خیبرپختون خوا حکومت کی ممکنہ افغان سفارت کاری

پاکستان میں امن، افغانستان میں امن کے ساتھ مشروط ہے

خیبر پختون خوا حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے افغان عبوری حکومت سے بات چیت کے لیے وفد افغانستان بھیجنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے دورے کے لیے ٹی او آرز تیار کرلیے گئے ہیں۔ ٹی او آرز کے مطابق افغان طالبان سے بات چیت کے لیے دو وفود افغانستان جائیں گے، پہلا وفد مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنائے گا اور سفارتی امور نمٹائے گا، جبکہ دوسرا وفد کئی اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ہوگا جو افغان راہنمائوں سے دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے بات چیت کرے گا۔ بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ وفد بھیجنے کا مقصد کراس بارڈر ٹرائیبل ڈپلومیسی مضبوط کرنے کے علاوہ اقتصادی اور معاشرتی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ خیبر پختون خوا حکومت مذاکرات کے لیے وفاقی حکومت سے رابطے میں رہے گی۔ تاہم دفتر خارجہ نے مشیر اطلاعات خیبر پختون خوا بیرسٹر محمد علی سیف کے افغانستان سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی خارجہ امور وفاق کے دائرۂ کار میں آتے ہیں، اس پر صوبائی حکومت کی ڈپلومیسی اپنے دائرۂ کار سے تجاوز ہے۔

خیال رہے کہ پشاور میں وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت گزشتہ دنوں ہونے والے سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اکابرین کے ایک اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان میں امن، افغانستان میں امن کے ساتھ مشروط ہے، اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے افغانستان سے حکومتی سطح پر مذاکرات جلد شروع کیے جائیں گے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے سیاسی اور مذہبی جماعتیں مل کر کام کریں گی۔

اطلاعات کے مطابق افغان عبوری حکومت سے رابطے کے لیے مشیر اطلاعات خیبرپختون خوا بیرسٹرسیف کو فوکل پرسن نامزد کیا گیا ہے جو اس سے پہلے بھی نہ صرف اس طرح کی سفارت کاری کرچکے ہیں بلکہ وہ اس ضمن میں دو مرتبہ بھاری وفود کے ہمراہ افغانستان کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔ واضح رہے کہ بیرسٹر سیف جن کاآبائی تعلق خیبر پختون خوا کے ضلع صوابی سے ہے اور جو زمانۂ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے منسلک رہے ہیں، اپنے ایک تفصیلی انٹرویو میں نہ صرف خود افغان جہاد میں عملاً شرکت کا اقرار کرچکے ہیں بلکہ ان کے افغان جہادی راہنمائوں بشمول انجینئر گلبدین حکمت یار کے ساتھ خصوصی مراسم بھی ہیں۔ ان کو افغان عبوری حکومت سے رابطہ کاری کا حالیہ ٹاسک بظاہر تو صوبائی حکومت کی جانب سے دیا گیا ہے لیکن واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کے پیچھے اصل ہاتھ اسٹیبلشمنٹ کا ہوسکتا ہے جو ہر حال اور ہرقیمت پر پاکستان میں افغان عبوری حکومت کی سرپرستی میں ٹی ٹی پی کی جاری دراندازی کوکنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ چونکہ ایسا کرنا اسٹیبلشمنٹ اور صوبائی حکومت کی مشترکہ خواہش اور مجبوری ہے، اس لیے بظاہر نہ چاہتے ہوئے بھی حالات نے ان دونوں کو ایک صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ اس صورتِ حال میں چونکہ اسٹیبلشمنٹ خود براہِ راست فریق ہے، اس لیے اُس نے رابطہ کاری کا بوجھ بیرسٹر سیف کی وساطت سے صوبائی حکومت کے کندھے پر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو بظاہر ایک مثبت پیش رفت ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اسٹیبلشمنٹ اس پیچیدہ صورتِ حال سے نمٹنے میں کیسے کامیاب ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت سیاسی قیادت کے ایک حالیہ اجلاس میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے افغانستان سے حکومتی سطح پر مذاکرات جلد شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان میں امن افغانستان میں امن کے ساتھ مشروط ہے، اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے افغانستان سے حکومتی سطح پر مذاکرات جلد شروع کیے جائیں گے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے سیاسی اور مذہبی جماعتیں مل کر کام کریں گی۔ اجلاس کے شرکا نے کہا کہ قیام امن سب سے اہم ہے، قومی مفاد وقت کی اہم ضرورت ہے، ضلع کرم کے مسئلے کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے، لہٰذا حکومت آئین کی حکمرانی اور قانون کی بالادستی کویقینی بنائے۔ شرکا نے مزید کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ اور امن وامان کو فروغ دینا ہم سب کا مقصد ہے اور دہشت گردی کے مسئلے پر قومی سطح پر سیاسی قیادت کا گرینڈ اجلاس منعقد کیا جائے۔ شرکا نے کہا کہ ضلع کرم کا مسئلہ اگرچہ علاقائی ہے لیکن یہ ایک قومی مسئلہ بن سکتا ہے، اس لیے اس مسئلے کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حکومت آئین کی حکمرانی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے اور ملک میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سدباب کیا جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں امن، خوشحالی اور معاشی ترقی کے لیے قومی مفاہمت اور سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے، اس لیے اس ایجنڈے پر تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کیا جائے اور اس مقصد کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے جو تمام سیاسی جماعتوں سے روابط قائم کرے۔

اجلاس کو بتایا گیاکہ خیبر پختون خوا کو امن وامان کے حوالے سے بہت چیلنجز کا سامنا ہے، کیونکہ یہاں حالات کو خراب کرنے میں بیرونی سازشوں کا عمل دخل ہے۔ خیبرپختون خوا میں امن و امان افغانستان کی صورتِ حال سے جڑا ہے۔ ملک میں جاری دہشت گردی کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے افغانستان کے ساتھ حکومتی سطح پر مذاکرات کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ افغانستان سے بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے جرگہ تشکیل دیا جائے گا۔ کرم کے حوالے سے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ کرم میں کچھ عناصر اپنے مفاد کے لیے صورتِ حال کو خراب کررہے ہیں، البتہ کے پی کے حکومت کی انتھک کوششوں سے کرم میں صورتِ حال بہتر ہورہی ہے۔

دوسری جانب خیبر پختون خوا میں جاری دہشت گردی کے واقعات جن میں زیادہ تر سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو نشانہ بنایا جارہا ہے، کے تناظر میں طلبہ سے اپنے ایک خطاب میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ فسادی ٹولہ فتنہ الخوارج اسلام سے نابلد اور قطعی طور پر خارجی ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ یہ دہشت گرد ریاست کے سامنے اپنے ہتھیار پھینک دیں پھر وہ ریاست سے رحم کی توقع کرسکتے ہیں، لیکن گمراہ گروہ کو یہ اجازت نہیں ہے کہ اپنی اقدار ہمارے ملک پر مسلط کرے۔ آرمی چیف نے کہا کہ ہم فتنہ الخوارج کے فسادیوں سے لڑرہے ہیں، یہ خارجی عناصر اسلام کی غلط تشریح اور اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ اپنے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ نوجوانوں سے گفتگو میرے لیے ہمیشہ انتہائی خوشی کی حامل ہوتی ہے، اور جب تک قوم خصوصاً ہمارے نوجوان فوج کے پیچھے ہیں تب تک پاک فوج کبھی نہیں ہارے گی۔ فتنہ الخوارج کے حوالے سے آرمی چیف نے کہا کہ قرآن میں واضح کہا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے جو جنگ کرتے ہیں اور زمین پر فساد برپا کرتے ہیں، ان کی سزا یہ ہے کہ انہیں قتل کردو، پھانسی پر لٹکا دو،یا ان کے ہاتھ مختلف سمتوں سے کاٹ دو، یا پھر اپنی زمین سے انہیں دربدر کردو۔ دنیا میں ان کے لیے یہ سزا ہے جبکہ آخرت میں دردناک عذاب دیا جائے گا۔ آرمی چیف نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو عذاب سے بچنا چاہتے ہیں وہ اپنے ہتھیار پھینک دیں یا سرِتسلیم خم کردیں توپھر اللہ بڑا غفورالرحیم ہے، اس طرح ریاست سے بھی رحم کی توقع کر سکتے ہیں۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملے بڑھنے کی وجہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو افغان طالبان کی مسلسل مالی اور لاجسٹک مدد ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی اور طاقت برقرار ہے۔ 2024ء کے دوران اس نے پاکستان میں 600 سے زائد حملے کیے۔ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو ماہانہ 3 4 ہزارڈالر فراہم کررہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ افغانستان کے صوبے کنڑ، ننگر ہار، خوست اور پکتیکا میں ٹی ٹی پی کے نئے تربیتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بلوچستان لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ کے داعش اور ایسٹ ترکستان اسلامی تحریک سے گٹھ جوڑ اور اسے افغانستان سے ملنے والی مددکا بھی انکشاف ہوا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے افغان حکومت پر مسلسل اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ طالبان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں، لیکن اس کے باوجود افغان سرحد سے ٹی ٹی پی کے جنگجومسلسل پاکستان میں حملے کررہے ہیں اور اس حوالے سے پاکستان میں دہشت گردی میں افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی افغان حکومت کو پیش کیے جا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود اُس کی جانب سے نہ تو اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیاجارہاہے اور نہ ہی اس ضمن میں اب تک ٹی ٹی پی پر کوئی واضح عملی دبائو ڈالاگیاہے جس کی وجہ سے پاکستان اور افغان عبوری حکومت کے درمیان دو طرفہ تعلقات مسلسل سردمہری بلکہ تنائو کا شکار چلے آ رہے ہیں جس کااثر دوطرفہ تجارت اور دونوں جانب کے عوام پر مختلف مشکلات کی شکل میں پڑ رہاہے۔لہٰذا توقع کی جانی چاہیے کہ اگر صوبائی حکومت کا مجوزہ جرگہ اپنے مقاصد اور اہداف کے حصول میں کامیاب ہوجاتاہے تو اس سے یقیناً دونوں برادرپڑوسی ملکوں کو فائدہ ہوگا۔