سندھ میں ڈاکو راج

جماعت اسلامی سندھ کی جانب سے بحالی امن کیلئے انڈس ہائی وے بائی پاس پر احتجاجی دھرنا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا

اردو کے نامورغزل گو شاعر حکیم مومن خان مومنؔ نے تو مذکور شعر اپنے بے وفا اور ستم گر محبوب کے لیے کہا تھا، لیکن اہلِ سندھ آج اس ترقی یافتہ، جدید اور سائنسی دور میں بھی خود کو بے پناہ دیرینہ مشکلات اور مسائل میں گھرا دیکھ کر، اور ان کے حل کے لیے ہر طرح سے اپنے وفاقی اور صوبائی حکومت کے ذمہ داران کو متوجہ کرنے کے باوجود ان ذمہ داران کی جانب سے مسلسل ظالمانہ بے توجہی برتنے کی وجہ سے یہ شعر کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اہلِ سندھ کو آج جن گوناگوں پریشانیوں اور تکالیف کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑرہا ہے ان میں آئے دن بڑھتی ہوئی شدید ترین بدامنی سرفہرست ہے، جس کی وجہ سے خصوصاً بالائی سندھ کے اضلاع جیکب آباد، لاڑکانہ، قنبر شہداد کوٹ، گھوٹکی، شکارپور اور کشمور کندھ کوٹ کے باشندوں کا چین و قرار، ذہنی سکون، کاروبار، زراعت اور معمولاتِ زندگی حد درجہ متاثر ہوچکے ہیں۔ بہت زیادہ ہمہ گیر، نہ رکنے والی، نہ تھمنے والی بدامنی ہی کی وجہ سے سندھی پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سمیت مقامی عوام میں اپنے صوبے کے لیے ’’ڈاکو اسٹیٹ‘‘، ڈاکو راج، اغوا انڈسٹری، اور محکمۂ پولیس کے لیے جو اب بجائے جرائم پیشہ عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے، ڈاکوئوں اور مغویوں کے مابین اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ’’بُھنگ‘‘ یا تاوان کی رقم طے کروانے کے باعث ’’ڈیل ڈپارٹمنٹ‘‘ کی بدنما اصطلاحات مروج اور زبانِ زد عام ہوچکی ہیں۔ گزشتہ چار برس سے ڈاکوئوں کے خلاف نام نہاد آپریشن پر تاحال اربوں روپے کے اخراجات کے باوصف اغوا برائے تاوان سمیت ہر قسم کی بدامنی کی سنگین جرائم کی وارداتیں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں۔ سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے بیشتر اضلاع میں عوام کی زندگی شدید بدامنی کی بنا پر اجیرن ہوکر رہ گئی ہے۔ روہڑی سکھر سے اغوا ہونے والی معصوم بچی پریا کمہاری، ٹھل جیکب آباد کی فضیلہ سرکی سمیت پولیس ڈاکوئوں کے شکنجے میں قید لگ بھگ تین درجن مغویوں کو تاحال بازیاب نہیں کروا سکی ہے۔ آئے دن سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر مغویوں پر ڈاکوئوں کی جانب سے بہیمانہ تشدد کی وڈیوز سامنے آنے کے باوجود حکومتِ سندھ اور محکمہ پولیس کے ذمہ داران بے حسی، بے حمیتی اور ڈھٹائی کے ساتھ محض خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ڈاکو اور جرائم پیشہ عناصر جو قبل ازیں بھتے کی وصولی کی خاطر لوگوں کو بذریعہ ڈاک بندوق کی گولیاں بھیجا کرتے تھے، اب ان کے گھروں میں تاوان یا بھتے کی وصولی کے لیے راکٹ لانچر جیسا خطرناک ہتھیار بھیج کر آئے دن دھمکیاں دینے میں مصروف ہیں۔ لیکن ان کی گرفت کرنے والا کوئی بھی ادارہ اپنے فرائض انجام دیتا نظر نہیں آتا۔

ضلع گھوٹکی میں اربوں روپے سے تعمیر کردہ سندھ، پنجاب موٹر وے سمیت سندھ کے روڈ اور راستے عوام کے سفر کے لیے قطعی غیر محفوظ بن کر رہ گئے ہیں، جہاں ڈاکوئوں کو ایمبولینس میں جانے والے مریضوں اور نعش لے جانے والے سوگواروں کو بھی بے شرمی کے ساتھ لوٹ لینے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا۔ لہٰذا اہلِ سندھ یہ کہنے میں صد فیصد حق بجانب ہیں کہ ہمارے صوبے میں قانون کو بھی ڈاکوئوں اور مجرموں نے افراد کے ساتھ ساتھ اغوا کررکھا ہے۔ آج سندھ ڈاکوئوں کی جنت، اور عوام کے لیے امن و امان کی بحالی محض ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ اہلِ سندھ کے دکھوں کو زبان دینے اور خصوصاً بالائی سندھ کے پانچ اضلاع میں بہت زیادہ بدامنی کے خاتمے کے لیے جماعت اسلامی سندھ مسلسل کوشاں اور سرگرم عمل ہے، اور جب سے جواں سال امیرِ صوبہ کاشف سعید شیخ اور قیم صوبہ محمد یوسف اپنے اپنے مناصب پر فائز ہوئے ہیں، انہوں نے اپنی فعال اور متحرک ٹیم کے ساتھ لگاتار بدامنی سے متاثرہ عوام کے لیے بذریعہ پُرامن احتجاج متاثرہ اضلاع کے ایس ایس پی کے دفاتر اور اہم مقامات کے سامنے احتجاجی دھرنوں سمیت بذریعہ میڈیا حکومتِ سندھ اور پولیس پر اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے جو دبائو ڈالنا شروع کیا ہے اُسے مقامی متاثرہ عوام اور میڈیا سمیت ہر طقبۂ فکر کی جانب سے پزیرائی حاصل ہورہی ہے اور بڑی تحسین کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔

بروز اتوار 16 فروری کو بھی جماعت اسلامی سندھ کی جانب سے اپنے طے کردہ پروگرام کے مطابق انڈس ہائی وے کندن ہوٹل بائی پاس شکارپور کے مقام پر بحالیِ امن کے لیے امیر صوبہ سندھ کاشف سعید شیخ کی زیر قیادت ہزاروں کارکنانِ جماعت سمیت ہر شعبۂ فکر سے وابستہ افراد نے جو احتجاجی دھرنا دیا وہ بے حد کامیابی سے ہم کنار ہوا، اور عوام سمیت میڈیا نے بھی اس کی بڑی تعریف کی ہے۔ یہ احتجاجی دھرنا جو سندھ کے بدامنی سے بری طرح متاثرہ پانچ اضلاع میں قیام امن کے لیے دیا گیا تھا صبح 11 تا شام 4 بجے تک جاری رہا، جس کی وجہ سے انڈس ہائی وے پر کراچی، پنجاب اور بلوچستان کی طرف آنے جانے والی ٹریفک کئی گھنٹوں تک معطل رہی۔ اس موقع پر دھرنے کے ہزاروں شرکا نے امن کھپے، امن کھپے، ڈاکو راج نامنظور، امن کی نگری امن چاہتی ہے، نعرہ تکبیر اللہ اکبر، میری جان جماعت اسلامی سمیت دیگر نعرے بلند آہنگ میں لگائے۔ دھرنے میں جماعت اسلامی کے متاثرہ اضلاع کے امرائے جماعت، ذمہ داران، کارکنان، عام شہریوں، مختلف دینی، سیاسی، اقلیتی، سماجی جماعتوں، کاروباری، وکلا، اساتذہ برادری اور سول سوسائٹی کے رہنمائوں اور افراد نے بھی معتدبہ تعداد میں شرکت کی۔ قبل ازیں دھرنے کو ختم کرنے کے لیے شکارپور پولیس کی بھاری نفری نے مع افسران دھاوا بول کر جماعت کے پرچم اتارنے اور متعلقہ سامان لے جانے کی مذموم کوشش بھی کی جسے قیم صوبہ امداد اللہ بجارانی، امیر ضلع شکارپور عبدالسمیع بھٹی نے کارکنان کے ساتھ مل کر ناکام بنادیا۔ اس موقع پر میڈیا اور عوام نے پولیس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجرموں کے سامنے بھیگی بلی بن جانے والی پولیس کی جانب سے پُرامن دھرنے کو سبوتاژ کرنے کا یہ فعل سخت قابلِ مذمت ہے۔ دھرنے سے دورانِ خطاب امیر صوبہ کاشف سعید شیخ نے کہا کہ اگر حکومتِ سندھ نے امن وامان کی بحالی میں سنجیدگی نہ دکھائی تو ہم رمضان المبارک کے بعد ببرلو خیرپور تا کراچی نیشنل ہائی وے بلاک اور وزیراعلیٰ ہائوس کا گھیرائو بھی کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ سندھ اور وفاقی حکومت سمیت نفاذِ امن کے ذمہ دار ادارے جلد از جلد ڈاکوئوں اور اُن کے سرپرستوں کے خلاف کارروائی کرکے مغویوں کو بازیاب کروائیں اور پی پی اپنی صفوں سے جرائم پیشہ عناصر کو نکال باہر کرے جس کا ثبوت ماضی میں بھی مل چکا ہے اور اب بھی ملتا رہتا ہے۔ پی پی گزشتہ 17 برس سے حکومت میں ہے لیکن اہلِ سندھ امن، روزگار سمیت زندگی کی ساری بنیادی سہولیات سے بالکل محروم ہیںامیر صوبہ نے کہا کہ ضلع شکارپور کے خان پور کے کچے کے علاقے ناپرکوٹ سے ڈاکوئوں نے 9 مزدوروں کو تاوان کے لیے اغوا کررکھا ہے، اسی طرح شکارپور، گھوٹکی، کشمور، کندھ کوٹ سے بھی کئی افراد ڈاکوئوں کے قبضے میں ہیں لیکن ہماری پولیس صرف بھوتاروںکو پروٹوکول دینے ہی میں مصروف ہے۔ پولیس، رینجرز، ایف سی اور پنوعاقل چھائونی ہونے کے باوجود اہلِ سندھ امن سے محروم ہیں۔ پی پی کا سندھ میں کردار منافقانہ ہے اور اُس نے غریب اور امیر کے لیے الگ الگ قانون بنا رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحالیِ امن اور مغویوں کی بازیابی تک ہماری پُرامن جدوجہد جاری رہے گی۔ امیر صوبہ نے کہا کہ ہر سال حکومتِ سندھ ہمارے 155 ارب روپے صوبے میں امن کے نام پر ضائع کردیتی ہے۔ سندھ سے مختصر وقت میں مسلمانوں کی بڑی تعداد اور ہندو برادری کے 20 ہزار مرد و خواتین بدامنی کی وجہ سے بیرون صوبہ منتقل ہوچکے ہیں جو حکومتِ سندھ کی نااہلی کی انتہا ہے، لیکن ہم اہلِ صوبہ کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

علاوہ ازیں احتجاجی دھرنے سے قیم صوبہ محمد یوسف، ملّی یکجہتی کونسل کے صدر اسداللہ بھٹو، کندھ کوٹ شہری اتحاد کے صدر ڈاکٹر مہر چند، نائب قیم صوبہ امداد اللہ بجارانی، جمعیت اتحاد العلما سندھ کے صدر علامہ حزب اللہ جکھرو، امیر ضلع جیکب آباد ابوبکر سومرو، ایس یو پی کے ڈویژنل صدر ساگر بجارانی، نائب امیر صوبہ حافظ نصراللہ عزیز چنا، علامہ مقصود ڈومکی، ممتاز منگی، زبیر سومرو، سہیل طارق، علی حسن مارفانی، مولانا فضل اللہ مارفانی، ظفر علوی، راشد لاشاری، مجاہد چنا، عادل جان شیخ، عمران منگی، مولانا صدرالدین مہر، عبدالغفور، اسداللہ سومرو، عبدالسمیع بھٹی، عبدالعزیز سومرو سمیت دیگر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا اور سندھ میں بحالیِ امن کے لیے قراردادیں بھی پیش کی گئیں۔