توازن

’’توازن‘‘ اردو ادب کے ممتاز استاد، محقق اور نقاد ڈاکٹر یونس حسنی (پ: 1937ء)کے تنقیدی مضامین کا دوسرا مجموعہ ہے۔ پہلا مجموعہ ’’کاوشیں‘‘ چند سال قبل شائع ہوا تھا۔ اس مجموعے میں شامل مضامین متعدد سالوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ خصوصاً وہ مضامین جو تنقیدی اہمیت کے حامل ہونے کے باوجود کسی قدر مطالعے کا نتیجہ ہیں مثلاً ’’ہندوستان میں اردو شاعری آزادی کے بعد‘‘جس عہد میں لکھا گیا وہ اُس عہد کی ضرورت تو تھا ہی، آج بھی بامعنی ضرور ہے۔ اسی طرح بعض دوسرے مقالات ادب کے ایسے تنقیدی مطالعے کے حامل ہیں جو غور وفکر کی دعوت دیتے ہیں۔ اس مجموعے میں بڑی تعداد ایسے مضامین کی ہے جن میں ڈاکٹر حسنی نے معاصرین کی تخلیقات کا مطالعہ کرکے ان کی ادبی حیثیت متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس مجموعے میں درجِ ذیل تحقیقی و تنقیدی مضامین شامل ہیں:

1۔ مسرورکیفی… گدازِ قلب و نظر سے معمور نعت گو، 2۔ حریم اسریٰ کا شاعر(ادب گلشن آبادی)، 3۔ ہندوستان میں اردو شاعری آزادی کے بعد، 4۔ 1997ء کی تحقیقی و تنقیدی مطبوعہ کتب کا جائزہ، 5۔ ثقافت اور زبان، 6۔ اردو شاعری میں قومیت کا اظہار، 7۔ رومانیت: تصورات اور انسلاکات، 8۔ اردو کے چند قدیم سفرنامے، 9۔ رباعی ہمارے عہد میں، 10۔ غالبؔ کا معذرت نامہ… ایک تجزیہ، 11۔ یلدرم کی ایک نایاب نگارش، 12۔ فیضؔ… انفرادیت و امتیاز کے اسباب، 13۔ بادِ سبک دست سے سفارتِ گل تک، 14۔ تلمیذِرحمانی۔ محمد برکاتی، 15۔ قمر ہاشمی کا ’’ فانوس‘‘، 16۔ ساحل پہ ایستادہ شناور (ڈاکٹر آفتاب مضطرؔ)، 17۔ نجم الثاقب… ایک صاحب ِ طرز شاعر، 18۔ رفیع الدین رازؔ…خوش گفتار شاعر، 19۔ رئیس علوی… تہذیبِ نفس کا شاعر، 20۔ مختار کریمی… منفرد لہجے کا شاعر، 21۔ ’’آزمائش ِگل‘‘ کی شاعرہ… صبیحہ صباؔ، 22۔ ضبط سہارنپوری… دورکج نہاد کا اک برگزیدہ شخص، 23۔ اردوہائیکو کی ایک تواناآواز(اقبال حیدر)، 24۔ رضیہ سلطانہ… ایک نئی آواز، 25۔ اشتیاق میر… امکانات سے مملو شاعری کا خالق، 26۔ عبدالقدیر اصغر… کچھ خارکم تو کرگئے گزرے جہاں سے ہم، 27۔ اب مارکھاؤ (صفدر علی انشاؔ)، 28۔ پروین جاوید… طبع سلیم کی شاعرہ، 29۔ ڈاکٹر طاہر سعید ہارون اور ماہیا، 30۔ ڈاکٹر جمیل جالبی… ایک قدآور علمی شخصیت، 31۔ ڈاکٹر جمیل جالبی… محقق، دانشور، معمارِ ادب، 32۔ معین قریشی… ایک منفرد مزاح نگار، 33۔ ’’قلب‘‘ ڈاکٹر سید اسلم کا طبی شاہکار، 34۔ ڈاکٹر عبدالودود… ’’اردو سے ہندی تک‘‘، 35۔ ’’صادق الخیری کے بہترین افسانے‘‘، 36۔ فردوس حیدر کی ’’راستے میں شام‘‘، 37۔ ’’بت خانہ شکستم من‘‘۔ امیر حسنین جلیسی، 38۔ ڈاکٹر ممتاز عمر… ایک حیران کن علمی و ادبی شخصیت، 39۔ دربرگ لالہ و گل… ایک مطالعہ، 40۔ صابر جعفری کی نگارشات… ایک تجزیہ، 41۔ زین العابدین شنگرفی ؒ اور ان کا عہد، 42۔ سید علی اصغر ناظم… ایک تعارفی خاکہ، 43۔ سید علی اصغر ناظم… شخصیت، ماحول اورکارنامے، 44۔ محمد عالمگیر خاں کیفؔ، 45۔ صدیق صائب… ٹونک کا ایک فکر آگیں شاعر، 46۔ مضطرؔ خیر آبادی کا ایک قصیدہ، 47۔ اختر شیرانی کا ایک نامکمل غیر مطبوعہ ترجمہ، 48۔ اختر شیرانی کی رومانی شاعری، 49۔ اختر شیرانی کا ایک دلچسپ مگر اہم خط، 50۔ اختر شیرانی اور جدید اردو ادب، 51۔ میں اور ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی۔

ڈاکٹر حسنی رقم طراز ہیں: ’’میں نے اپنے بزرگ ادیبوں، شاعروں، ہم عصروں اور تازہ واردانِ بساطِ ادب پر جو کچھ لکھا، وہ اپنے خیال میں انصاف، رواداری اور ادبی فہم و فراست کی بنیاد پر لکھا ہے، اس لیے میری آراء میں ایک توازن ہے اور یہی میرا مقصد بھی تھا، اس لیے اس مجموعہ کا نام بھی ’’توازن‘‘ رکھا گیا ہے۔ اس میں آپ نقدونظر کا ایک ایسا توازن پائیں گے جوادب فہمی کے لیے ناگزیر ہے۔ اور بس!‘‘

یہ توازن ہی اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ ادب کے اساتذہ و طلبہ کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔