لاہور میں جماعت اسلامی کا فقید المثال کشمیر مارچ

کشمیر سے محبت ہر پاکستانی کے خون میں شامل ہے، حافظ نعیم الرحمان

ملک کے دیگر شہروں کی طرح صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی ’’یومِ یکجہتیِ کشمیر‘‘ جوش و خروش سے منایا گیا۔ زندہ دلانِ لاہور نے بھی بھارتی ظلم و ستم کا شکار کشمیریوں سے بھرپور طریقے سے اظہارِ یکجہتی کیا اور قاضی حسین احمدؒ مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے 5 فروری کو یہ دن پوری جرات کے ساتھ منانے کا آغاز کیا تھا۔ لاہور میں مال روڈ پر جماعت اسلامی نے بڑا جلسہ کیا جو کشمیریوں سے اظہارِ یکہجتی کا صوبہ پنجاب کا سب سے بڑا اجتماع تھا، جس میں ہزاروں مرد و خواتین دلجمعی کے ساتھ موجود تھے۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے امریکہ، اسرائیل اور حکومت کے کمزور بیانیے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جس سے سیاسی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کشمیر مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا غزہ کو خالی کرانے کا بیان احمقانہ ہے جس کی پاکستان بھرپور طریقے سے مذمت کرے۔ حماس ایک زمینی حقیقت ہے جس کو تسلیم کیے بغیر دنیا کی سیاست آگے نہیں بڑھ سکتی۔ بھارت، اسرائیل اور امریکہ تینوں دہشت گرد ریاستیں ہیں جن کا عالمِ اسلام سے مقابلہ ہے۔ نیتن یاہو 60 ہزار فلسطینیوں کا خون پینے کے بعد ٹرمپ کی گود میں جاکر بیٹھا ہے۔ پوری دنیا ٹرمپ کو احمق اور پاگل قرار دے رہی ہے، اس نے احمقانہ بیان دیا جس میں کہا کہ غزہ کو فلسطینیوں سے خالی کروا دیں ہم ڈویلپمنٹ کروا دیں گے۔ تم نے اسرائیل کو ڈالر، اسلحہ اور خطرناک ہتھیار دیے تاکہ پورے غزہ کو بارود کا ڈھیر بنادو۔ تم نے کہا کہ ہم نے حماس کا خاتمہ کردیا ہے، اپنے اہداف حاصل کرلیے ہیں۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ تم نے اسی حماس کے ساتھ معاہدہ کیا اور مذاکرات کیے۔ حماس نے جس جنگ بندی کے معاہدے کا روڈمیپ دیا تھا اسی معاہدے کے عین مطابق جنگ بندی ہوئی۔ اسرائیل کی شکست کے بعد بھارت بھی کشمیر میں جلد شکست سے دوچار ہوگا۔ پوری دنیا اور ہر باضمیر انسان ٹرمپ کے بیان کی مذمت کرتا ہے جس کا مقصد غزہ پر قبضہ کرنا ہے۔ ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ نیتن یاہو سے کہے کہ تم فلسطین سے صہیونیوں کو نکالو کیونکہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے۔ فلسطینی پُرامن اور صاف ستھرے لوگ ہیں، گندگی تو تم لوگوں نے پھیلا رکھی ہے۔ ٹرمپ صاحب! صہیونیوں کو نیویارک میں لاکر بسا دو، فلسطین کو خالی کردو۔ امریکہ چاہے گا کہ سعودی عرب کو پریشرائز کرے، پاکستان کو براہِ راست پریشرائز تو نہیں کر سکتا کیونکہ آپ جیسے لوگ یہاں موجود ہیں، وہ سعودی عرب سے کہے گا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پاکستان سے بات کرے۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر اس پر سوچا بھی تو ہم حکمرانوں کو نشانِ عبرت بنادیں گے۔ فلسطین فلسطینیوںکا ہے، تم نے امریکی ایجنڈا نافذ کرنے کے لیے اپنے من پسند اینکرز، تجزیہ نگاروں اور سیاست دانوں کو شہ دینے کی کوشش کی تو اچھا نہیں ہوگا۔ اسرائیل ایک ناپاک وجود ہے۔ وہ ایک ایسا وجود ہے جو ناسور بن کر سامنے آیا ہے۔ جب تک یہ نہیں مٹے گا، پورے خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ٹرمپ صاحب! آپ کی آمد کے بہت سارے لوگ منتظر تھے لیکن آپ نے وہی حرکت کی ہے جو آپ کی اصل ہے۔ آپ نے ایک بار پھر دہشت گردوں کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ جس نے مظلوم مسلمانوں کی نسل کُشی کی، آپ اُس کو برابر میں بٹھاکر فلسطینیوں کی بات کررہے ہیں! اس سے باز آجائیں ورنہ امریکہ میں آپ کی مخالفت ہوگی جس سے آپ کے لیے صدارت کرنا مشکل ہوجائے گا۔ اب دنیا بدل چکی ہے، لوگوں کو سب کچھ نظر آنا شروع ہوچکا ہے۔ آپ کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اب زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوگا۔ ہم حماس اور کشمیر کے مجاہدوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ کشمیر اور فلسطین میں جاری جدوجہد اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے۔ یہ چارٹر حق دیتا ہے کہ اگر کسی قوم یا خطے پر کوئی قابض ہوجائے تو اس کے خلاف عسکری مزاحمت کرنا قانونی ہے، بلکہ اس جدوجہد کو سپورٹ کرنا بھی قانونی ہے۔ لہٰذا کشمیریوں کی جدوجہد پر معذرت خواہانہ رویہ اپنانے والو! شرم کرو۔ کشمیری اپنی جنگ شریعت اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق لڑ رہے ہیں، لیکن حماس ایک جمہوری پارٹی ہے جس نے الیکشن جیتا تھا جو امریکہ کو ہضم نہیں ہوا۔ حماس ایک جمہوری طاقت ہے جو اب ایک زبردست مزاحمتی فورس بن چکی ہے۔ پچھلے دنوں امریکہ میں ہونے والے سروے میں 20 فیصد امریکیوں نے فلسطینیوں ہی نہیں بلکہ حماس کی حمایت کا اعلان کیا تھا جس سے ٹرمپ پریشان ہے۔ اگر آج یہ سروے دوبارہ ہو، تو ہوسکتا ہے حماس کی حمایت 40 فیصد ہوجائے۔ دنیا میں حماس نے اپنی حریت سے، اپنی مزاحمت سے، اپنے اخلاق سے، قیدیوں کے ساتھ اچھے سلوک سے، اپنی خدمت اور نظریے سے دلوں میں جگہ بنائی ہے۔ اس کو جو دہشت گرد قرار دیتا ہے وہ خود دہشت گردی کا سب سے بڑا سپورٹر ہے، جو امریکہ ہے۔ امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم برسائے، جس نے عراق میں جھوٹ بول کر لاکھوں لوگوں کو قتل کیا، افغانستان میں مسلمانوں کا خون بہایا، جمہوری قوتوں کے تختے الٹے۔ یہ خود سب سے بڑا دہشت گرد ملک ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ تحریکِ آزادیِ کشمیر ایک نئے عزم سے جلد ہم کنار ہوگی۔ پورا پاکستان کشمیر کی آزادی کی تحریک کی پشت پر کھڑا ہے۔ جماعت اسلامی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے نہ صرف کشمیریوں کی تحریک کی حمایت کی بلکہ ان کے ساتھ اگلی صفوں میں رہی۔ 1989-90ء میں قاضی حسین احمدؒ نے سب سے پہلے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 5 فروری کو ہڑتال کی کال دی، بعد میں اس دن کو کشمیریوں کی جدوجہد کے لیے قومی سطح پر مختص کردیا گیا۔ کشمیر کی آزادی کی تحریک پاکستان کی تکمیل کی تحریک ہے، کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا گیا، لاکھوں لوگوں کو معذور کیا گیا، کشمیر میں مائوں اور بہنوں کی عزتوں کو پامال کیا گیا، ہزاروں مجاہدین آج بھی بھارت کی جیلوں میں قید ہیں، کتنی جماعتوں کو بین کیا ہوا ہے۔ یاسین ملک، شبیر شاہ، آسیہ اندرابی سمیت کئی رہنما آج بھی جیل میں قید ہیں۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ ہم چھپنے والے نہیں، ڈرنے والے نہیں۔ پاکستانیو! کشمیریوں کی پشت پر کھڑے ہو۔ اگر تم ڈگمگاتے ہو تو کشمیریوں میں مایوسی ضرور پیدا ہوتی ہے۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جو لوگ اپنی جانیں دے رہے ہیں، قید ہیں، اور جن کی عزتیں پامال ہوئیں، جن کے بچوں کے گلے کاٹے گئے، اُن کے ساتھ کھڑے رہیں۔ بھارت سے آلو، پیاز کی تجارت کا بیانیہ سازش ہے۔ جو کشمیر کا سودا کرے گا، قوم اُسے نشانِ عبرت بنادے گی۔ گزشتہ چند سال سے کشمیر کاز کو کھٹائی میں ڈالا گیا۔ یومِ یکجہتیِ کشمیر کے موقع پر تحریکِ آزادیِ کشمیر کو ازسرِنو منظم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ بھارت سے تجارت کی نہیں، اُسے دنیا میں تنہا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کے بجائے کشمیریوں کا مقدمہ پوری دنیا میں لڑے۔ آزاد کشمیر کو تحریکِ آزادیِ کشمیرکا بیس کیمپ بنایا جائے۔ کشمیر پر خاموشی گجرات کے قصاب کی حمایت کے مترادف ہے۔ مودی بھارت کو تنہائی کی طرف لے جارہا ہے۔ امریکہ اور کینیڈا میں علیحدگی پسندوں کے خلاف نئی دہلی کے ایکشن سے دونوں ممالک اس سے ناراض ہیں۔ بھارت میں ناگا لینڈ، ہماچل پردیش، آسام اور پنجاب میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ کشمیر میں 10 لاکھ قابض افواج موجود ہیں، جہاں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ ان حالات میں حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ کشمیری قیادت کو ساتھ ملا کر مسئلہ کشمیر پر پوری دنیا میں سفارت کاری کو تیز کرے۔ بھارت کشمیریوں کا قاتل ہے۔ ہم بھارتی عوام کے خلاف نہیں۔ کشمیریوں کو حقِ خودارادیت ملنے تک بھارت سے کسی قسم کے تعلقات نہیں چاہتے۔ اسی طرح اگر کسی نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچا بھی تو قوم اُسے گریبان سے پکڑ لے گی۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی 17 قراردادیں ہیں۔ اقوام متحدہ تو خاموش ہے، بدقسمتی سے پاکستان میں حکومتی سطح پر بھی گزشتہ چند سال سے ماضی کی نسبت خاموشی ہے۔ مشرقی سرحد کو بھلا کر تمام توجہ مغربی سرحد پر مرکوز ہے۔ پاکستان کو ایک ایجنڈے کے تحت افغانستان سے لڑوایا جارہا ہے۔