اسرائیلی فوج غزہ کو تقسیم کرنے والی نظارم راہداری سے پسپا

اسرائیل کے مختصر رقبے پر امریکی صدر کو تشویش
پیجر سفاکی کا جشن، امریکی صدر کو طلائی پیجر کا تحفہ
اسرائیلی رکن پارلیمان کی جانب سے جلاوطنی منصوبے کی سخت مزاحمت کا اعلان

اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ جاری ہے۔ 8 فروری کو قیدیوں کے پانچویں تبادلے کے بعد آزادی پانے والے اسرائیلی قیدیوں کی تعداد 16 ہوچکی ہے، اور اگر اس میں تھائی لینڈ کے 5 باشندوں کو شامل کرلیا جائے تو تادم تحریر مزاحمت کار 21 قیدی رہا کرچکے ہیں، جس کے جواب میں چھوٹے بچوں، کمسن بچیوں اور عورتوں سمیت 766 فلسطینی نجات پاگئے۔ عقوبت کدوں میں بند ان لوگوں کو رہائی سے پہلے غزہ کی تباہی پر مشتمل ڈھائی منٹ کا ایک بصری تراشا دکھایا گیا۔ یہ خوفناک فلم ان قیدیوں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ہے کہ 7 اکتوبر کو طوفان اقصیٰ اٹھانے کی اہلِ غزہ کو کتنی بھاری قیمت اداکرنی پڑی ہے۔

اس ہفتے غزہ کو تقسیم کرنے والی نظارم راہداری (Netzarim Corridor) سے اسرائیلی فوج کا انخلا مکمل ہوگیا۔ غزہ پر جزوی قبضے کے بعد اسرائیل نے سمندر تک پکی سڑک تعمیر کرکے پٹی کو دوحصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ کہنے کو تو یہ سڑک ہے لیکن ساڑھے 6 کلومیٹر لمبی اس شاہراہ پر ٹینکوں کی قطار کھڑی کرکے اسرائیل نے اسے آہنی دیوار بنادیا تھا۔ اہلِ غزہ کا اصرار تھا کہ امن معاہدے کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات سے پہلے نظارم راہداری خالی کی جائے۔

اس ہفتے اسرائیلی وزیراعظم کا دورۂ واشنگٹن اور امریکی صدر کا غزہ پر قبضہ جمانے کا ارادہ بلکہ خبط ذرائع ابلاغ پر چھایا رہا۔ جناب نیتن یاہو المعروف بی بی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ سلطانیِ ٹرمپ کے دورِثانی میں امریکہ آنے والے پہلے غیر ملکی سربراہ ہیں۔ 3 فروری کو روانگی سے پہلے تل ابیب کے بن گوریان ائرپورٹ پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے معنی خیز انداز میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ مشرق وسطیٰ کو ازسرنو ترتیب دے سکتی ہے۔ اور ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں جناب ٹرمپ نے غزہ پر امریکی قبضے کی خواہش ظاہر کرکے نئے نقشے کی رونمائی کردی۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا کہ ’’دنیا اگر میری میز ہے تو اس میں اسرائیل کا رقبہ میرے صدارتی قلم کی نب سے بھی کم ہے۔‘‘

ٹرمپ اقتدار کے موجودہ دور کی خصوصیت صدر ٹرمپ کی توسیع پسندانہ خواہش کا برملا اصرار اور تکرار ہے۔ وہ کئی بار کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کی آرزو بیان کرچکے ہیں۔ امریکی صدر ڈنمارک سے گرین لینڈ خریدنے اور نہر پانامہ پر امریکی پرچم لہرانے کا عزم رکھتے ہیں۔ حلف اٹھاتے ہی انھوں نے خلیج میکسیکو کا نام ’خلیج امریکہ‘ رکھ دیا۔ تاہم غزہ پر قبضے کے بارے میں امریکی صدر بے حد سنجیدہ لگ رہے ہیں۔

بی بی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا:

٭غزہ کے لوگ جہنم میں جی رہے ہیں، یہ رہنے کی جگہ نہیں رہی۔ انہیں کسی اور جگہ جانے کی ضرورت ہے۔ غزہ کی سرنگوں اور دیگر جگہوں پر جو کچھ ہورہا ہے وہ ایک انتشار ہے۔ غزہ میں ہے کیا موت اور تباہی کے سوا؟ ہم چاہتے ہیں کہ غزہ کے لوگوں کو مستقل طور پر اچھے گھروں میں آباد کیا جائے، جہاں انہیں غزہ کی طرح گولیوں یا قتل و غارت کا سامنا نہ ہو۔

٭مصر اور اردن نے مطلع کیا ہے کہ وہ غزہ کے باشندوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن کچھ دوسرے ممالک نے ان کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

٭ہم امن چاہتے ہیں اور قتل و غارت روکنے کے خواہاں ہیں، اور یہی نیتن یاہو بھی چاہتے ہیں۔ نیتن یاہو نے (غزہ میں) اچھا کام کیا ہے، ہماری دوستی پرانی ہے۔

آخر میں ڈھٹائی کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ ’’میں نوبیل امن انعام کا حق دار ہوں، لیکن شرمناک بات کہ مجھے یہ انعام کبھی نہیں ملے گا۔‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ غزہ پر قبضے کے لیے امریکی فوج بھیجیں گے؟ تو انھوں نے سپاٹ لہجے میں کہا کہ ’’ہم وہ کریں گے جو ضروری ہوگا، ہم اس ٹکڑے کو سنبھالنے جارہے ہیں جسے ہم ترقی دے کر صحت افزا Rivieraبنائیں گے۔ امریکہ غزہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی تعمیرنو کرنا چاہتا ہے، جس کے بعد اسے ایک کھلا عالمی علاقہ بنادیا جائے گا اور تعمیرنو کے بعد فلسطینیوں سمیت دنیا بھر کے لوگ وہاں رہ سکیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ غربِ اردن کے اسرائیل سے الحاق کی حمایت کریں گے؟ تو صدرٹرمپ نے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب تین چار ہفتوں کے بعد دیں گے۔ اگر اس معاملے کو اسرائیلی رقبے کے حوالے سے اُن کے شکوے کے تناظر میں دیکھا جائے تو جواب کے لیے تین ہفتہ انتظار کی زخمت فضول لگ رہی ہے۔

اس دورے کا سب سے شرمناک مرحلہ تحائف کا تبادلہ تھا۔ نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو ایک طلائی پیجر (Pager)بطور تحفہ پیش کیا۔ گزشتہ برس ستمبر میں اسرائیل نے بارود بھرے ہزاروں پیجر لبنان بھیجے تھے۔ ان پیجروں کے پھٹنے سے سیکڑوں مزاحمت کار اور عام شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ صدر ٹرمپ نے یہ تحفہ شکریے کے ساتھ وصول کرتے ہوئے اس سفاکی کو ’’شاندار آپریشن‘‘ قراردیا۔ جواب میں صدر ٹرمپ نے دورے کی ایک تصویر مہمان کو پیش کی جس پر انھوں نے اپنے ہاتھ سے لکھا ’’بی بی عظیم لیڈر‘‘۔

غزہ پر قبضے کے عزم کی ساری دنیا نے ایک آواز ہوکر مخالفت بلکہ مذمت کی ہے۔ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر رچرڈ بلیو منتھال نے اسے احمقانہ اور انتہائی خطرناک تجویز قراردیا۔ واضح رہے کہ بلیو منتھال صاحب ایک راسخ العقیدہ یہودی ہیں۔ سینیٹر کرس وین ہولن نے سوال کیا کہ معاشرتی تطہیر کو امن منصوبہ کیسے کہا جاسکتا ہے؟ جبکہ سینیٹر کرس مرفی کے خیال میں غزہ پر امریکی حملہ قتلِ عام کا سبب بنے گا۔ مقبوضہ فلسطین کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے کہا کہ ٹرمپ کا منصوبہ غیر قانونی، غیر اخلاقی، مکمل طور پر غیر ذمہ دارانہ اور ’’بین الاقوامی جرم‘‘ کے ارتکاب کی ایک مکروہ شکل ہے۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم انتونی البانیز، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، ناروے، چین اور روس کی وزارتِ خارجہ نے صاف صاف کہاکہ آزاد فلسطینی ریاست ہی مسئلے کا منطقی حل ہے، غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی قابلِ قبول نہیں۔ مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور مقتدرہ فلسطین (PA) کے وزرائے خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو کے نام مشترکہ خط میں غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی کے خیال ہی کو شرمناک قرار دیا۔ ہسپانوی وزیرخارجہ ہوزے البارز نے کہا کہ غزہ، اہلِ غزہ کا اور فلسطینی ریاست کا حصہ ہے، ان کی ملک بدری عالمی برادری کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ اس بیان پر جناب البارز کے اسرائیلی ہم منصب نے برہم ہوکر فرمایا ’’اسپین کو بہت ہمدردی ہے تواہلِ غزہ کو اپنے ملک میں جگہ دے دے۔‘‘

اور تو اور اسرائیلی عسکری انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل سلام بائنڈر نے کہا کہ اس سے غزہ کے ساتھ مغربی کنارے سمیت تمام عرب علاقوں میں پُر تشدد سرگرمیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسرائیلی چینل 13 کے مطابق جنرل صاحب کی اس بات پر وزیردفاع اسرائیل کاٹز سخت برہم ہیں اور انھوں نے فوج کے سربراہ سے جنرل بائنڈر کی گوشمالی کرنے کو کہا ہے۔

اس معاملے پر عالمی صف بندی بڑی واضح ہے۔ ہالینڈ کے متعصب رہنما گیرت وائلڈرز نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا ’’بالکل درست جناب ڈونلڈ ٹرمپ! میں ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں کہ اردن فلسطین ہے، فلسطینیوں کو اردن جانے دیں، غزہ کا مسئلہ حل ہوجائے گا‘‘۔ ہنگری کے انتہاپسند وزیراعظم وکٹر اوربن نے بھی غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلاکی حمایت کی ہے تاہم اوربن صاحب نے اس کے حق میں کوئی دلیل پیش کرنے کے بجائے اپنے یورپی اتحادیوں کو یہ کہہ کر ڈرایا کہ Trump Tornadoیا ٹرمپ طوفان کا مقابلہ آسان نہیں۔

صدر ٹرمپ تو غزہ پر قبضے کی ’’خواہش‘‘ سے دست بردار ہوتے نظر نہیں آتے لیکن ان کے مشیروں نے وضاحتوں کی شکل میں حفاظتی دیوار کھڑی کرنی شروع کردی ہے۔ قصرِ ابیض کی ترجمان کیرولین لیوٹ (Karoline Leavitt)نے کہا کہ ’’امریکی صدر کہہ چکے ہیں کہ تعمیرنو کے دوران وہاں کے باشندوں کو عارضی طور پر غزہ سے باہر منتقل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت یہ جگہ کسی بھی انسان کے رہنے کے قابل نہیں‘‘۔ دوسرے دن وضاحتوں کے غبارے کو سوئی چبھوتے ہوئے صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کے اپنے چبوترے Truth پر لکھا کہ جنگ کے اختتام پر اسرائیل غزہ کی پٹی امریکہ کے حوالے کردے گا۔ امریکہ، دنیا بھر کی عظیم ترقیاتی ٹیموں کے ساتھ آہستہ آہستہ اور احتیاط سے اس کی تعمیر کا آغاز کرے گا جو زمین پر اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اور سب سے شاندار رہائشی اور تفریحی مقام ہوگا۔ اس کام کے لیے امریکہ کے کسی فوجی کی ضرورت نہیں ہوگی اور اس سے خطے میں استحکام آئے گا۔ ایک دن بعد فرمایا کہ غزہ کو عظیم تفریح گاہ اور پُر تعیش رہائشی علاقے میں تبدیل کرنے کی انھیں کوئی جلدی نہیں۔

غزہ کے ساتھ غربِ اردن کی حالت بھی بہت خراب ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کے سابق مشیر نمرود نووک (Nimrod Novik) نے کہا کہ ہم جنین اور غربِ اردن میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ مغربی کنارے کو غزہ بنانے کی ایک منظم مہم ہے۔

بہت ہی کم تعداد میں لیکن کچھ اسرائیلی بھی نسل کُشی کی کھل کر مذمت کررہے ہیں۔ یہودی رکنِ کنیسہ (پارلیمان) جناب عوفر کسیف نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’عربوں کی جلاوطنی ناقابلِ قبول ہے، ہم اس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے، چاہے اس کے لیے ہمیں ٹرکوں کے نیچے لیٹنا یا پلوں کو اڑانا پڑے۔ اس جرأتِ رندانہ پر کنیسہ کی مجلسِ قائمہ برائے اخلاقیات نے عوفر کی رکنیت معطل کردی، جس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عوفر کسیف نے ٹویٹر پر لکھا’’یہ گھناؤنا فیصلہ میری زبان پر تالا نہیں لگا سکتا۔ میں غزہ میں جنگی جرائم، قحط اور قتلِ عام پر کبھی خاموش نہیں رہوں گا۔‘‘

اسرائیل کے خلاف مظاہروں پر انجامِ بد کی صدارتی دھمکیوں کے باوجود امریکہ میں بھی نسل کُشی کے مجرموں کا تعاقب جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے سابق اسرائیلی وزیردفاع یوف گیلنٹ کی شکاگو آمد پر لوگوں نے ’’جنگی جرائم کے مرتکب کو گرفتار کرو‘‘ کے نعرے لگائے۔ انصاف پسند یہودی بھی انشے ایمت معبد (Synagogue) کے سامنے مظاہرے میں شریک ہوئے۔

گفتگو کے اختتام پر اہلِ غزہ کے بلند اخلاقی پہلو کا ذکر، جس کا اعتراف عالمی امدادی اداروں نے کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق خوراک اور امدادی سامان لے کر روزانہ 600 ٹرک غزہ آرہے ہیں، لیکن 19 جنوری سے آج تک ایک بھی ٹرک لوٹا نہیں گیا۔ یہ ٹرک اقوام متحدہ کے گوداموں میں مال اتارتے ہیں جہاں سے راشن کارڈ پر سامان تقسیم ہوتا ہے۔ نظام کے تباہ و برباد ہوجانے کے باوجود مزاحمت کاروں نے لوگوں کو راشن کارڈ بناکر دیے ہیں جن پر درج تفصیل کے مطابق خاندانوں کو سامان دیا جاتا ہے۔ سترہ سو جوانوں پر مشتمل پولیس سرگرم ہے جن کے کے لیے گزشتہ دوہفتوں میں اٹھارہ تھانے بنائے گئے ہیں۔ گویا فاقہ کش اہلِ غزہ صرف برستی آگ کے سامنے ہی ثابت قدم نہیں رہے بلکہ پیٹ کی آگ بھی انھیں آپے سے باہر نہیں کررہی۔ دوسری طرف لاس اینجلس میں آتشزدگی کے دوران لوٹ مار، چوری اور اب انشورنس کے جعلی دعووں کی کہانیاں عام ہیں۔

آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔