اس وقت بھارت کشمیر میں مزاحمتی اور حریت پسند سیاست کو بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک چکا ہے، اور اب وہ اس سیاست کی اپنے انداز سے تشکیلِ نو چاہتا ہے
کشمیر کے معروف صحافی یوسف جمیل کی بھارتی اخبار’’دکن کرانیکل‘‘ میں لکھی گئی رپورٹ کے بعد ایک اور کشمیری صحافی ریاض مسرور نے بھی بی بی سی کو بھیجی گئی رپورٹ میں دبے لفظوں میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ کشمیر کے عوامی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ مودی حکومت حریت پسند کیمپ کے ساتھ بیک ڈور چینل سے مذاکرات کرنے پر آمادہ نظر آتی ہے۔ ریاض مسرور کے مطابق 2019ء میں میر واعظ عمر فاروق کے کشمیر پولیس کے گارڈزکو واپس بلانے کے ساتھ ہی انہیں گھر میں نظربند کردیا گیا تھا۔ انہیں جامع مسجد میں خطبۂ جمعہ دینے کی اجازت بھی نہیں تھی۔
کشمیر کے دو معروف صحافیوں کی رپورٹس قطعی بے سبب نہیں، بلکہ حالات کی تہہ میں کوئی سرگرمی جاری ہے۔ میر واعظ عمر فاروق حریت پسند سیاست کی واحد شناخت اور علامت ہیں جنہیں کسی حد تک سانس لینے کی آزادی ہے۔ اس کیمپ کے تمام وابستگان یا تو جیلوں میں قید اور محصور ہیں یا پھر وہ غیر فعال ہوکر گمنامی کی وادیوں میں کھوگئے ہیں۔ کشمیری حریت پسندوں کی کنٹرولڈ سیاست کے نئے خدوخال بھارت خود اُبھارنا چاہتا ہے، جس کے مطابق وہ اپنا رُخ اور بادنما اب فیصل مسجد اسلام آباد کے بجائے شاہی مسجد دہلی کی طرف کریں گے۔ انہیں اگر گلے شکوے بھی کرنا ہیں تو وہ بھارتی مسلمان کے طور پر یہ عمل کریں گے اور اس کے لیے انہیں پاکستان کی طرف دیکھنے کی روش ترک کرنا ہوگی۔ گویا کہ بھارت کشمیر کی مسلم سیاست کو نئے انداز سے Orchestrate (مرتب)کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں مگر وہ کشمیریوں کی حریت پسند سیاست کے لیے تیار کردہ اِس ایجنڈے کی کامیابی کے لیے سرتوڑ کوشش کرے گا۔
کچھ ہی عرصہ قبل ہندوستان کے سب سے مؤثر مسلمان راہنما اور حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے اخبار نے بھی بھارت کے مسلم اسکالرز اور اداروں کو مشورہ دیا تھا کہ اب آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعد وہ کشمیر کے مسلم تشخص کو خراب کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کشمیرسے دور رہنے کی پالیسی ترک کرکے وہاں زیادہ کھل کرکام کریں۔ اخبار نے لکھا تھا کہ ماضی میں بھارتی مسلمان کشمیر کی الگ شناخت کی وجہ سے اس جانب رخ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے کیونکہ انہیں علیحدگی پسند کا لیبل لگنے کا ڈر تھا، اب جبکہ ہندوتوا تنظیمیں کشمیر میں حالات کو تبدیل کرنے کا عمل شروع کرچکی ہیں تو اب بھارت کے مسلمانوں کو ان کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کشمیر کارخ کرنا چاہیے۔
ان حالات میں بھارت کی پوری کوشش ہوگی کہ وہ کشمیریوں کو اس نئے مزاج اور رجحان کی طرف دھکیلے کہ وہ پاکستان کی طرف دیکھنے کے بجائے اب خود کو بھارت کی مسلم سیاست کے دھارے کے حوالے کریں، کیونکہ اب سری نگر اور دہلی کے مسلمان کے مسائل ایک جیسے ہوکر رہ گئے ہیں، کشمیر کے اپنے قوانین باقی نہیں رہے، اب کلکتہ سے کشمیر تک مسلمانوں پرایک ہی قانون کا اطلاق ہورہا ہے۔ اس کا ثبوت مسلم وقف بل کا ترمیمی قانون ہے جس کے تحت مسلمانوں کی مذہبی املاک جن میں مساجد، درگاہیں اور مدارس شامل ہیں، سے متعلق مسلم وقف بورڈ کی تشکیل اب حکومت کرے گی۔کون سی املاک وقف بورڈ کا حصہ ہوں گی اس کا تعین بھی حکومت ہی کرے گی۔
اس قانون میں ترمیم کی تیاری سے بھارت بھر کے مسلمانوں میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے اور لامحالہ کشمیری مسلم اسکالرز بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے میرواعظ عمر فاروق نے ایک وفد کے ہمراہ دہلی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ترمیمی کمیٹی کے سربراہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر جگدمگاپال سے ملاقات کی، اور انہیں 6نکاتی یادداشت پیش کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے میڈیا کو بتایا تھا کہ یوں لگتا ہے کمیٹی ایک ذہن بناکر بیٹھی ہے اور اب فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اس طرح دہلی میں میرواعظ عمر فاروق کی پہلی سرگرمی ہی حکومتی نمائندوں کے ساتھ اور ہندوستان کے مسلم راہنمائوں کی معیت میں ہورہی ہے۔ اسی دوران انہوں نے دہلی میں درگاہ حضرت نظام الدین اولیا کا دورہ کرنے کے علاوہ وقف ترمیمی بل کے معاملے پر دوسرے مسلم اسکالرز کے ساتھ بات چیت کی۔ مسلم سیاست کے اس پہلو کے ساتھ ساتھ انہوں نے کشمیر سے نقل مکانی کرکے بھارت جانے والے کشمیری پنڈتوں کے ساتھ بھی ملاقات کی اور اُن کی آبائی وطن واپسی کے معاملات پر غور کیا۔ میرواعظ عمر فاروق نے کشمیری پنڈتوں کو تجویز دی کہ کشمیر میں بسنے والے مسلمانوں، پنڈتوں، بودھوں، سکھوں اور عیسائیوں کی ایک انٹرفیتھ کمیٹی تشکیل دی جائے جو کشمیر چھوڑ کر جانے والے پنڈتوں کی واپسی کی مہم چلائے گی۔ اس موقع پر پنڈتوں کے ایک لیڈر نتیش محلدار نے کہا کہ میرواعظ صرف مسلمانوں کے ہی نہیں پورے کشمیر کے روحانی لیڈر ہیں، وہ ہمارے بھی لیڈر ہیں۔ ہمارے درمیان یہ طے ہوا ہے کہ ماضی کی تلخ باتوں کو بھول کر ہماری وطن واپسی کا روڈ میپ بنایا جائے اور اس پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے۔ میرواعظ عمر فاروق کا کہنا تھا کہ میرے دادا کے مریدین میں پنڈت بھی شامل ہوا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں تیس سال سے دہلی آتا ہوں تو ایک پنڈت کے گھر رہتا ہوں۔
میر واعظ عمر فاروق کی اس سرگرمی میں حریت پسند سیاست کے اثرات یا تو نظر نہیں آتے، یا پھر وہ دانستہ طور پر اس پہلو کو پس منظر میں رکھے ہوئے ہیں۔ اس پر میرواعظ کو دوش دینے کے بجائے اسے کشمیرکے حالات کا منطقی نتیجہ ہی کہا جاسکتا ہے۔
اس وقت بھارت کشمیر میں مزاحمتی اور حریت پسند سیاست کو بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک چکا ہے، اور اب وہ اس سیاست کی اپنے انداز سے تشکیلِ نو چاہتا ہے۔ اس منصوبے میں جس بات کو مرکزیت حاصل ہے، وہ یہ ہے کہ کشمیر کے لوگ مسلم سیاست بھلے سے کریں مگر وہ حریت پسند سیاست سے گریز کریں، اور اپنا مقدر اب راولپنڈی اور لاہو ر کے مسلمانوں کے ساتھ جوڑنے، یا خود کو جموں وکشمیر کی حدود میں قرنطینہ کرنے کے بجائے دہلی، حیدرآباد اوربنگلور کے مسلمان کے ساتھ وابستہ کریں اور انہی کے ساتھ گھل مل جائیں۔

