نثرِ اخترؔ(اختر شیرانی کی نثری نگارشات)

دو چاند ہیں پہلو میں، اب چاند کہیں کس کو
ساقی کو اگر کہیے، پیمانے کو کیا کہیے

ایسے متعدد خوبصورت رومانی اشعار، نظموں اور غزلوں کے خالق معروف رومانی شاعر اخترؔ شیرانی (1905ء۔1948ء) ایک اچھے نثر نگار بھی تھے۔ انھوں نے بہت سے اخبارات و رسائل کے لیے مختلف فرضی ناموں سے کالم لکھے۔ خود بھی متعدد رسائل نکالے۔ ان کے مدیر رہے اور ان کے لیے مضامین لکھتے رہے۔ شذرات، ادبی کالم اور اسی نوعیت کی دیگر تحریریں اس کے علاوہ ہیں۔

ڈاکٹر یونس حسنی کی پیشِ نظر کتاب اخترؔ شیرانی کی نثری نگارشات ہی پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹرحسنی نے درجنوں رسائل کی ورق گردانی کرکے اختر شیرانی کے درجِ ذیل 35 نثری مضامین کا انتخاب کیا ہے:

1۔ خیالاتِ ابنِ یمین، 2۔ ایک افغان شاعرہ، 3۔ رین بسرے کا تھیٹر، 4۔ ایک دوست کا ماتم، 5۔ چند گھنٹے سعدی مرحوم کا ساتھ، 6۔ پروفیسر براؤن، 7۔ ایرانی شاعر عارف کی آپ بیتی، 8۔ ٹیگور ایران میں، 9۔ قدیم یونان کا ملک الشعراء… ہومر، 10

ایلیڈ… ہومر کا ایک غیر فانی شہکار، 11۔ غالب کا اسیریہ، 12۔ سرسید کی ایک غیر معروف تالیف، 13۔ عشق کی پہلی غلطی (گیٹے کا رومان)، 14۔ خیام اپنے خدا کے ساتھ، 15۔ خوابِ پریشاں، 16۔ کیا ہمارا تھیٹر ناکام ہوچکا ہے؟ 17۔ آرٹ، 18۔ خان شہید اور اس کے نوحے (افکار و خیالات)، 19۔ دنیا کے مختلف حصوں میں خواتین کی حالت، 20۔ عورت اور اس کا اثر مرد پر، 21۔ فن ِ تقریر، 22۔ بچہ اور کھیل،23۔ دیوارِ چین، 24۔ ایوانِ مدائن، 25۔ ایک غرق شدہ سرزمین، 26۔ یورپ کی ایک عجیب جماعت، 27۔ دنیا کا سب سے پہلا بالشویک، 28۔ نئے ایران کا نیا بادشاہ، 29۔ ٹیپو سلطان کی شہادت گاہ، 30۔ سقوطِ کوت العمارہ،31۔ ایران کا ایک دلچسپ سفیر، 32۔ جدید فلسفہ تاریخ، 33۔ واقعاتِ شکار، 34۔ جہاں گیر کا آخری شکار، 35۔ سلطان ملک شاہ سلجوقی کا شکار۔

پیشِ نظر کتاب سے قبل ڈاکٹر حسنی نے اخترؔشیرانی کے چند مضامین ’’نگارشاتِ اختر‘‘ کے عنوان سے بھی مرتب کیے تھے جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کراچی سے 2010ء میں شائع ہوئے تھے۔ اختر شیرانی کی نثرنگاری میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ان دونوں کتابوں کا مطالعہ ناگزیر ہے۔