“ ہونے کی آرزو کے سوا کیا ہے! اور اس آرزو میں تجرید کا ایک ایسا عنصر موجود ہے جس کا جزو پرستی اور زمانے اور اس کے احساس سے گہرا تعلق ہے۔ اگرچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کے حوالے سے فرمایا ہے کہ بس اب قیامت کی گھڑی قریب آ پہنچی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسلام رہتی دنیا تک کے لیے آیا ہے۔ اس لیے ہماری تہذیب میں ”بہت سے زمانوں“ کا احساس گہرا ہے، اور اس احساس کے تحت مسلمان دنیا کو اہمیت دینے پر مائل ہیں۔ تاہم اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک کا نمونہ موجود ہے اور یہ نمونہ ”انسانِ کامل“ کی سیرت کا نمونہ ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان سب باتوں کے باوجود مسلمانوں میں ترکِ دنیا کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ لیکن اول تو یہ رجحان بہت پھلنے کے باوجود محدود رہا۔ دوسرے یہ کہ اس کی نوعیت زمانی اور مکانی رہی ہے اور اسے کبھی بھی ”معیار“ کی حیثیت حاصل نہیں ہوسکی۔
انسان کا معاملہ عجیب ہے۔ وہ کہیں نہ کہیں سے ایسے تصورات گھڑ لیتا ہے جو اس کے لیے مفید مطلب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ بات تو ٹھیک ہے کہ اسلام میں ترکِ دنیا نہیں ہے، لیکن اس سے بہرحال یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ اسلام میں دنیا پرستی جائز ہے۔ افسوس کہ کچھ لوگ مختلف عنوانات کے تحت ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ مثلاً کہنے والے کہتے ہیں کہ اسلام دین اور دنیا کا امتزاج ہے۔ یہ بات غلط نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اصل اصول کیا ہے؟ دین یا دنیا؟ بات یہ ہے کہ اسلام میں دنیا ہے تو اس کا اُصول بھی دین ہے، اور جس دنیا کا اصول دین ہو وہ دنیا رہتی ہی کہاں ہے؟ وہ تو خود دین کا حصہ بن جاتی ہے، مگر یہ بات کم ہی لوگ سمجھتے ہیں۔ یہاں سمجھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگ اُصول سے واقف نہیں۔ لوگوں کی اچھی خاصی تعداد اصول کو سمجھتی ہے مگر اُصول کی تاویل اس طرح کی جاتی ہے کہ اُصول باقی ہی نہیں رہتا۔ تاویل بجائے خود اُصول بن جاتی ہے۔

